30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دو مَدَنی پھول :
{۱} بغیر اچّھی نیّت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا ۔
{۲}جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کوئی بھی جائز کام اچھی نیت سے کیا جائے تو اس کا بھی ثواب ملتا ہے ، لہٰذا ایک دَم نام رکھ دینے کے بجائے پہلے حسب حال نیّتیں کرلینی چاہئیں مثلاً٭شریعت کے مطابق جائز نام رکھوں گا٭جن ناموں کی احادیثِ مبارکہ میں ترغیب آئی ہے وہ نام رکھوں گا ٭نسبت کی برکتیں لینے کے لئے انبیاء کرام ، صحابہ کرام اور دیگر بُزرگانِ دین کے نام پر نام رکھوں گا ۔ ٭نام کے حتمی اِنتخاب کے لئے علمائے کرام سے مشورہ کرلوں گا ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے پسند یدہ نام
اگر کسی بچے کا نام ’’عَبْد‘‘سے شروع کرنا ہوتو سب سے افضل نام عبداللّٰہ اور عبدالرحمن ہیں ۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’تمہارے ناموں میں سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبدُاللّٰہ اور عبدُ الرَّحْمٰن ہیں ۔ ‘‘( مسلم، کتاب الآداب، باب النھی عن التکني بابی القاسم ۔ ۔ ۔ الخ، ص۱۱۷۸، حدیث : ۲ ۔ (۲۱۳۲))
صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی لکھتے ہیں : ان دونوں میں زیادہ افضل عبدُ اللّٰہ ہے کہ عَبُودِیت(یعنی عبد ہونے ) کی اِضافت (یعنی نسبت) عَلَمِ ذات (یعنی اللّٰہ)کی طرف ہے ۔ انہیں (یعنی عبداللّٰہ اور عبد الرحمن ) کے حُکْم میں وہ اَسماء (یعنی نام)ہیں جن میں عَبُودِیت کی اِضافت(یعنی نسبت) دیگر اَسمائِ صِفاتیہ کی طرف ہو، مثلاً عَبْدُالرَّحِیْم، عَبْدُالْمَلِک، عَبْدُالْخَالِقوغیرہا ۔ حدیث میں جوان دونوں ناموں کو تمام ناموں میں خدا تعالیٰ کے نزدیک پیارا فرمایا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنا نام عبد کے ساتھ رکھنا چاہتا ہو تو سب سے بہتر عبدُ اللّٰہ و عبدالرحمن ہیں ، وہ نام نہ رکھے جائیں جو جاہلیت میں رکھے جاتے تھے کہ کسی کا نام عبدِشَمْس(سورج کا بندہ) اور کسی کا عبدالدَّار (گھر کا بندہ) ہوتا ۔ (بہار شریعت، ۳ / ۶۰۱)
’’عبد الرحمن ‘‘اور’’عبداللّٰہ‘‘ نام مکمل بولنے کی عادت بنائیں
صدرالشریعہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ مزید لکھتے ہیں : عبد اللّٰہ و عبدالرحمن بہت اچھے نام ہیں مگر اس زمانہ میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبدالرحمن اس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اور غیرِ خدا کو رحمن کہنا حرام ہے ۔ اسی طرح عَبْدُالْخَالِق کو خالِق اور عَبْدُالْمَعْبُوْد کو معبود کہتے ہیں ، اس قسم کے ناموں میں ایسی ناجائز ترمیم ہرگز نہ کی جائے ۔ اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیرکا رَواج ہے یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے اور ایسے ناموں میں تصغیر ہرگز نہ کی جائے لہٰذا جہاں یہ گُمان ہو کہ ناموں میں تصغیر کی جائے گی یہ نام نہ رکھے جائیں دوسرے نام رکھے جائیں ۔ (بہار شریعت، ۳ / ۳۵۶)(ایک اور مقام پر صدرالشریعہ لکھتے ہیں : ) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے نام کی تصغیر کرناکُفْر ہے ، جیسے کسی کا نام عبدُاﷲیا عبدُالْخالِق یا عبدُالرَّحْمٰن ہو اُسے پکارنے میں آخِر میں الف وغیرہ ایسے حُرُوف ملا دیں جس سے تصغیر سمجھی جاتی ہے ۔ (بہار شریعت، ۲ / ۴۶۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’عبدُ اللّٰہ‘‘نام رکھا
سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے 19سے زائد خوش نصیب بچوں کا نام ’’عبدُ اللّٰہ‘‘رکھا ، ایسی ہی ایک روایت ملاحظہ کیجئے : چنانچہ حضرتِ سیِّدُناعبدُ اللّٰہ بِن مُطِیع رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے مَرْوِی ہے کہ ان کے والد نے خواب میں دیکھا کہ انہیں کھجوروں کی تھیلی دی گئی، انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمسے اپنا خواب بیان کیا، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : کیا تمہاری کوئی زوجہ اُمید سے ہے ؟ انہوں نے عَرْض کی : جی ہاں ! بَنُو لَیْث (قبیلے )سے تعلق رکھنے والی زوجہ ۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا : عنقریب اس کے ہاں تمہارا بیٹا پیدا ہوگا ۔ جب بچہ پیدا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع