دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Naam Rakhnay Kay Ahkam | نام رکھنے کے احکام

book_icon
نام رکھنے کے احکام

وہ قرآنِ پاک سے کوئی ایسا لفظ نام کے لئے منتخب کرلیتے ہیں جسے معنوی خرابی کی وجہ سے نام کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ مثلاًپاکستان کے ایک دیہات میں ایک عورت جو ذرا قرآن کریم پڑھنا جانتی تھی اس کے یہاں یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں پیداہوئیں اس نے خود کو پڑھا لکھا سمجھتے ہوئے بچیوں کے نام تجویز کرنے کے لئے قرآن کریم سے سورہ کوثر کا اِنتخاب کیا چنانچہ بڑی بچی کا نام کَوثَر رکھا دوسری کا نام وَانْحَر تجویز کیا اور تیسری کا نام اَ بْتَر مقرر کیا ۔  کوثر کے معنی تو بحیثیت نام کسی حد تک دُرست بھی ہیں لیکن  وَانْحَر کا معنی ہے ’’اور تم قربانی کرو‘‘ جبکہ آخری لفظ اَ بْتَر کے معنی ہیں : ’’خیر سے محروم رہنے والا‘‘ جو کسی بھی طرح نام رکھنے کے لئے مناسب نہیں مگر جہالت کا کیا علاج؟ اسی طرح ایک بچی کا نام رکھا گیا مُذَبْذَبِیْن ۔ پوچھاگیا :  یہ کیا نام ہے ؟ جواب ملا :  قرآن شریف میں ہے ، حالانکہ مُذَبْذَبِیْن  کا لفظ اُن لوگوں کیلئے استعمال ہوا جوکفر وایمان کے بیچ میں ڈگمگا رہے ہیں ، نہ خالص مؤمن اور نہ کھلے کافر ہیں  ۔ (خزائن العرفان، ص۱۹۶) دارالافتاء اہلسنّت (دعوتِ اسلامی ) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ مجھے کسی نے فون پر بتایا کہ اس نے اپنی بیٹی کا نام قرآن سے نکال کر رکھا ہے  ۔ جب نام پوچھا تو کہا : ’’زانیہ ‘‘(نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِک) اسی طرح ایک شخص نے اپنے بیٹے کا نام ’’خَنّاس‘‘ رکھا  ۔ (وَالعیاذُ باللّٰہ )

          بہرحال ایسے لوگوں کو بطورِ اِصلاح کچھ کہاجائے تو سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم سے رکھے ہوئے ناموں پر اِعتراض کیا جارہا ہے حالانکہ قرآن کریم سے نام تجویز کرنے کے بھی کچھ اصول ہیں ورنہ تو قرآن میں حِمار(گدھا)، کَلْب(کتا)، خِنزِیر (سُور)، بقرہ(گائے )، فرعون (خدائی کا دعویٰ کرنے والا مشہور بادشاہ)، ہامان(مشہور کافر) وغیرہ کے الفاظ بھی آئے ہیں تو کیا ان کے معنی اور نسبت جاننے کے بعد بھی کوئی ان الفاظ کو اپنے بچے یا بچی کا نام رکھنے کے لئے استعمال کرنے پر تیار ہوگا؟ یقینا نہیں  ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نیک شخص کے نام پر نام رکھنے کی برکت

          حضرت ِ سیِّدُناعلی المرتضٰی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے : مَا مِنْ قَوْمٍ یَکُوْنُ فِیْھِمْ رَجُلٌ صَالِحٌ فَیَمُوْتُ فَیَخْلُفُ فِیْھِمْ بِمَوْلُوْدٍ  فَیُسَمُّوْنَہٗ بِاِسْمِہٖ اِلَّا خَلَفَھُمُ اللّٰہُ بِالْحُسْنٰی یعنی :  جس قوم میں کوئی نیک شخص انتقال کرجائے ، اس کے انتقال کے بعد اس قوم میں کوئی بچہ پیدا ہو، اور وہ اُسی بزرگ شخصیت کے نام پر اس بچہ کا نام رکھیں ، تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّاِس اچھا نام رکھنے کے سبب ان لوگوں کیلئے اس بچے میں بھی وہی نیک صفات پیدا فرمادیگا ۔  (ابن عساکر، ۴۳ / ۴۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نیک لوگوں کے نام پر نام رکھو

          اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : نیک لوگوں کے نام پر نام رکھو اور اپنی حاجتیں اچھے چہرے والوں (یعنی نیک لوگوں )سے طلب کرو ۔ (المسند الفردوس، ۲ / ۵۸، حدیث : ۲۳۲۹)

نبیوں کے نام پر نام رکھو

            انبیام     ئے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے اسمائے مبارکہ اورصحابہ کرام وتابعین عظام اور اولیائے کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کے نام پر نام رکھنے چاہئیں جس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بچے کا اپنے اَسلاف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم  سے رُوحانی تعلق قائم ہوجائے گا اور دوسرا ان نیک ہستیوں سے مَوسُوم ہونے کی بَرَکت سے بچے کی زندگی پر مَدَنی اثرات مُرتَّب ہوں گے ۔ تمام نبیوں کے سردار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :  ’’اَنبیا (علیہم السلام) کے نام پر نام رکھو اور اللّٰہ عز و جل کے نزدیک ناموں میں زیادہ پیارے نام عبد اللّٰہ و عبد الرحمن ہیں اور سچے نام حارِث اورہَمَام ہیں اور ’’حَرْب‘‘ و ’’مُرَّہ‘‘ بُرے نام ہیں ۔ ‘‘ (ابو داوٗد، کتاب الادب، باب فی تغییر الاسماء ، ۴ / ۳۷۴، حدیث : ۴۹۵۰)

          حضرت علّامہ عبدالرؤف مَناوی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الباریاس حدیث کے تحت لکھتے ہیں  : انبیام     ئے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب اسلئے دلائی گئی کیونکہ یہ حضرات انسانوں کے سردار ہیں ، ان کے اخلاق سب سے بہتر ، ان کے اعمال تمام اعمال سے اچھے اور ان کے نام تمام ناموں سے افضل ہیں لہٰذا ان کے نام پر نام رکھنا شرف وسعادت کا باعث ہے ۔ (فیض القدیر ، ۳ / ۳۲۴) مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن