30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضورِ انورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی مختلف اشیاء کے نام
حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تلوارجسکا دستہ اوردستے کا کنارہ دونوں چاندی کے تھے اسکانام ’’ ذُوالْفِقَار‘‘ تھا، کمان کانام’’ سَدَاد ‘‘ تَرکَش (تیر رکھنے کے خول)کا نام’’ جُمَع ‘‘ زِرہ جو تانبے سے مُزین تھی اس کا نام’’ ذَاتُ الفُضُول ‘‘، ’’ نَبْعَاء ‘‘ نامی نیزہ ، ایک ڈھال کانام ’’ ذَقَنْ‘‘ اور ایک سفید رنگ کی ڈھال جسکا نام ’’ مُوْجِز‘‘ تھا، چٹائی کانام ’’کَزْ ‘‘ چھڑی کانام ’’ نَمِرْ‘‘ مشکیز ہ کانام’’صَادِر‘‘ اور آئینہ کو ’’مُدِلَّہ ‘‘کہا جاتا تھا، قینچی کانام’’ جَامِع‘‘ اورتلوار کانام ’’مَمْشُوْق‘‘ تھا ۔ (معجم کبیر، ۱۱ / ۹۲، حدیث : ۱۱۲۰۸و مجمع الزوائد۵ / ۴۹۵، حدیث : ۹۴۰۸)
حضور صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک برتنوں کے نام
ایک بڑا سا پیالہ جس کا نام’’ سَعَۃ (کشادہ) ‘‘ تھا، دوسرا پیالہ جو بہت بڑا تھا جسے چار آدمی اٹھاتے تھے اس کا نام ’’غَرَّاء (چمکدار)‘‘ تھا ۔ (الجامع الصغیر، جزء ۲، ص۴۲۵، حدیث : ۶۸۵۹)تیسرے پیالے کانام ’’رَ یَّان(بھرا ہوا )‘‘ ، چوتھے کا نام ’’مُغِیْث (مددگار)‘‘اور پانچویں کا نام’’ مُضَبَّبْ(چاندی چڑھا ہوا) ‘‘ تھاجس پرچاندی کے تار لگے ہوئے تھے ۔ (فیض القدیر ، حرف الکاف ، باب کان وہی شمائل شریفۃ ، ۵ / ۲۲۶، حدیث : ۶۸۵۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بدشگونی کی وجہ سے نام نہ بدلیں
اگر کوئی شخص زیادہ بیمار رہتا ہو، تنگ دَست ہو ، مسلسل ناکامیوں نے اسے گھیر رکھا ہو تو شیطان اسے وَسْوَسہ دلاتا ہے کہ یہ ساری مصیبتیں تمہارے نام کی وجہ سے ہیں لہٰذا تم اپنا نام تبدیل کرلوحالانکہ اس کا نام بڑی اچھی نسبت والا ہوتا ہے ، بعض اوقات یہ بات عملیات کرنے والے بھی کہہ دیتے ہیں چنانچہ وہ شخص اپنا شرعاًجائز اور اچھے معنٰی والا بلکہ اچھی نسبت والا نام بھی تبدیل کردیتا ہے ۔ ایسا کرنا نام سے بدشگونی لینے کے مترادف ہے اور بدشگونی لینا شیطانی کام ہے جیسا کہ رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اَلْعِیَافَۃُ وَالطِّیَرَۃُ وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِ یعنی اچھا یا برا شگون لینے کے لیے پرندہ اُڑانا، بدشگونی لینااور طَرْق (یعنی کنکر پھینک کر یا ریت میں لکیر کھینچ کر فال نکالنا) شیطانی کاموں میں سے ہے ۔ ( ابو داوٗد، ۴ / ۲۲، حدیث : ۳۹۰۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کئی لوگ تاریخ کے حساب سے نام رکھنے پر بہت زور دیتے ہیں یعنی بچہ جس تاریخ وسن میں پیدا ہوا اس کا حساب لگا کر نام رکھا جاتا ہے ۔ اگرچہ عِلْمُ الْاَعْدَاد کے لحاظ سے نام رکھنا بزرگوں سے ثابت ہے لیکن بزرگانِ دین اپنا تاریخی نام اصل نام سے الگ رکھتے تھے ۔ بہرحال اگر کوئی تاریخ کے حساب سے نام رکھنا چاہے تاکہ سنِ ولادت بھی محفوظ ہوجائے تو رکھ سکتا ہے لیکن اس کی کوئی فضیلت نہیں ہے ، بہتر یہی ہے کہ کسی نبی علیہ السلام، کسی صحابی یا کسی ولی کے بابَرَکت نام پر نام رکھیں ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے کسی نے عرضکی : حضور! میرے بھتیجا پیدا ہوا ہے ، اس کا کوئی تاریخی نام تجویز فرمادیں ۔ ارشادفرمایا : تاریخی نام سے کیا فائدہ ؟نام وہ ہوں جن کے احادیث میں فضائل آئے ہیں ۔ میرے اور بھائیوں کے جتنے لڑکے پیدا ہوئے میں نے سب کا نام ’’محمد‘‘ رکھا ، یہ اور بات ہے کہ یہی نام تاریخی بھی ہوجائے ۔ حامد رضاخاں کانام محمد ہے اور ان کی ولادت 1292ھ میں ہوئی اور اس نام مبارک کے عدد بھی بانوے ہیں ۔ ایک دِقت (یعنی دشواری) تاریخی نام میں یہ ہے کہ اسماء حُسنٰی سے ایک یا دو جن کے اعداد موافقِ عددِنامِ قاری (یعنی پڑھنے والے کے نام کے اعداد کے مطابق)ہوں عد دِ نام دو چند (یعنی دُگنے ) کر کے پڑھے جاتے ہیں ۔ وہ قاری کو اسمِ اعظم کا فائدہ دیتے ہیں ، تاریخی نام سے مقداربہت زیادہ ہوجائے گی مثلاً اگر کسی کی ولادت اس 1329ھ میں ہوئی تو اس کے مطابق عدد کے اسماء حسنیٰ 2658بار پڑھے جائیں گے اور محمد نام ہوتا تو ایک سو چوراسی (184)بار، دونوں میں کس قدر فرق ہوا!(ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص۷۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بعض لوگ قرآنِ مجید سے بچوں کا نام نکالتے ہیں ، اگر وہ نام قرآنِ پاک میں کسی نبی یا نیک و صالح آدمی کا ہے تب تو کوئی حرج نہیں لیکن بعض اوقات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع