30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
إن شاء أخذه وإن شاء تركه ‘‘ یعنی جس نے کوئی چیز بغیر دیکھے خریدی تو دیکھنے کے بعد اس کو اختیار ہے اگر چاہے تو خریدے اور اگر چاہے تو واپس کرے ۔(1)
حکم : اس کا حکم بھی نابینا اور انکھیارا ، دونوں کے متعلق ایک ہی ہےالبتہ بائع اور مشتری کے اعتبار سے مختلف ہے ، یعنی اگر یہ افراد بائع کی حیثیت سے ہیں تو ان کو خیار ؤیت حاصل نہ ہوگا ، جیسا کہ الدر المنتقی فی شرح الملتقی میں علامہ علاء الدین حصکفی علیہ الرحمہ ( متوفی 1088 ھ ) فرماتے ہیں ’’ ولا خیار لم باع ما لم یرہ ، بان ورث عینا فباعھا لاخیار لہ بالاجماع السکوتی ‘‘ یعنی اگر کسی نے کوئی چیز بغیر دیکھے بیچ دی مثلا اس کو وراثت میں ملی اور اس نے بیچ دی تو اسکو خیار رؤیت حاصل نہ ہو گا ، ، اس مسئلے پر اجماع سکوتی ہے ۔ (2)
اور اگر مشتری کی حیثیت سے ہیں تو خیار رؤیت حاصل ہوگا ، جیسا کہ بہار شریعت میں صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نا بینا کے لیے خیار رؤیت کے احکام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ اندھے کی بیع وشرادونوں جائز ہیں اگر کسی چیز کو بیچے گا تو خیار( رؤیت ) حاصل نہ ہوگا ،اور خریدے گاتو خیار(رؤیت ) حاصل ہوگا۔(3)
نابینا کا خیار رؤیت ان صورتوں میں ساقط ہوتا ہے، بہار شریعت میں صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ( متوفی 1367 ھ ) فرماتے ہیں ’’(نابینا کا ) مبیع کو اُلٹ پلٹ کر ٹٹولنا دیکھنے کے حکم میں ہے کہ ٹٹول لیا اورپسند کرلیا تو خیار ساقط ہوگیا اور کھانے کی چیز کا چکھنا اور سونگھنے کی چیز کا سونگھنا کافی ہے اور جو چیز نہ ٹٹولنے سے معلوم ہونہ چکھنے
[1] … النہر الفائق ، 3 / 380
[2] … الدر المنتقی مع مجمع الانہر ، 3 / 52
[3] … بہار شریعت ، 2 / 671 ،حصہ 11
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع