30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
1۔خیار شرط: اس کی تعریف ، بائع ، یا مشتری یا دونوں میں سے ہر ایک اپنے لئے اختیار رکھے کہ اگر مجھے بیع منظور نہ ہوئی تو عقد باقی نہیں رہے گا ، جیسا کہ بہار شریعت میں صدر الشریعہ علیہ الرحمہ (متوفی 1367 ھ) فرماتے ہیں ’’با ئع ومشتری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قطعی طورپر بیع نہ کریں بلکہ عقد میں یہ شرط کردیں کہ اگر منظور نہ ہواتو بیع باقی نہ رہے گی اسے خیار شرط کہتے ہیں۔
حکم : اس میں نابینا و غیر نابینا ، سب کا حکم یکسا ہے اگر ، عقد میں اس کی شرط رکھیں گے تو خیار شرط حاصل ہوگا ورنہ یہ خیار کسی کو حاصل نہ ہوگا ۔ جیسا کہ بائع ومشتری کے حوالے سےاوپر بیان ہوا، نابینا اور غیر ِنابینا کے متعلق ، در مختار میں علامہ علاء الدین حصکفی علیہ الرحمہ ( متوفی 1088 ھ ) فرماتے ہیں ’’ صح عقد الاعمی و لو لغیرہ وھو کالبصیر الا فی اثنتی عشرۃ مسئلۃ مذکروۃ فی الاشباۃ ( و لیس ھذا منھن ) یہ میرے الفاظ ہیں ’’ ترجمہ : نابینا کا خرید و فروخت کرنا درست ہے اگرچہ کسی اور کے لیے کرے ، اور وہ انکھیارے کی طرح ہے سوائےچودا ( 14 ) مسائل کےجو اشباہ و نظائر میں ذکر کیے گئے ہیں ، (اور خیار شرط ان مسائل میں سے نہیں جس میں اس کا الگ حکم ہو )۔(1)
خیار رؤیت ۔ تعریف : بغیر دیکھے کوئی چیز خرید لی بعد وہ چیز پسند نہ آئی تو شریعت مطہرہ نے مشتری کو اختیار دیا ہے کہ وہ چیز واپس کرے اس کو خیار رؤیت کہتے ہیں ۔ جیسا کہ نہر الفائق میں علامہ عمر بن نجیم مصری علیہ الرحمہ ( متوفی 1005 ھ ) حدیث پاک نقل فرماتے ہیں ’’ ( من اشترى شيئا لم يره فله الخيار إذا رآه
[1] … در مختار مع رد المحتار ، 7 / 319
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع