دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Naam Rakhnay Kay Ahkam | نام رکھنے کے احکام

book_icon
نام رکھنے کے احکام

        ایسے نام جن میں تزکیۂ نفس اور خود ستائی (یعنی اپنی تعریف) نکلتی ہے ، ان کو بھی حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بدل ڈالا بَرَّہ (نیک، صالحہ) کا نام زَینب(ایک حسین خوشبودار پودا) رکھااور فرمایا کہ ’’اپنے نفس کا تزکیہ نہ کرو ۔ ‘‘

 (مسلم، کتاب الاداب، باب استحباب تغییر الاسم القبیح، ص۱۱۸۲، حدیث : ۲۱۴۲ ملخصًا)شمس الدین(دین کا سورج)، زین الدین(دین کی زینت)، محی الدین(دین کو زندہ کرنے والا)، فخر الدین(دین کا فخر)، نصیر الدین(دین کا مدد گار)، سراج الدین(دین کا چراغ)، نظام الدین(دین کا نظام)، قطب الدین (دین کا محورومرکز)وغیرہا اسما جن کے اندر خود ستائی اور بڑی زبردست تعریف پائی جاتی ہے نہیں رکھنے چاہئیں ۔  رہا یہ کہ بزرگانِ دین وائمہ سابقین کو ان ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ! تو یہ جاننا چاہیے کہ ان حضرات کے نام یہ نہ تھے بلکہ یہ ان کے اَلقاب ہیں کہ جب وہ حضرات مَراتبِ عِلِّیَہ(بلند مرتبے ) اور مَناصبِ جَلیلہپر فائز ہوئے تو مسلمانوں نے ان کو اس طرح کہا اور یہاں ایک جاہل اور اَن پڑھ جو ابھی پیدا ہوا اور اس نے دین کی ابھی کوئی خدمت نہیں کی اتنے بڑے بڑے الفاظِ فَخِیْمَہ(وزنی الفاظ) سے یاد کیا جانے لگا ۔  امام مُحَیُّ الدِّیْن نَوَوِی  رَحِمَہُ اللّٰہ تعالٰیباوجود اس جلالتِ شان کے ان کو اگر مُحَیُّ الدِّیْن(دین کو زندہ کرنے والا) کہا جاتا تو انکار فرماتے اور کہتے کہ جو مجھیمُحَیُّ الدِّیْننام سے بلائے اس کو میری طرف سے اجازت نہیں ۔  (بہار شریعت، ۳ / ۶۰۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرِاہلِ سنت کا خود کو فقیرِ اہلسنّت کہنا

             بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہکو لوگ ’’امیرِ اَہلسنّت ‘‘کہتے ہیں لیکن آپ مدظلہ العالی بطورِ عاجزی خود کو ’’ فقیرِ اَہلسنّت‘‘ کہتے ہیں اور اس کی وضاحت یوں فرماتے ہیں کہ’’ میں اَہلسنّت میں نیکیوں کے معاملے میں سب سے زیادہ مفلس ہوں ۔ ‘‘حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ دامت برکاتہم العالیہ کی حکمت و تربیت نے لاکھوں بد کاروں کو نیکوکار بنا دیا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بُرَّہ نام تبدیل کرکے جُوَیْرِیَہ رکھا

          حضرتِ سیِّدَتُناجویریہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کا نام پہلے  بُرَّہ(نیکی کرنے والی ) تھاسرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کا نام بدل کر جُوَیریہ رکھ دیا ، آپ ناپسند کرتے تھے کہ یوں کہا جائے : خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بُرَّۃیعنی فلاں برہ کے پاس سے چلا گیا ۔

(مسلم، کتاب الآداب، باب استحباب تغییر الاسم القبیح الی حسن، ص۱۱۸۲، حدیث : ۲۱۴۰)

          قاضی سلیمان بن خلف الباجیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی فرماتے ہیں :  کسی نام کے ممنوع ہونے کی دو وجوہات ہوتی ہیں یا تو اس میں تزکیۂ نفس ہوگا یا اس کے لفظ میں کوئی خرابی پائی جاتی ہو گی جیسا کہ ’’خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بُرَّۃ یعنی فلاں برہ کے پاس سے چلا گیا‘‘میں ہے  ۔ (المنتقی شرح مؤطا امام مالک، کتاب الجامع، باب مایکرہ من الاسماء، ۹ / ۴۵۵، ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جن ناموں میں کم تزکیہ ہو وہ رکھ سکتے ہیں

          رُوح المعانی میں ہے  : ظاہر یہ ہے کہ جن ناموں میں تزکیہ ہوتا ہے وہ مکروہ اس صورت میں ہوں گے جب کہ ان میں تزکیہ بہت زیادہ محسوس ہو مثلا جب نام کی حدیث میں ممانعت آئی اس سے پہلے بھی تزکیہ پر اس کی دلالت واضح ہواوروہ تزکیہ کے معنی میں استعمال ہوتاہولہٰذا جن ناموں میں تعریف بہت زیادہ محسوس نہ ہو جیسا کہ سعید(بَرَکت والا، سعادت مند ، یہ ایک صحابی کا نام بھی ہے ) اور حَسَن(اچھا، جو نواسۂ رسول کا نام ہے ) تو ایسے نام رکھنا مکروہ نہیں ۔ (تفسیر روح المعانی، جزء۲۷، ص۹۱)

          اس طرح کے کئی نام ہیں جو حضورِ انور صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے رکھے حالانکہ ان میں تزکیہ کا پہلو پایا جاتا ہے ، چنانچہ   {۱} حضور اقدس صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمنے حضرت سیِّدُنا ابو اُمامہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو گھٹی دی، ان کا نام ان کے نانا حضرت اَسعد بن زُرَارَہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے نام پر اَسعد رکھا ، ان کی کنیت بھی نانا کی کنیت پر رکھی اور انہیں بَرَکت کی دعا دی ۔ حضرت ابو اُمامہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۱۰۰ ھ میں 92 سال سے زیادہ عمر پا کر فوت ہوئے  ۔ (الاستعیاب،

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن