30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی ناپسند فرماتے تھے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۲۶۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بستیوں اور علاقوں کے نام بھی تبدیل فرمادیتے
جنا ب رحمتِ عالمیان ، مکّی مَدَنی سلطان صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم زمینوں ، وادیوں اور قبائل کے بُرے نام بھی تبدیل فرما دیا کرتے تھے ، چنانچہ امام ابوداوٗدرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ بیان کرتے ہیں : آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نیعَفِرَۃ زمین (بنجر زمین ) کا نام خَضِرَۃ(سرسبز زمین) رکھا، شَعْبُ الضَّلَالَۃ(گمراہی کی وادی) نامی وادی کا نامشَعْبُ الْھُدٰی(ہدایت کی وادی) رکھا اور آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے بَنُوزَنْیَۃِ(حرام کی اولاد) کا نام تبدیل فرما کر بَنُو الرَّشْدَۃِ(حلال زادے ) رکھا اوربَنُو مُغْوِیَۃ (گمراہ کن جگہ)کو بَنُو رِشْدَۃ(ہدایت والی جگہ) کا نام عطا فرمایا ۔ (ابو داوٗد، کتاب الادب، باب فی تغییرالاسم القبیح ، ۴ / ۳۷۶، حدیث : ۴۹۵۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نام کے ساتھ علاقے کا نام بھی بدل دیا
حضرت وَہْب بن عَمْرو بن سعد بن وَہْب اَلْجُہَنِی بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے اپنے دادا سے روایت کی کہ دورِ جاہلیت میں ان کو غیّان کہا جاتا تھا، جب وہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے پوچھا ۔ تمہارا نام کیا ہے ؟ عَرْض کی : غیّان(نا مراد) ۔ پیکرِ حُسن و جمال، دافِعِ رنج و مَلال صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے ان کا نام ’’رَشْدَان‘‘ (کامیاب)رکھا، اور آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت فرمایا : تمہارے اہل و عیال کہاں رہتے ہیں ؟ عَرْض کی : وادی غَویٰ (نامُراد وادی) میں ۔ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : وہ ’’رَشاد‘‘ (کامیاب وادی ) میں رہتے ہیں ۔ (آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے ان کے بُرے نام کے ساتھ ان کی وادی کا بُرا نام بھی بدل دیا) وہ شہر آج تک ’’رَشاد‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ [1]؎(الاصابۃ، ۲ / ۴۰۳، رقم : ۲۶۶۰، ملخصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ایک غزوہ میں رسولِ ثَقَلَین ، سلطانِ کونَین ، رحمتِ دارَین صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم ’’بَیْسَان‘‘ نامی کھاری پانی کے چشمے سے گزرے آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : یہ نُعمان میٹھے پانی کا چشمہ ہے ۔ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا نام بدل دیا پھر حضرتِ سیِّدُنا طَلحہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے وہ چشمہ خرید کر صدقہ کردیا، تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا : طَلْحہ تم تو فیاض ہو، ا سی لیے حضرتِ سیِّدُناطلحہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو ’’طَلْحَۃُ الْفَیَّاض‘‘ کہا جاتا تھا ۔ (الاصابۃ، ۳ / ۴۳۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدُنا ابو اُمیہ مخزومی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں ایک کنواں تھا جس کا نام ’’ عَسِیْر(مشکل)‘‘ تھا ، سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اس کانام ’’یَسِیْرَۃ(آسان)‘‘ رکھا ۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث والأثر للجزری، باب العین مع السین ۳؍۲۱۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان روایات کے پیشِ نظر ہمیں چاہئے کہ ہم نہ صرف اپنے بچوں کا نام شریعت کے مطابق رکھیں بلکہ خود اپنے نام پر بھی غور کرلیں اگر معنوی طور پر نام غلط اور خلافِ شریعت ہوتو علمائے اہلسنّت سے مشورے کے بعد شرعاً جائز اور اچھا نام رکھ لیں ، اس کے ساتھ ساتھ اپنی دکان ، گھر
[1] سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ،صاحبِ معطر پسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک اداکو ادا کرتے ہوئے شیخ طریقت امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے بھی بعض شہروں کے نام (تنظیمی طور پر)تبدیل کئے ہیں مثلاًسیالکوٹ کا نام اپنے پیرومرشِد سیدی قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین مَدَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِی کی نسبت سے’’ ضیا کوٹ‘‘فیصل آباد کا نام محدثِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا سردار احمد علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الاحد کی نسبت سے ’’سردار آباد ‘‘ ، لاڑکانہ کا نام مفتیٔ دعوتِ اسلامی مولانا محمد فاروق عطاری مدنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِی کی نسبت سے ’’فاروق نگر ‘‘اور حیدر آباد کا نام محبوبِ عطّار مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکن شوریٰ حاجی زَم زَم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الباری کی نسبت سے ’’زم زم نگر ‘‘رکھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع