30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُس کا نفقہ باپ پر ہے۔ اور لڑکی جبکہ مال نہ رکھتی ہوتواُس کانفقہ بہرحال باپ پرہےاگرچہ اُس کے اعضا سلامت ہوں۔(1) ہاں اگر نابینا خود کماتا ہو تو ایسی صورت میں اس کا نفقہ کسی پر لازم نہیں ۔ " یوہیں اندھا وغیرہ بھی کماتا ہو تو اب کسی اور پر نفقہ فرض نہیں۔(2)
کیا نابینا مسجد کا متولی ہوسکتا ہے؟
جواب:نابینا مسجد کا متولی بن سکتا ہے، یہاں متولی سے مراد وہ شخص جو وقف پر امین ہو اور وقف کے کام کرنے پر قادر ہو چاہے وہ کام خود کرے یا اپنے نائب سے کروائے لہٰذا نابینا بھی مسجد وغیرہ کا یا کسی وقف والی چیز کا متولی بن سکتا ہے کیونکہ وہ نائب سے کام کرانے پر قادر ہے ۔
جیسا کہ فتاوی شامی میں علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فر ماتے ہیں ’’ ولا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولاية مقيدة بشرط النظر وكذا الأعمى والبصير وكذا المحدود في قذف إذا تاب لأنه أمين ‘‘ترجمہ : متولی نہیں بنایا جائے گا مگر اس کو جو امانتدار ہو ، وقف کے کام کرنے پر قادر ہو چاہے خود کرے یا اپنے نائب سے کروائے کیونکہ تولیت شفقت کی شرط سے مقید ہے ، اسی طرح نابینا ، انکھیارے ، اور محدود فی القذف کو بھی متولی بناسکتے ہیں جبکہ اس نے توبہ کر لی ہو کیونکہ وہ بھی امین ہیں۔(3)
[1] … بہار شریعت، 2/ 273
[2] … بہارشریعت، 2/ 278
[3] … رد المحتار ، 6 / 584
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع