30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱ / ۱۷۶، رقم : ۳۳، الاصابۃ، ۱ / ۳۲۶، رقم : ۴۱۴)
{۲} حضرتِ سیِّدُنازاہد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا شمار یَمَنی صحابہ میں ہوتا ہے آپ فارسی تھے ، آپ کا نام یزید (ظالم ، سخت دل) تھا، حضور اقدس صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے آپ کا نام زاہد( عبادت گزار، دنیاسے بے رغبت اورآخرت کی طرف رغبت کرنے والا) رکھا ۔ (الاصابۃ، ۶ / ۵۲۹، رقم : ۹۳۳۶)
{۳} حضرتِ سیِّدُنااَبُوہُوْد سَعِیْد بِن یَرْبُوْع رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا نام ’’صُرْم‘‘(بے برکت) تھا ، سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے آپ کا نام ’’سعید‘‘(بَرَکت والا) رکھا ۔ (اسدالغابۃ، ۲ / ۴۷۰، رقم : ۲۱۰۲)
{۴} حضرتِ سیِّدُناعُفَیْف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا نام عازِب(غیر شادی شدہ) تھا، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے آپ کا نام ’’عُفَیْف‘‘(عفیف (پاکدامن)کی تصغیر) رکھا ۔ (الاصابۃ، ۴ / ۴۲۷، رقم : ۵۶۰۴)
{۵} حضرتِ سیِّدُناعَاقِلْ بِنْ اَلْبُکَیْررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قدیم الاسلام مہاجر صحابی ہیں ، دارِ ارقم میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے اور مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم سے شرفِ بیعت رکھنے والے ہیں ، آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا نام غافِل(غفلت والا) تھا، جب اسلام قبول کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے ان کا نام ’’عاقِل‘‘ (عقلمند)رکھا ۔ (الاصابۃ، ۳ / ۴۶۶، رقم : ۴۳۷۹)
{۶} مُطِیْع بِن اَسْوَد کا نام عَاصِیْ (نافرمان ) تھا، رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے ان کا نا م مُطِیْع(فرمانبردار) رکھا ۔ (اسدالغابۃ، ۴ / ۴۸۵، رقم : ۴۴۲۴)
{۷} بنو غفار کے ایک شخص نبی اکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کے پاس آئے ، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے عَرْض کی : مُہان(معمولی انسان) ۔ رحمتِ عالمیان، سرورِ ذیشان صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا : بلکہ تم مُکَرَّم (عزت والا)ہو ۔
(اسدالغابۃ، ۵ / ۲۷۱، رقم : ۵۰۷۵)
{۸} حضرتِ سیِّدُناہِشَام بِن عَامِربِن اُمَیَّہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کا نام دورِ جاہلیت میں شہاب (آگ کا شعلہ)تھا، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے بدل کر ’’ہِشَام‘‘(سخاوت) رکھ دیا ۔ (اسدالغابۃ، ۵ / ۴۱۹، رقم : ۵۳۷۲)
{۹} حضرتِ سیِّدَتُنا میمونہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کا نام بُرّہ (نیکی)تھا، سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے آپ کا نام میمونہ(مبارک ، نیک بخت) رکھا ۔ (الاستیعاب، ۴ / ۴۶۸، رقم : ۳۵۳۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شارِحِ بخاری علامہ ابن حجر رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فتح الباری میں امام طبری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکے حوالے سے نَقْل کر تے ہیں :
ایسانام نہیں رکھنا چاہیے (۱)جس کے معنی برے ہوں یا (۲)اس میں تزکیہ نفس ہو یا(۳)اس میں سَبّ (گالی، اہانت، عیب) کا معنی ہو(علامہ ابن حجر فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں : تیسری بات پہلی سے اخص (یعنی زیادہ خاص )ہے ) اگرچہ نام لوگوں کے لیے علامت ہوتے ہیں ان کے ذریعے صفت کی حقیقت مقصود نہیں ہوتی لیکن کراہت کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اس کا نام سنے گا تو گمان کرے گا کہ اس شخص کے اندر یہ صفت موجود ہے ۔
یہی وجہ ہے کہسرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکسی شخص کے نام کو ایسے نام سے تبدیل فرمادیتے کہ جب اسے اس نام سے بلایا جائے تو وہ نام اس پر صادق آئے ، سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے متعدد نام تبدیل فرمائے اور جوبھی تبدیل فرمائے وہ اس طور پر تبدیل نہیں فرمائے کہ ان ناموں کو رکھنا منع ہے بلکہ اس طور پر کہ انہیں بدل دینا بہتر ہے ، نام اس لئے نہیں رکھا جاتا کہ مذکورہ شخص میں یہ وصف بھی موجود ہے بلکہ اسے دوسروں سے الگ پہچان دینے کے لئے نام رکھا جاتا ہے اسی وجہ سے مسلمان بُرے شخص کا نام’’ حَسَن(یعنی اچھا)‘‘ اور گنہگار شخص کا نام’’ صالح (یعنی نیک)‘‘رکھنے کو جائز قرار دیتے ہیں اور اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ جب حضرت حزن [1]؎ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنا نام’’
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع