30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقبول کافی ہے۔(1)
کیا نابینا ہونا نکاح میں کفو کے منافی ہے؟
جواب:نابینا ہونا کفو ہونے کے منافی نہیں کیونکہ کفو میں امراض و عیوب کا اعتبار نہیں ہوتا۔ کفو میں ان چیزوں کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ (1)نَسَب (خاندان) (2)اسلام (3)حِرفہ(پیشہ)(4) حُرِّیَّت (آزاد ہونا)(5) دِیانت (دینداری) (6)مال۔
بہار شریعت میں صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ( متوفی 1367 ھ ) فرماتے ہیں ’’(کفو میں ) امراض و عیوب مثلاً جذام، جنون، برص، گندہ دہنی وغیرہا کا اعتبار نہیں۔(2)
بلکہ نابینا کے بارے میں صراحت کے ساتھ فتاوی ہندیہ میں ہے ’’ الوکیل بالنکاح من المراۃ اذا زوجھا ممن لیس بکفو لھا قال بعضھم لایصح علی قول الکل وھو الصحیح وان کن کفؤأ الا انہ الاعمی او مقعد او صبیا ، او معتوہ فھو الجائز ‘‘ یعنی عورت کی طرف سے جووکیل تھا اس نے عورت کا نکاح غیر کفو میں کردیا توبعض نے کہا یہ نکاح تمام کے نزدیک نہ ہوا ، اور یہ ہی صحیح ہے اور اگر وہ کفو تو تھا لیکن نابینا ، اپاہج ، بچہ یا معتو تھا تو نکاح درست ہے ۔(3)
کیا نابینا کی خریدوفروخت صحیح ہے اور اسے کیا بیع میں خیار حاصل ہوگا؟
جواب:نابینا کی خریدوفروخت درست ہے البتہ خیار کی مختلف اقسام اور اس کے لحاظ سے حکم ہے ۔ خیار کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں :
[1] … فتاوی رضویہ،11/188
[2] … بہار شریعت ، 2 /56
[3] … فتا ویٰ ہندیۃ،1/325
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع