30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوا وہ اسے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمکی خدمت میں لائے ، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے کھجور کی گھٹی دی، اس کا نام عبد اللّٰہ رکھا اور اس کے لیے بَرَکت کی دعا فرمائی ۔(الاصابۃ، ۵ / ۲۱، رقم : ۶۲۰۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک ’’جِن‘‘ کا نام ’’عبدُ اللّٰہ‘‘ رکھا
حضرتِ سیِّدُنا عَامِر بِن رَبِیْعَہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہمافرماتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں ہم مکّۂ مکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں سلطانِ اِنس و جان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کے ساتھ تھے ، ہم نے مکہ کے ایک پہاڑ سے ایک غیبی آواز سنی جو مُشرکین کو مسلمانوں کے خلاف اُبھار رہی تھی ۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا : یہ شیطان ہے اور جس شیطان نے کسی نبی علیہ السلام کے خلاف ایسا اِعلان کیا ہے ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اسے ہلاک کر دیا ۔ بعد میں آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہم سے فرمایا : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اسے ایک طاقتور جن کے ذریعہ ہلاک کر دیا جس کا نام سَمْحَجْ ہے ، میں نے اس کا نام عبد اللّٰہ رکھ دیا ہے ۔ شام کو ہم نے اس جگہ سے غیبی آواز میں یہ اَشعار سنے :
نَحْنُ قَتَلْنَا مِسْعَرًا لَمَّا طَغٰی وَاسْتَکْبَرَا
وَصَغَّرَ الْحَقَّ وسَنَّ الْمُنْکَرَا بِشَتْمِہٖ نَبِیَّنَا الْمُظَفَّرَا
یعنی : ہم نے مِسْعَر (خبیث جن) کو قتل کر دیا وہ سرکش اور متکبر تھا، وہ ہمارے کامیاب و کامران نبی کی بد گوئی کرتا تھا اور حق کا مُنکِر تھا ۔ (الاصابۃ، ۳ / ۱۴۸، رقم : ۳۴۸۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے کئی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَانکا نام عبدالرحمن بھی رکھا ، چنانچہ حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں میرانام عبدِشَمْس (سُورج کا بندہ)تھا، پھر دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے میرا نام عبدالرحمن رکھا ۔ (اسدالغابۃ، ۶ / ۳۳۷، رقم : ۶۳۱۹)
حضرتِ سیِّدُناابو راشد عبد الرحمن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمکی خدمت میں اپنی قوم کے 100افراد کا وفد لے کر حاضر ہوئے اور دولتِ ایمان سے نوازے گئے ۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اپنی حاضری کا اَحوال سناتے ہیں کہ میرے ساتھ آنے والے لوگوں نے مجھ سے کہا : پہلے تم جا کر نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم سے ملاقات کرو، اگر تمہیں ان میں پسندیدہ بات نظر آئے تو ہمیں آکر بتانا ہم بھی حاضری دیں گے ورنہ تم واپس آجانا ہم لَوٹ جائیں گے ۔ میں نے حاضر ہوکرکہا : اَنْعِمْ صََباحاً یَا مُحَمَّد!یعنی صبح بخیراے محمد! آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : یہ اہل ایمان کا سلام نہیں ۔ میں نے عَرْض کیا : تو پھر کس طرح سلام کروں ؟ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جب تم اہلِ ایمان کے ہاں آؤ تو کہو : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ ۔ میں نے کہا : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہآپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ وبَرَکَاتُہ، پھر آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے میرا نام دریافت فرمایا، میں نے کہا : ابو معاویہ عَبْدُ اللَّاتِ وَ الْعُزّٰی ۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا : بلکہ تم ’’ابو راشِد عبدالرحمن‘‘ ہو ۔ نَبِیِّ مُعَظَّم، رَسُولِ مُحتَرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے میری عزت افزائی فرمائی، مجھے بٹھایا، مجھے اپنی چادر اور عصاعطا فرمایا ۔ (جمع الجوامع، ۱۵ / ۵۵۱، حدیث : ۱۵۱۰۲ملخصًا)
اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھو
حضرتِ سیِّدُناعبدُ الرحمٰن بِن اَبُوسَبْرَہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما صحابی ابنِ صحابی ہیں ۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا شمار کُوفہ میں رہائش پذیر صحابہ کرام علیہم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع