30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
، محلے ، گاؤں ، کارخانے ، کارخانے میں بننے والی چیزوں (Products)کا نام بھی شریعت کے مطابق کر لینا چاہئے ۔
’’قادری اگر بتی‘‘ سے ’’ قومی اگر بتی ‘‘
دعوتِ اسلامی کے بننے سے بہت پہلے کی بات ہے کہ شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے رزقِ حلال کے حصول کے لئے اگر بتی تیار کرکے فروخت کرنے کا کام شروع کیا اور اس کا نام ’’قادری اگربتی ‘‘رکھا ۔ امیرِ اہلسنّتدامت برکاتہم العالیہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں کہ ایک بار میں نے قادری اگر بتی کے پیکٹ کو زمین پر پڑا پایا جو بُری طرح کچلا ہواتھا ، میں ڈر گیا کہ کہیں غوث پاک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے مجھ سے پوچھ لیا کہ کاروبار چمکانے کے لئے تمہیں میرا ہی نام ملا تھا! میرا نام چند سکوں کی خاطر زمین پرروندنے کے لئے چھوڑ دیا !اسی وَقْت میں نے دل میں ٹھان لی کہ میں اپنی اگر بتی کا نام ’’قومی اگر بتی ‘‘رکھوں گا ، یوں ’’قادری اگر بتی ‘‘قومی اگر بتی ہوگئی ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دنیا کی ہر زَبان کے حُرُوفِ تَہَجِّی(ALPHABETS) کا ادَب کرنا چاہئے کیوں کہ صاحبِ تفسیر صاوی شریف کے قول کے مطابق دنیا میں بولی جانے والی تمام زبانیں اِلہامی ہیں ۔ (تفسیر صاوی ، ۱ / ۳۰) اگر بتی کا پیکٹ زمین پر پھینکنے میں اگرچہ امیرِ اہلسنّت کا عمل دخل نہیں تھا لیکن آپ کی عقیدت نے گوارہ نہ کیا کہ میرے غوثِ پاک کی پیاری پیاری نسبت ’’قادری‘‘یوں قدموں تلے روندی جائے چنانچہ آپ دامت برکاتہم العالیہ نے اگر بتی کا نام ہی تبدیل کرلیا ۔ امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکے اس اندازمیں ایسے اسلامی بھائیوں کے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے جو مدینہ اسٹور ، قادری ہوٹل ، غوثیہ جنرل اسٹور، عطاری سپر اسٹور وغیرہ کے نام سے دکانیں کھولتے ہیں اسی نام کے لفافے چھپواتے ہیں پھر یہ لفافے زمین پر گر ے پڑے دکھائی دیتے ہیں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید خدری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نیا کپڑاچاہے عمامہ ہو یا قمیص پہنتے تو اس کا نام رکھتے ۔ [1]؎ حضورِ اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے ایک عمامہ شریف کا نام ’’ سَحاَبْ(بادل)‘‘ تھا ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب ، فی تکمیل ، ۵ / ۹۷)
حضورِ انور صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے خیبر کے مقام پر واقع ایک چشمہ کا نام ’’قِسْمَۃُ الْمَلَائِکَۃ (فرشتوں کا حصہ / فرشتوں کی تقسیم)‘‘رکھا ۔ (خلاصۃ الوفا بأخبار دار المصطفی، الفصل الثامن، ۲؍۱۱۷۹)
رحمتِ کونین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمکی مبارک سواریوں کے نام
رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی سواری کے گھوڑوں کے نام ’’ لَحِیْف(لمبی دم والا)‘‘ [2]؎،’’ ظَرِبْ(مضبوط و طاقتور)‘‘، ’’ لِزَاز (تیزرفتار) ‘‘[3]؎ اورسیاہ گھوڑا تھا جسے ’’ سَکْبْ (تیز رفتار)‘‘ کہا جاتا تھا اور زین کانام ’’دَاجْ(کشادہ)‘‘تھا، ایک سیاہی مائل سفید خچر تھا جسے ’’دُلْدُلْ‘‘ کہا جاتا تھا، ایک اونٹنی جسے ’’ قَصْوَاء(تیز چلنے والی)‘‘کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا جبکہ دَرازگوش کانام ’’یَعْفُوْر(تیز رفتار)‘‘ تھا ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، باب العین ، ۱۱ / ۹۲، حدیث : ۱۱۲۰۸)
سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دس دودھ دینے والی بکریاں تھیں : (۱) عَجْوَۃ(۲) زَمْزَمْ(۳) سُقْیا(۴) بَرَکَۃ(۵) وَرْسَۃ(۶) اِطْلَال(۷)اِطْرَاف(۸) قُمْرَہ(۹) غَوْثَۃیا غَوْثِیّۃ(۱۰)اور ایک بکری کا نام یُمْن تھا ۔
(سبل الہدی والرشاد، ، الباب السادس فی شیاہہ ، ومنائحہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم ، ۷ / ۴۱۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع