30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے بوجہ عجز ومجبوری کرائے اس حج کی صحت کے لیے شرط ہے کہ وُہ مجبوری آخر عمر تک مستمررہے، اگر حج کے بعد مجبوری جاتی رہی اور بذاتِ خود حج کرنے پر قدرت پائی تو اس سے پہلے جتنے حجِ بدل اپنی طرف سے کرائے ہوں سب ساقط ہوگئے حج نفل کا ثواب رہ گیا فرض ادا نہ ہوا، اب اس پر فرض ہے کہ خود حج کرے پھر اگر غفلت کی اور وقت گزر گیا اور اب دوبارہ مجبوری لاحق ہوئی تو اَزسرِ نَوحج بدل کرانا ضرور ہے، ہاں اگر کسی کی معذوری ایسی ہوجو عادۃً اصلاً زوال پذیر نہیں اور اس نے حجِ بدل کرلیا اور اس کے بعد بمحض قدرتِ الٰہی مثلاً کسی ولی کی کرامت سے وہ عذرِ نا قابل الزوال زائل ہوگیا مثلاً اندھے نے حجِ بدل کرایا تھا پھر رب العزۃ نے اسے آنکھیں دے دیں تو اس کا وہ حج بدل ساقط نہ ہوا وہی کافی ہے، خود اگر حج کرے سعادت ہے ورنہ فرض ادا ہوگیا، ایسا زوالِ عذر کہ کرامت خرق عادت ہو ،معتبر نہیں۔ (1)
حج کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ تندرست ہو ، حج کی شرائط کے متعلق بہار شریعت میں ہے:’’تندرست ہو‘‘ کہ حج کو جاسکے، اعضا سلامت ہوں، اَنکھیارا ہو، اپاہج اور فالج والے اور جس کے پاؤں کٹے ہوں اور بوڑھے پر کہ سواری پر خود نہ بیٹھ سکتا ہو حج فرض نہیں۔ یوہیں اندھے پر بھی واجب نہیں اگرچہ ہاتھ پکڑکر لے چلنے والااُسے ملے۔ اِن سب پر یہ بھی واجب نہیں کہ کسی کوبھیج کر اپنی طرف سے حج کرا دیں یا وصیت کر جائیں اور اگر تکلیف اُٹھا کر حج کرلیا تو صحیح ہو گیا اور حجۃالاسلام ادا ہوا یعنی اس کے بعد اگر اعضا درست ہوگئے تو
[1] … فتاویٰ رضویہ،10/ 661
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع