30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگوں کی امامت کرانے کے لیے مدینے میں چھوڑا حالانکہ آپ نابینا تھے ۔ (1)
عہد رسالت میں مختلف نابینا صحابہ کرام نے امامت کی ہے جن میں عبد اللہ بن ام مکتوم، عتبان بن مالک اور عبد اللہ بن عمیر خطمی رضی اللہ عنہم وغیرہ سر فہرست ہیں اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور موجود ہو جو اس سے علم میں زیادہ یا علم میں برابر ہو تو نابینا کی امامت مکروہ تنزیہی ہے۔
افادات امام احمد رضا میں اعلی حضرت سے منقول مسئلہ لکھا ہے ’’ تجوز الصلاۃ خلف الاعمی و لکنہ خلاف اولی ای الکراھۃ تنزیھا ان کا غیرہ اعلم او مساویا فی العلم موجودا والا فالاعمی ھو الاولی ‘‘ نابینا کے پیچھے نماز جائز ہے لیکن خلاف اولی یعنی مکروہ تنزیہی ہے جبکہ اس کے علاوہ کوئی اور موجود ہو جو اس سے علم میں زیادہ یا علم میں برابر ہو ورنہ اندھے ہی کی امامت اولی ہے۔(2)
دُرمختار میں ہے: یکرہ تنزیھا امامۃ اعمی الا ان یکون اعلم القوم فھواولٰی اھ ۱؎ نابینے شخص کی امامت مکروہ تنزیہی ہے البتہ اس صورت میں اس کی امامت اولٰی ہوگی جب وہ دوسروں سے زیادہ صاحب علم ہو ۔ (3)
کیا نابینا کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟
جواب: نابینا اگر شرعی فقیر ہے تو اسے زکوٰۃ دے سکتے ہیں ورنہ نہیں۔
نابینا اولاد کا نفقہ کس پر لازم ہے ؟
جواب: بالغ بیٹا اگر اپاہج یا مجنون یا نابینا ہو کمانے سے عاجز ہو اور اُس کے پاس مال نہ ہو تو
[1] … تفسیر قرطبی ، 2 /40
[2] … نور الایضاح و مراقی الفلاح ، مع افادات الامام احمد رضا ، ص241
[3] … فتاویٰ رضویہ،6/130
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع