30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چنانچہ بہارشریعت میں مذکور ہے: "عورت کوبھی متولی کرسکتے ہيں اور نابینا کو بھی اور محدودفی القذف نے توبہ کرلی ہوتو اسے بھی۔"(1)
کیا نابینا شخص کسی کا نکاح پڑھا سکتا ہے ؟
جواب: نابینا نکاح پڑھا سکتا ہے ، نکاح خواں کے لیے مستحب ہے کہ رشید یعنی علم و عمل کا پیکر ہو ، جیسا کہ در مختار میں علامہ علاء الدین حصکفی علیہ الرحمہ ( متوفی 1088 ھ ) فرماتے ہیں ’’ ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد ‘‘ یعنی نکاح کا اعلان، اس سے پہلے خطبہ مسجد میں ہونا ، جمعہ کا دن ہونا اور نکاح کرنے والے کا صاحب رشد یعنی صاحب علم وعمل کا پیکر ہونا مستحب ہے۔ لہذا اگر نکاح میں موجود تمام لوگوں میں نابینا ہی زیادہ علم وفضل والا ہے تو نکاح پڑھانے کے لیے اسے آگے کرنا افضل ہے ، جیسا کہ ، فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ( متوفی 1340 ھ )ایک کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’بلاشبہہ پڑھا سکتاہے کہ نکاح پڑھانے میں آنکھوں کا کیا کام، بلکہ جب وہ عالم ہے تو وہی انسب و اولیٰ، خود گواہانِ نکاح جن کے بغیر نکاح اصلاً صحیح نہیں اگر نابینا ہوں کچھ مضائقہ نہیں، کمانص علیہ فی المتون کالکنز والوقایۃ والاصلاح والمختار والہدایۃ والملتقی والتنویر وغیرھا ۔ جیسا کہ کنز، وقایہ، اصلاح، مختار، ہدایہ، ملتقی اور تنویر وغیرہ متون میں اس پر تصریح موجود ہے۔(2) تونکاح پڑھانے والے کی بینائی کیا ضرورکہ وہ خود ہی نکاح کے لیے ضروری نہیں، عاقدین کا آپ ایجاب
[1] … بہارشریعت، 2/ 576
[2] … درمختار شرح تنویر الابصار، کتاب النکاح ، 4/75 تا 76
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع