30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب دوبارہ حج فرض نہ ہوگا وہی پہلا حج کافی ہے۔(1)
سفر میں نابینا کے لئے نیت کا اعتبار کیسے ہوگا؟
جواب: اندھے کے ساتھ کوئی پکڑ کر لے جانے والا ہے اگر یہ اس کا نوکر ہے تو نابینا کی اپنی نیت کا اعتبار ہے اور اگر محض احسان کے طور پر اس کے ساتھ ہے تو اس کی نیت کا اعتبار ہے۔(2)
: کیا نابینا اذان دے سکتا ہے؟
جواب:اگر مؤذن نابینا ہو، اوروقت بتانے والا کوئی ایسا ہے کہ صحیح بتا دے، تو اس کا اور آنکھ والے کا، اَذان کہنا یکساں ہے۔ (3)
کیا نابینا امامت کرسکتا ہے؟
جواب:جی ہاں، اگر وہ ہی اعلم ، وافضل ہے تو بناسکتے ہیں ، جیسا کہ شمس الدین محمد بن احمد قرطبی علیہ الرحمہ ( متوفی 671 ھ ) فرماتے ہیں ’’ ولا بأس بإمامة الأعمی وهو الصحيح لأنه عضو لا يمنع فقده فرضا من فروض الصلاة فجازت الإمامة الراتبة مع فقده كالعين وقد روى أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم استخلف ابن أم مكتوم يؤم الناس وهو أعمى ‘‘ ترجمہ : نابینا کی امامت میں کوئی حرج نہیں اور یہ ہی قول صحیح ہے کیونکہ کسی عضو کا نہ ہونا نماز کے فرائض میں کسی فرض کو نہیں روکتا لہٰذا کسی عضو کے نہ ہونے کے باوجود امام راتب بننا درست ہے اور حضرت انس رضی ا للہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو
[1] … بہارشریعت،6/1039
[2] … بہارشریعت،4/746
[3] … بہارشریعت ،3/467
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع