30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الرضوان میں ہوتا ہے ۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکے صاحبزادے حضرتِ سیِّدُناخَیْثَمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد عبد الرحمن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ میرے دادا کے ساتھ راحتِ قلبِ ناشاد، محبوبِ ربُّ الْعِباد صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کے ہاں گئے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے میرے دادا سے پوچھا : تمہارے اس بیٹے کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے عَرْض کی : عَزِیز ۔ آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا : اس کا نام عَزِیز نہیں ’’عبد الرحمن‘‘ رکھو، سب سے اچھے نام عبدُاللّٰہ، عبدُالرحمن اور حارِث ہیں ۔ (اسدالغابۃ، ۳ / ۴۶۶، رقم : ۳۳۱۳)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں : عَزِیْز اَسماء الٰہیہ میں سے ہے عزت سے بنا ہے ، مسلمان میں فِروتنی (یعنی انکساری)، عِجز و نیا زچاہیے ۔ (مراٰۃُ المناجیح، ۶ / ۴۲۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صَدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں : یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ دونوں نام (یعنی عبد اللّٰہ اور عبدالرحمن)محمد و احمد سے بھی افضل ہیں ، کیونکہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اسم پاک محمد و احمد ہیں اور ظاہر یہی ہے کہ یہ دونوں نام خود اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے منتخب فرمائے ، اگر یہ دونوں نام خدا(عَزَّوَجَلَّ) کے نزدیک بہت پیارے نہ ہوتے تو اپنے محبوب کے لیے پسند نہ فرمایا ہوتا ۔ احادیث میں مُحَمَّد نام رکھنے کے بہت فضائل مَذْکُور ہیں ۔ (بہار شریعت، ۳ / ۶۰۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اسماء اِلٰہیہ کے ساتھ نام رکھنے کے مدنی پھول
اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے ناموں کی دو قسمیں ہیں : ذاتی اور صفاتی، ذاتی نام صرف ’’اللّٰہ‘‘ ہے ۔ اس ذاتی نام کو کسی انسان کے لیے رکھنا جائز نہیں ہے اگرعبدکی اِضافت کے ساتھ’’عبدُ اللّٰہ ‘‘ رکھا جائے تو جائز بلکہ باعثِ فضیلت ہے ۔ پھر صفاتی ناموں کی دو قسمیں ہیں : {1}جو اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے ساتھ خاص ہیں ، مثلاً : رحمن(ہمیشہ رحم فرمانے والا)، قُدُّوس(بڑا پاک)، قَیُّوْم(از خودہمیشہ قائم رہنے والی ذات ) وغیرہ ، اگر یہ نام عبد کی اِضافت کے ساتھ رکھے جائیں مثلاً عبدالقُدُّوس ، عبدالقَیُّوم تو جائز ہے ۔ {2} جو نام اللّٰہعزوجل کے ساتھ خاص نہیں ہیں ، مثلاً : علی، رَشید، کبیر، بَدِیع وغیرہ ، یہ نام عبد کی اضافت اور اس کے بغیر رکھنا بھی جائز ہے ، البتہ اس قسم کے ناموں کے رکھنے کی صورت میں یہ ضروری ہے کہ ان ناموں کے وہ معنی مُراد نہ لئے جائیں جو اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی شان کے ہی لائق ہیں ، مثلاً : اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا ’’رشید، کبیر ‘‘ہونا ذاتی ہے اور مخلوق کے اندر یہ معنیٰ عطائی ہیں ۔ صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد 3حصہ 16 صَفْحَہ602 میں فرماتے ہیں : بعض اَسماء اِلٰہیہ جن کا اِطلاق(بولا جانا ) غیرُ اﷲ پر جائز ہے ان کے ساتھ نام رکھنا جائز ہے ، جیسے علی، رشید، کبیر، بدیع، کیونکہ بندوں کے ناموں میں وہ معنی مُراد نہیں ہیں جن کا اِرادہ اﷲ تعالیٰ پر اِطلاق کرنے (بولنے ) میں ہوتا ہے اور ان ناموں میں الف ولام ملا کر بھی نام رکھنا جائز ہے ، مَثَلاً العَلی، اَلرَّشید ۔ ہاں اس زمانہ میں چُونکہ عوام میں ناموں کی تَصغیر کرنے کا بکثرت رَواج ہوگیا ہے ، لہٰذا جہاں ایسا گمان ہو ایسے نام سے بچنا ہی مناسب ہے ۔ خُصُوصاً جب کہ اسمائِ اِ لٰہیَّہ کے ساتھ عبد کا لفظ ملا کر نام رکھا گیا، مَثَلاً عبدالرحیم، عبدالکریم، عبدالعزیز کہ یہاں مُضاف اِلَیہ سے مُراد اﷲ تعالیٰ ہے اور ایسی صورت میں تصغیر(چھوٹا کرنا) اگر قصداً ہوتی تو معاذ اﷲ کفر ہوتی، کیونکہ یہ اس شخص کی تَصغیر نہیں بلکہ معبودِ برحق کی تَصغِیر ہے مگر عوام اور ناواقِفوں کا یہ مقصد یقینا نہیں ہے ، اِسی لیے وہ حُکْم نہیں دیا جائے گا بلکہ اُن کو سمجھایا اور بتایا جائے اور ایسے موقع پر ایسے نام ہی نہ رکھے جائیں جہاں یہ اِحتمال (گمان)ہو ۔ (دُرِّمُختار و رَدُّالْمُحتار، ۹ / ۶۸۸)
’’جبار‘‘نام تبدیل کرکے ’’عبدالجبار‘‘ رکھا
حضرتِ سیِّدُناعبد الجبار بن حارِث رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کاپہلانام ’’جبار بن حارِث ۔ ‘‘ تھا، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع