30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا نابینا قاضی بن سکتا ہے؟
جواب: نابینا قاضی نہیں بن سکتا۔کیونکہقاضی اُسی کو بنا سکتے ہیں جس میں شرائط شہادت پائی جائیں اور وہ یہ ہیں: مسلمان۔ عاقل۔ بالغ۔ آزاد ہو۔ اندھا نہ ہو۔ گونگا نہ ہو۔ بالکل بہرہ نہ ہو کہ کچھ نہ سنے۔ محدود فی القذف نہ ہو۔(1)
کیا نابینا کی گواہی قبول ہے؟
جواب: اندھے کی گواہی درست نہیں۔ جیسا کہ فتاوی قاضی خان میں علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ (متوفی 1252 ھ) خانیہ کے حوالے سےفرماتے ہیں ’’ و فی الخانیۃ، : ولا تقبل شھادۃ الاعمی عندنا لانہ لایقدر علی التمییز بین المدعی و المدعی علیہ و الاشارۃ الیھما ‘‘ یعنی خانیہ میں ہے : اور نابینا کی گواہی ہمارے نزدیک مقبول نہیں کیونکہ وہ مدعی اور مدعی علیہ میں فرق نہیں کر سکتا اور نہ ان کی طرف اشارہ کرسکتا ہے ۔
کسی نابینا نے چوری کی تو کیا اس پر چوری کی حد لازم ہوگی؟
جواب:نابینا چور کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے کیونکہ ہاتھ کاٹنے کے لیے چند شرطیں ہیں:
(1)چُرانے والا مکلف ہو یعنی بچہ یامجنون نہ ہو اب خواہ وہ مرد ہو یاعورت آزاد ہو یاغلام مسلمان ہو یاکافر اور اگر چوری کرتے وقت مجنون نہ تھا پھر مجنون ہو گیاتو ہاتھ نہ کاٹا جائے۔
(2) گونگا نہ ہو(3)انکھیاراہواور اگر گونگا ہے تو ہاتھ کاٹنا نہیں کہ ہو سکتا ہے اپنا مال
[1] … بہار شریعت، 2/893
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع