دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Naat Khwanon Kay Liye Kaam Ki Baatein | نعت خوانوں کیلئے کام کی باتیں

Logon Ko Ulama Ki Pehchan Nahi Hoti

book_icon
نعت خوانوں کیلئے کام کی باتیں

لوگوں کو عُلَما کی پہچان نہیں ہوتی

سُوال:کیا  ایسا نہیں کہ جو چیزیں  جمعہ میں یا  گھروں میں زىادہ بىان  کی جاتی ہیں،اُن کے بارے میں لوگوں کو زیادہ  معلومات ہوتی ہے ؟    
جواب:پُرانی بات ہے کہ  میں نے  اىک باشرع  نعت خواں  کى وىڈىو دىکھى تھى۔  جب اُن پر گلاب کے پھول ڈالے گئے  تو انہوں نے  یہ فتوىٰ دے دىا کہ اِس طرح  گلاب کے پھول ڈالنا  گناہ ہے۔ اُن کی آواز   بہت پیاری تھی   لیکن انہوں نے  مسئلہ غَلَط بتا دیا ۔ بعد مىں مجھے  پتا چلا کہ وہ نعت خواں فوت   شُدہ ہیں،اللہ پاک   اُن کی مغفرت فرمائے ۔  عام طور پر لوگوں کو عُلَما کی پہچان  نہیں ہوتی، یہ  اسٹیج  پر  بے دھڑک بولنے والے   ہر داڑھی والے  کو بہت بڑی علمی شخصیت سمجھ رہے ہوتے  ہیں حالانکہ ہر  زور دار بیان کرنے  والا علمى شخصىت ہو یہ  ضَروری نہیں۔ عِلم  رکھنے والے مَدارس   مىں ملیں  گے  جو  کمرے  کے ایک  کونے مىں سر  جھکا کر فتوىٰ لکھ رہے ہوتے ہىں،  ىہ علمى شخصىت ہوتے ہىں لیکن    لوگ  اُسے  علمی  شخصیت  سمجھتے ہىں جو اسٹىج کا مقرر  ہو،جس کی آواز اچھی ہو،اچھا بولتا  ہو ،حکاىات  سناتا  ہو  جس پر لوگ نعرے لگاتے   ہوں  اور   مزے کو مزہ آجاتا ہو  ایسے مقررین  سے مَسائل پوچھ کر انہیں  آزمائش مىں نہیں  ڈالنا چاہىے۔       

سنی عالم ِ دِین سے ہی مسئلہ پوچھنا چاہیے

مىں اىک جرنل  بات کر رہا ہوں ،ہر اىک کى بات نہىں کر رہا، یہ مىرى فىلڈ ہے اِس لئے  مجھے پتا ہے کہ جلسوں   مىں  مقررین  خطاب کرتے کرتے بعض اوقات مَسائل بھی  بىان کر دیتے  ہىں۔ ایسوں کے کلپ بھى میں نے  سنے ہىں  جو   قابلِ رحم ہوتے ہىں ۔ بس وہ  دُرُست غَلَط  بول رہے ہوتے ہىں  ،پھر ان تک رسائی  مشکل ہوتی ہے ۔ اِس لئے  مىرا مشورہ ہے کسی سنی عاشقِ رَسُول مفتی سے ہی    مسئلہ دَرىافت کریں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دارُالافتا اہل ِ سنَّت بھی  ہمارى راہ نمائی کے لىے موجود ہے اور   اس کے نمبر بھى وقتا ًفوقتاً مدنی چینل کی اسکرین   پر چلتے رہتے ہیں ۔ ہر اىک سے مسئلہ پوچھنے  سے  سامنے والا آزمائش میں آجاتا ہے،بے چارہ  بتا بھی  دیتا ہو گا  مگر بعض اوقات اُس میں بولنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔ یاد رَکھیے! ہر مقرر غَلَط مَسائل بیان  کرتا ہو یہ ضَروری نہیں، بعض اىسے مقرر بھى ہوتے ہوں گے جو اچھا   بیان کرنے کے ساتھ ساتھ علمی اِعتبار  سے  بھی اچھے ہوتے ہوں گے۔  بہرحال  ہر ایک کی اپنی اپنی فیلڈ ہوتی ہے ۔  مفتیان ِکِرام کی فىلڈ فقہ  ہوتی  ہے اِس لئے مفتیانِ کِرام جتنا بہتر   فقہ  کے مَسائل بتاسکیں گے   اتنا  کوئی دوسرا     نہیں  بتا سکے گا۔  ىہ قدرتى عطا اور مفتیانِ کِرام کى بَرسوں کی  محنت ہوتى ہے ۔   کوئى  ماہر اِنجىنئر ہو اور  وہ  مشىنوں کے کَل پُرزے اِشارے سے جوڑ دىتا ہو،  اب کسى کے گھٹنے کى ہڈى ہٹ  جائے  اور   وہ  یہ سوچ کر  اُس ماہر  انجىنئر کے پاس جائے کہ   وہ  مشىن کے کَل پُرزے بڑی آسانى سے بٹھا دیتا ہے لہٰذا  مىرا بھى کَل پُرزہ ہى ہے وہ اسے بھی  اپنی مہارت سے ٹھیک   کر دے گا ،اب اگر انجىنئر نے  گھٹنے کى ہڈى  بٹھانے کی کوشش کی تو چىخوں کى رىکارڈنگ سوشل مىڈىا پر ہی  چلے گى کیونکہ یہ اُس کی فیلڈ نہیں ہے ۔ اِس لىے مَسائل بتانا اُن عُلَما کا کام ہے جو فقہ  مىں ماہر ہیں   اور مفتىانِ کِرام  تو ہوتے ہی  ماہر  ہیں کہ    مَسائل  بتانا  ہی ان کا کام ہوتا ہے ۔    

میری فقہى مَسائل کی فیلڈ ہے

سُوال: جس طبقے کو آپ سنانا چاہ رہے ہیں  اللہ پاک کرے وہ سُن لے ۔ آپ کی باتیں سُن کر جو  منفی باتیں کرتے ہیں  اُن کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟  (نگران ِ شوریٰ کا سوال)   
جواب: میری یہ باتیں اگر کوئى  انہیں بتائے گا  کہ ”الیاس نے  یہ کہا ہے“ تو کہیں گے  کہ  خود مفتی نہیں ہیں  مگر لوگوں کو  مَسائل بتارہے ہوتے ہیں۔ یہ  بات صحىح ہے کہ مىں مفتى نہىں ہوں مگر میرے  پاس مفتىانِ کِرام بیٹھے ہوتے ہیں،اگرچہ یہ  سب  مفتىان ِ کِرام میرے بچے ہیں اور ان کی پىدائش سے بھی  پہلے کی میری  فقہى مَسائل   کی فىلڈ ہے۔  کسى دور مىں میرا بہت مُطالعہ   ہوتا تھا  اور  اِ س وقت بھی   اَلْحَمْدُ لِلّٰہ میری ہزاروں صفحات  پر مشتمل  کتابىں چھپى ہوئى ہىں ۔ غور کریں کہ مىں نے  انہیں لکھنے  کے لئے کتنا پڑھا ہو گا اور کتنی بار پڑھا ہو گا؟ البتہ ہر اىک کا اپنا اپنا حافظہ ہوتا ہے۔’’ لِکُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ یعنی   ہر فن کے ماہرین ہوتے ہىں۔‘‘ مفتى اِس فن کا ماہر ہوتا ہے  اور اس نے باقاعدہ عِلم حاصل کىا ہوتا ہے۔  مىرا اپنا تجربہ ہے، مَسائل  کے حوالے سے   میں نے بہت کوشش کى ہوئى ہے،عُلَما  کى جوتىاں اُٹھائى ہىں اور ان سے پوچھ پوچھ کر  مَسائل سىکھے ہىں،فتاوىٰ رضوىہ اور بہارِ شریعت کی وَرق گردانى کى ہے۔یوں ہاتھ پىر مار کر مىں نے  دو چار مَسائل سىکھ لىے ہىں،اِس لئے مىرى مخالفت کرنے کے بجائے اپنى آخرت کى فکر کیجئے۔ پھر بھی  جب   مجھ سے کوئى غلطى ہوتى ہے تو مىں اس سے رُجوع کر لىتا ہوں۔  مىرى تارىخ دىکھ لىں آپ کو  کہیں بھی یہ بات   نہیں ملے گی  کہ غَلَط مسئلے پر   جان بوجھ کر کسی سے   اُلجھ گىا ہوں۔  اِنْ شَآءَ اللّٰہ آپ  کوئی اىسى حکاىت نہىں سنىں گے  کہ فلاں نے  غلطی بتائی ہو اور میرا اس سے جھگڑا ہوگیا  ہو ۔   

سب سے پہلے سفید لباس پہننے کا مشورہ دینے والے

سُوال:آپ کى شفقتىں ہمىشہ مىرے ساتھ رہى ہىں، جب بھى مىں بىمار ہوتا آپ بڑى کرم نوازى فرماتے  اور مىرے گھر آتے ۔ اگر اَسپتال مىں  Admit  ہوتا اور آپ مدنی قافلے میں  ہوتے  تو قافلے سے واپسی پر   اگرچہ کافی رات ہو چکی ہوتی  آپ  اَسپتال میں مجھ سے ملنے تشریف لاتے اور   کافی دیر تک میرے پاس  ٹھہرتے،آپ کھانے کا  ٹفن بھی اپنے ساتھ لاتے اور   میرے ساتھ ہی کھانا تناول فرماتے۔ اَلغرض! ہمىشہ سے  آپ کى مجھ پر اور میرے اہلِ خانہ پر بڑى کرم نوازى اور شفقت  رہی ہے۔جب مىں حج پر جا رہا تھا اُس وقت بھی آپ  نے کرم فرمایا اور  مجھے اللہ  حافظ   کہنے  کے لىے سفىنہ حجاز   میں آئے، یہ  آپ کى مجھ پر  نوازش تھی،اللہ پاک  میرا وہ حج قبول فرمائے۔آپ میری  دکان پر بھی  تشریف لاتے  اور جب روزے کی حالت میں ہوتے تو میری دکان کے پیچھے بنے  ہوئے ائیر کنڈیشن  کمرے  میں کچھ  دیر آرام بھی فرما لیا کرتے۔ میرے والد صاحب  پر بھی آپ  نے  خصوصی کرم نوازى  فرمائی  کہ جب      ان کا  اِنتقال ہوا تو آپ نے  مجھے فون کیا اور  فرمایا کہ  مىں 10بجے آؤں گا اور اِنْ شَآءَ اللّٰہ   جنازہ بھی  پڑھاؤں گا۔ پھر آپ تشرىف لائے اور مجھ سے  اِجازت لے کر  مىرے والد صاحب کا جنازہ پڑھایا اور  انہیں کندھا  بھی دیا۔   پھر کسی کام کی وجہ سے مجھ سے اِجازت لے کر تشریف لے گئے۔    (محمد اِسحاق عطارى سومرو)
باتىں مىرے مُرشد کى                   ىادىں مىرے مُرشد کى
جواب: مَاشَآءَ اللّٰہ ! یہ حاجی اِسحاق  ہیں اور دعوتِ اسلامى کی اِبتدا سے ہمارے ساتھ ہیں،انہوں نے ہی  سب سے پہلے سفید لباس  اپنانے کا  مشورہ دیا تھا  کہ  اگر  ہم سب سفىد لباس پہننا  شروع کر دیں تو بہت اچھا لگے گا، اس کے بعد میں نے اسلامى بھائىوں کو سفىد لباس  پہننے  کى تَرغىب دِلائی  ۔  چنانچہ   اس وقت    سے ہم نے سفىد لباس پہننا    شروع کر دیا  اور پھر آہستہ آہستہ  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  سفىد لباس عام   ہوتا چلا گیا ۔ حاجی اِسحاق  جب بیمار ہوتے تو میں  ان کے عیادت کے لئے ان کے گھر پر بھى جاتا اور جب  اَسپتال  میں داخل    ہوتے تو  کرایہ نہ ہونے  کی وجہ سے  روزانہ پىدل مارچ کر کے صدر میں  واقع  اَسپتال  میں بھی ان سے ملنے  جاتا اور پھر وہاں سے پیدل ہی  شہىد مسجد جاتا۔ میری اور حاجی اِسحاق کی بہت گہرى دوستى تھی،اب بےچارے  کافی بىمار ہىں،اللہ پاک  انہیں  شِفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے، ان کے گھرانے کو سَلامت،عافىت اور   خوشحالی سے مالا مال فرمائے ۔      اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

کتنے دِن تک مٹی کے بَرتن اِستعمال کر سکتے ہیں ؟

سُوال: مٹى کے  برتن مثلاًپیالے   وغیرہ   کو   کتنے دِن اِستعمال کر  سکتے ہىں؟  
جواب:مٹى کے  بَرتن اِستعمال  کرنے  کی کوئی  مُدَّت فکس نہىں،البتہ جب   بہت زیاہ  میلے ہو جائیں  تو انہیں اِستعمال کرنا  ترک  کر دیا جائے ۔ بعض لوگ    مٹی کے  برتن  صرف اُس وقت اِستعمال کرتے ہیں جب کوئی  ہم جیسا مہمان  ان کے گھر  پر جاتا  ہے   تو وہ  یہ دِکھانے کے لئے کہ ہمارے گھر میں  مٹی کے بَرتن اِستعمال ہوتے  ہیں،  وہ  رکھے  ہوئے برتن   کھانے پینے کے لئے پیش کرتے ہیں۔ جو مٹی کے برتن کبھی کبھار اِستعمال ہوتے ہیں وہ برسوں تک چل سکتے ہیں اور جو دِن میں بار بار اِستعمال ہوتے ہیں  وہ    اسی اِعتبار سے چلیں گے ۔     

مٹی کے پُرانے بَرتن ضائع نہ کریں

سُوال: کیا مٹی کے پُرانے برتن ضائع  کر سکتے ہیں ؟   
جواب:اگر  مٹی کے برتن  اتنے پُرانے ہو گئے ہیں  کہ  جہاں سے اِستعمال کرتے ہیں  وہاں سے  جَھڑ  رہے ہیں یا اِس قدر میلے ہو گئے ہیں کہ  گرم چائے وغىرہ ڈالنے سے  ان  کا  میل    بھی چائے  میں شامل ہو جاتا ہے تو اب  ایسے برتنوں  کو  کھانے پینے میں  اِستعمال  کرنے کے بجائے   ان  میں  خشک چىزىں مثلاً پھل، ڈرائى فروٹ  وغیرہ  چیزیں رکھ لیں ،بِلاضَرورت انہیں   پھىنک کر ضائع نہ کریں ۔   

مَرد و عورت کے وُضو میں فرق

سُوال: کىا مَرد اور عورت دونوں کے وُضو  کا ایک ہی طرىقہ ہے؟نیز  آپ  نے جو  وىڈىو میں  وُضو کا پرىکٹیکل  کرکے دِکھایا ہے   وہ طرىقہ صرف مَردوں کے لىے ہے ىا عورتوں کے لىے بھى ہے ؟   
جواب:عورتوں نے انگوٹھى   یا چوڑىاں پہنى  ہوئی ہیں یا مَرد نے انگوٹھى پہنى ہے اگر یہ ڈھیلی  نہیں ہیں تو  انہیں  ہٹا کر  یا ہِلاجُلا کر  کسی بھی طرح  ان کے نیچے پانی  بہانا  فرض ہے   ( )  اور اگر ڈھیلی ہیں  تو پانی خود ہی نیچے چلا جائے گا۔ (اِس موقع پر مفتی صاحب نے   فرمایا :) جو وُضو کے  فرائض مَرد  کے لئے ہیں وہی  عورت کے لئے بھی  ہیں،صرف سنَّت کے اِعتبار سے  بعض چیزوں میں فرق ہے جىسے داڑھى مىں خلا ل کرنا اور  جس طرح  مَردوں کے لئے  مِسواک  کرنا سنَّت ہے اس اَنداز سے مِسواک کرنا عورتوں کے لئے نہیں ۔ ( )  اِسى طرح  عورتوں کی ناک میں جو  نتھ  ہوتی ہے اسے ہلا کر پانی  بہایا جائے گا،اگر  نتھ نہیں صرف سوراخ ہے    تب  بھی  اس میں پانی بہایا جائے گا ۔ ( )   چند باتوں کا مَرد و عورت کے وُضو  میں فرق ہے باقی  طریقہ ایک جیسا ہی ہے ۔      

دَورانِ وُضو ناک میں پانى چڑھانا سنَّتِ مؤ کدہ ہے

سُوال: نماز   میں خىال آىا کہ وُضو کرتے ہوئے پتا نہىں  ناک مىں پانى ڈالا تھا  ىا نہىں اب کىا کرىں؟(نگرانِ شورىٰ کا سوال)
جواب:وُضو  کرتے ہوئے  ناک مىں پانى چڑھانا سنَّتِ مؤ کدہ ہے۔( )    ناک میں پانی نہیں  چڑھا یا  تو وُضو  ہو جائے گا  اور  نماز  پڑھتے ہوئے ناک میں پانی  نہ ڈالنے کا خیال آیا تب بھی نماز   ہو جائے گی۔  ہاں   اگر  ظَنِّ غالب   ہے  تو نماز  کے بعد ناک میں پانی چڑھا لے لیکن  اِس کی وجہ  سے نماز  نہیں  توڑ سکتا ۔     

چُرائی ہوئی چیزمالک تک کیسے پہنچائی جائے؟

سُوال:اگر  کسی   نے کوئی چیز چوری   کی اور  اب  اسے  واپس کرنا  چاہتا ہے تو وہ چیز مالک تک کیسے پہنچائے ؟    
 جواب:ایسی صورت میں کسی ایسے شخص  کو  تلاش کیا جائے  جو اس چیز کو مالک تک پہنچا دے۔فون  کے ذَریعے بھى Contact   ( رابطہ )  کر کے   مالک کو  بتایا  جاسکتا ہے کہ   آپ کی  فلاں چىز  میرے پاس ہے۔ اگر چور اپنى عزت بچانے کے لئے  مالک کے  سامنے    اپنے آپ کو ظاہر  نہیں کرنا چاہتا   تو  اپنے  کسی دوست کو   اس کے پاس بھىج دے  جو اسے جا کر  کہہ دے کہ یہ  تمہارى چىز کسى نے چُرائى تھى ،اب   وہ شرمندہ ہے اور آپ کے سامنے  آنے کی اُس میں ہمت نہیں ہے،اِس لئے  اُس نے  میرے ذَرىعے آپ کی چیز  بھجوائى  ہے۔ اُس نے  آپ سے مُعافى  بھی مانگی ہے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ بھی  کى ہے۔ اِس طرح کرنے سے  ہو سکتا ہے کہ   وہ  نہ صرف  مُعاف  کر دے بلکہ وہ چیز بھی اسے  گفٹ میں دے دے ۔ جس کی چیز  چوری ہوتی  ہے  اسے بہت اَذِیت  ہوتی ہے لہٰذا چوری کرنے والا  اُس سے مُعافی مانگے، اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ کرے اور وہ چیز  بھی  مالک کو واپس  دے۔  

چُرایا ہوا مال ضائع یا ختم ہو جائے تو چور کیا کرے ؟

سُوال: کسی نے  مال  چُرایا  اور وہ ضائع یا ختم ہو گیا ،اب اُسے اِحساس  ہوا کہ مىں نے چوری کر کے  غلطى کی ہے لہٰذا مجھے یہ مال واپس کرنا چاہیے لیکن  اب  اُس کے پاس    واپس کرنے کے لئے  مال وغیرہ کوئی چیز نہیں  ہے۔  ایسی صورت میں اُسے کیا کرنا چاہیے  جس سے  چوری کے گناہ سے خلاصی  ہو جائے  ؟  
جواب:اللہ پاک کی بارگاہ میں  سچى توبہ کرے   اور اپنا دِل بڑا   رکھتے ہوئے   جس کی چیز چُرائی ہے   اُس سے مُعافى مانگنے کے ساتھ ساتھ  اُسے یہ بھی  بتا دے کہ مىں نے  آپ کی چیز چُرا کر  غلطى کى ہے  اور  اگر دِل میں چُرائی ہوئی چیز واپس کرنے کی  نیت ہے تو   اُس کے سامنے  اپنی نیت کا اِظہار کرتے ہوئے  کہہ دے کہ        اِنْ شَآءَ اللّٰہ  مىں کبھى نہ کبھى آپ کی   چُرائی ہوئی چیز آپ کو  ضَرور  واپس  کروں گا ۔   اب اگر مالک کہہ دے کہ مىں نے آپ کو مُعاف  کر دیا  تو  مُعاف ہو جائے گا۔ اپنا سامان بیچ  کر چُرایا  ہوا مال واپس کرسکتا ہے  تو یہ  بھی کرنا ہو گا ، ورنہ    یہ  کہنا کہ  میں نے  آپ کا مال چُرایا تھا ، آپ مجھے مُعاف کردیں ،یہ سوال ہوگا ۔  (اِس موقع پر  مفتی صاحب نے   فرمایا :)  جہاں شریعت اِجازت  دے گی وہاں سُوال کیا جا سکتا ہے   مثلاً  ایسا غرىب آدمى ہے   کہ  اس کے پاس دىنے کے لىے کچھ نہیں ہے    لہٰذا وہ سُوال کرتا ہے تو اس مىں کوئى حرج نہىں ۔  

چُرایا ہوا مال وُرَثاء اور شرعی فقیر کو دینے کی صورت

سُوال: جس کا مال چُرایا ہے اگر وہ نہ ملے   تو  کیا کریں ؟  (مفتی حسان صاحب کا سُوال  )
جواب: جس کا مال چُرایا ہے  اگر وہ  فوت ہوگىا ہے تو اب  وہ مال اُس کے وُرَثاء کو دىنا ہو گا۔اگر چُرائے  ہوئے  مال کے مالک  کے بارے میں  معلوم نہیں   کہ وہ  کون ہے؟  ىا  وہ ایسا غائب ہو گىا  ہے کہ اب  اُس کے بارے میں    بالکل  پتا ہى نہىں ہے  کہ وہ کہاں چلا گىا  ہے تو اِس صورت   میں  حکم یہ ہے  کہ وہ  مال  بازار میں  بھیک مانگنے والوں   یا بس اَسٹاپ  پر کھڑے ہو کر کپڑے سے  کاریں صاف کرنے والوں  کو دینے کے بجائے   کسی شرعی فقیر کو دینا  ہو گا ، ( )   نیز توبہ بھی کرنی ہو گی ۔ اُمید ہے  کہ اِس طرح کرنے سے    اِنْ شَآءَ اللّٰہ خلاصی  ہو جائے گی ۔  

خوددار مَریض کو کس طرح زکوٰۃ دی جائے ؟

سُوال: اگر کوئی کىنسر کے مَرض میں مبتلا ہو جائے اور ا س  کے پاس علاج کروانے کے لئے  پىسے نہ ہوں  نیز وہ  زکوٰۃ کا مستحق ہو مگر وہ  زکوٰۃ  لینا نہ  چاہتا ہو   تو ایسی صورت میں   کیا کرنا چاہیے ؟ 
جواب:مَریض  کو   زکوٰۃ بول کر دینا ضَروری نہیں بلکہ  اُسے عیدی یا تحفہ  کہہ کر  بھی  دے سکتے ہیں۔ مَریض دینے والے سے     پوچھے یہ  ضَروری نہیں،البتہ اگر اُس نے پوچھ لیا تو اب جھوٹ نہ بولے۔  بعض  مَریض  خوددار ہوتے ہىں جو صَدقے کے نام سے  بھی کتراتے ہیں،ایسے مَرىضوں کى زىادہ  مدد کرنی  چاہىے۔ بے چارے   غرىب   مَریضوں کا علاج نہیں ہو پاتا  اور اِسی حالت میں  دُنیا سے چلے جاتے ہىں۔ اللہ پاک بے چاروں کو شِفا عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم    

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن