30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : حارِث کے معنی ہیں کماؤ ۔ حَرْث کہتے ہیں کمائی کو ۔ ’’ہَمَام ‘‘ کے معنی ہیں قَصد واِرادہ کرنے والا ہَم ّ کہتے ہیں ارادہ کو ۔ کوئی شخص کمائی یا اِرادہ سے خالی نہیں ہوتا لہٰذا یہ نام بہت سچے ہیں ، نام مطابق کام کے ہیں ۔ (مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : ) حَرْب کے معنی ہیں جنگ و خونریزی، مُرَّہکے معنی ہیں جھگڑالویا کَڑوی طبیعت کا آدمی ۔ مُرَّہشیطان کا نام بھی ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۴۲۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
محبوبانِ خدا کے ناموں پر نام رکھنا مستحب ہے
فی زمانہ یہ رَواج بھی زور پکڑ چکا ہے کہ اپنے بچوں کا نام رکھنے کے لئے ناولوں ، ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے اداکاروں کے نام بھی چُن لئے جاتے ہیں ، حالانکہ مستحب یہ ہے کہ اللّٰہ والوں کے نام پر نام رکھا جائے ، چنانچہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہلکھتے ہیں : حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا انبیام ء واَولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کے اَسمائے طیبہ پرنام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو ۔ [1]؎ (فتاویٰ رضویہ، ۲۴ / ۶۸۵) بہارشریعت میں ہے : انبیام ئے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اَسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے امید ہے کہ ان کی بَرَکت بچہ کے شامل حال ہو ۔ (بہار ِ شریعت، ۳ / ۳۵۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نواسوں کا نام حسن اور حسین رکھا
حدیث میں ہے سیِّدُنا امام حسن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی ولاد ت پر حضورِ اقدس صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلمتشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ !تم نے اس کا کیا نام رکھا؟ مولیٰ علی (کرم اللّٰہ تعالٰی وجہہ الکریم) نے عَرْض کی : حَرْب ۔ فرمایا : نہیں بلکہ وہ حَسَن ہے ۔ پھر سیِّدُنا امام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی ولادت پر تشریف لے گئے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ !تم نے اس کا کیا نام رکھا؟ مولی علی (کرم اللّٰہ تعالٰی وجہہ الکریم) نے عَرْض کی : حَرْب ۔ فرمایا : نہیں بلکہ وہ حُسَین ہے ، پھر امام مُحسِن کی ولادت پر وہی فرمایا مولیٰ علی (کرم اللّٰہ تعالٰی وجہہ الکریم)نے وہی عَرْض کی ۔ فرمایا : نہیں بلکہ وہ مُحْسِن ہے پھر فرمایا : میں نے اپنے بیٹوں کے نام داؤد( علیہ الصلوۃ والسلام) کے بیٹوں پر رکھے ۔ (مسندامام احمد بن حنبل، مسند علی ابن ابی طالب، ۱ / ۲۱۱، ۲۱۲، حدیث : ۲۷۶۹واسدالغابۃ، ۵ / ۷۷، رقم : ۴۶۸۸)
شَبَر شُبَیْر مُشْبِر حَسَن حُسَیْن مُحْسِن ان سے ہم وزن و ہم معنی ہیں ، اس سے مولیٰ علی کرم اللّٰہ تعالٰی وجہہ الکریم کو تنبیہ ہوئی کہ اولاد کے نام اَخیار کے ناموں پر رکھنے چاہئیں لہٰذا ان کے بعد اپنے صاحبزادوں کے نام ابو بکر، عمر، عثمان، عباس وغیرہا رکھے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۹ / ۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اپنے شہزادے کانام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا
حضرت سیِّدُنا اَنَس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے ارشاد فرمایا : رات میرے ہاں بیٹا ہوا ہے ، میں نے اپنے باپ (یعنی خلیلُ اللّٰہ حضرت ابراہیم علیہ السلام )کے نام پر اس کا نام ابراہیم(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) رکھا ہے ۔
( مسلم، کتاب الفضائل، باب رحمتہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم الصبیان ۔ ۔ الخ ص۱۲۶۶، حدیث : ۲۳۱۵)
جبکہ حضرتِ سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ، میں اسے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کے پاس لایا، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا نام ابراہیم رکھا، اسے کھجور چبا کر گھٹی دی، اس کے لیے بَرَکت کی دعا کی اور میرے حوالے کردیا ۔ حضرت ابراہیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے سب سے بڑے بیٹے تھے ۔ (بخاری، کتاب العقیقۃ، باب تسمیۃ المولود غداۃ یولد لمن لم یعق وتحنیکہ ، ۳ / ۵۴۶حدیث : ۵۴۶۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خلاصۂ کتاب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع