30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ آدمی کے کام اس کے نام کے مطابق ہونے چاہئیں کیونکہ نام انسان کی شخصیت کیلئے جسم کی طرح ہوتا اور اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی حکمت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ نام اور کام میں مناسبت اور تعلق ہو ۔ نام کا اثرشخصیت پر اور شخصیت کا اثر نام پر ظاہر ہوتاہے ۔ (فیض القدیر ، ۳ / ۵۲۲، تحت الحدیث : ۳۷۴۵)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : اچھے نام کا اثر نام والے پر پڑتا ہے ، اچھا نام وہ ہے جو بے معنی نہ ہو جیسے بُدھوا، تَلوا وغیرہ اور فخر و تکبر نہ پایاجائے جیسے بادشاہ، شہنشاہ وغیرہ اور نہ بُرے معنی ہوں جیسے عاصی وغیرہ ۔ بہتر یہ ہے کہ انبیام ئے کرام( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلِ بیت اَطہار (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم)کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمٰعیل، عثمان، علی، حُسین و حَسَن وغیرہ ، عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ اِنْ شَآءَ اللہ (عَزَّوَجَلَّ ) بخشا جائے گا اور دنیا میں اس کی برکات دیکھے گا ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۵ / ۳۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ہمارے معاشرے میں نام رکھنے کے مختلف انداز
بچے یابچی(بالخصوص پہلی اولاد) کی پیدائش کے بعد عُمُوماًقریبی رشتہ داروں مثلاًدادی، نانی ، پھوپھی ، خالہ ، تایاچچاوغیرہ کا اِصرار ہوتا ہے کہ اس کا نام میں رکھوں گا اور ہر ایک اپنی پسند کا نام بھی چُن کر لے آتا ہے ۔ اگر والد راضی ہوتو اس میں بھی حرج نہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ نام رکھنے والے بعض اوقات دینی معلومات کی کمی کی وجہ سے بچوں کے ایسے نام بھی رکھ دیتے ہیں جو شرعاً ناجائز ہوتے ہیں یا جن کے معانی اچھے نہیں ہوتے ، ایسے نام رکھنے سے بہرحال بچا جائے ۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بیٹے یا بیٹی کا نام نہایت ہی خوبصورت ہو، مگر نام کے حتمی اِنتخاب کے وَقْت الفاظ کی ظاہری خوبصورتی کا خیال تو ہوتا ہے لیکن دیگر پہلوؤں پر توجہ نہیں ہوتی چنانچہ بعض اوقات لوگ اہلِ عِلْم سے ایسے ایسے ناموں کے معانی پوچھتے ہیں جو اُردو ، عَرَبی یا فارسی کسی لُغت میں نہیں ملتے ، ظاہر ہے اس طرح کے بے معنی نام رکھنا بھی مناسب نہیں ۔
اس حوالے سے مدنی پھول عطا کرتے ہوئے صَدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویبہارِ شریعت میں لکھتے ہیں : ایسا نام رکھنا جس کا ذکر نہ قرآن مجید میں آیا ہو، نہ حدیثوں میں ہو، نہ مسلمانوں میں ایسا ناممُستعمَل ہو، اس میں علما کو اِختلاف ہے ، بہتر یہ ہے کہ نہ رکھے ۔ (بہار شریعت، ۳ / ۶۰۳) مَدَنی مشورہ ہے کہ والد یا رشتہ دار بچے کا جو بھی نام منتخب کریں پہلے اس کے بارے میں مفتیانِ کرام یا علمائے اہلسنّت دَامَتْ فُیُوضُھُمْ سے رہنمائی لیں اور اس پر عمل بھی کریں ۔
{اپنے شرعی مسائل کے حل کے لئے دارالافتاء اہلسنّت کے ان نمبرز پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے : 5-03000220112 (وقت صبح 10تا 4بجے تک ، 1سے 2بجے تک وقفہ برائے نماز وطعام اور جمعہ کے دن تعطیل ہے ۔ )}
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بعض اوقات ایسا نام بھی تلاش کیا جاتا ہے جو گھر، خاندان ، محلے میں دُور دُور تک کسی کا نہ ہو ، جو بھی سُنے فوراً کہہ اُٹھے کہ یہ نام تو پہلی بار سُنا ہے ، کیسا زبردست نام رکھا ہے !یہ الفاظ سُن کر نام رکھنے والا پُھولے نہیں سماتا ، لیکن ایسوں کو ایک لمحے کے لئے سوچ لینا چاہئے کہ کہیں یہ خوشی حُبِّ جاہ (یعنی تعریف کی خواہش)کے مرض کا نتیجہ تو نہیں ؟
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نام رکھتے وَقْت اچھی اچھی نِیَّتیں کرلیجئے
فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖo یعنی مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہتر ہے ۔ (معجم کبیر ، ۶ / ۱۸۵، حدیث : ۵۹۴۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع