30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا نابینا پر عید واجب ہے؟
جواب: اگروہ بلاتکلف مسجد جاسکتا ہو تونابینا پر عید واجب ہے ورنہ لازم نہیں ۔نماز عید لازم ہونے کے بارے میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نماز عید شہروں میں ہر مرد آزاد، تندرست، عاقل ، بالغ، قادر پر واجب ہے ، قادر کے یہ معنی کہ نہ اندھا ہو ،نہ لولا ہو، نہ لُنجھا، نہ قیدی، نہ کسی ایسے مریض کا تیماردار ہو کہ یہ اُسے چھوڑ کر گھر سے جائے تو مریض ضائع رہ جائے، نہ ایسا بوڑھا کہ چل پھرنہ سکے، نہ اُسے نماز کو جانے میں حاکم یا چور یا دُشمن کی طرف سے جان یا مال یا عزت کا سچا خوف ہو، نہ اس وقت مینہ یا برف یا کیچڑ یا سردی ا س قدر شدت سے ہو کہ نماز کو جانا سخت مشقت کا موجب ہو، فی التنویر :تجب صلٰوتھما ای العیدین علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا سوی الخطبۃ ۔(1)
بہارشریعت میں ہے: عیدین کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ اُنہيں پر جن پر جمعہ واجب ہے۔" (2)اور جمعہ نابینا پر تب فرض ہے جب وہ بلاتکلف مسجد جاسکتا ہو تو عیدین بھی اُسی طرح ہے۔
کیا نابینا پر حج لازم ہے؟
جواب: نابینا پر نہ خود حج کرنا فرض ہے اور نہ کسی اور کو حجِّ بدل کے لئے بھیجنا فرض ہے لیکن پھر بھی اگر کسی نابینا نے حج بدل کروالیا تواس کا حج بدل کافی ہے۔ فتاوی رضویہ میں اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:زندگی میں جو کوئی حجِ بدل اپنی طرف
[1] … فتاویٰ رضویہ،8/129
[2] … بہارشریعت ،4/779
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع