30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{۲۵}حضرتِ سیِّدُناعبد العزیز بن بَدْر بن زید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ صحابی ہیں ، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کی خدمت میں اپنی قوم کے قاصد بن کر آئے ، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ عَرْض کی : عبدُ الْعُزَّی(عزی ’’کفار کے بت کانام ‘‘ کا بندہ) ۔ سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے آپ کا نام بدل کر ’’عبدُ الْعَزِیْز‘‘ (غالب وطاقتور کا بندہ)رکھ دیا ۔ (الاستیعاب، ۳ / ۱۲۷، رقم : ۱۷۱۹)
{۲۶}حضرتِ سیِّدُنااَبُوالْمُطَرِّف سُلَیْمَان بِن صَرَد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا نام قبل از اسلام یَسَار (خوشحالی ، فراخی)تھا ، رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ و سَلَّم نے آ پ کا نام سلیمان رکھا ۔ (الاستیعاب، ۲ / ۲۱۰، رقم : ۱۰۶۱)
{۲۷}حضرتِ سیِّدَتُنا حَسَّانَہ مُزَنِیَّہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کا نام جَثَّامَہ(سست وکاہل) تھا، آپ اُمُّ المومنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃُ الْکُبْرٰی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کی سہیلی تھیں ، صاحِبِ معراج صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمنیحَسَّانَہ(بہت حسین وجمیل ) نام عطا فرمایا ۔ (اسدالغابۃ، ۷ / ۷۳، رقم : ۶۸۴۲)
{۲۸} حضرتِ سیِّدَتُنا عُنْقُوْدَہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کا نام عِنَبَہ(انگور) تھا، مالک کوثر و جنت، محبوبِ رب العزت صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمنے ان کا نام ’’عُنْقُوْدَہ‘‘(خوشۂ انگور) رکھا ۔ (اسدالغابۃ، ۷ / ۲۲۶، رقم : ۷۱۴۷)
{۲۹}حضرتِ سیِّدَتُنامُطِیْعَہ بِنْت نُعْمَان بِنْ مَالِکرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کا نام عَاصِیَہ(نافرمان) تھا، رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کا نام ’’مُطِیْعَہ‘‘(فرمانبردار) رکھا ۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ۸ / ۲۶۴، رقم : ۴۳۸۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نام شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ میرے دادا رسولِ اکرم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ سرکارِ عالی وقار صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نے پوچھا : تمہارا کیا نام ہے ؟ انہوں نے کہا : حَزْن ۔ فرمایا : ’’تم سہل ہو ۔ ‘‘ انہوں نے جواب دیا : جو نام میرے باپ نے رکھا ہے ، اسے نہیں بدلوں گا ۔ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماکہتے ہیں : اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم میں اب تک سختی پائی جاتی ہے ۔ (بخاری، کتاب الادب، باب تحویل الاسم ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۱۵۳، حدیث : ۶۱۹۳)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان نے اِس حدیثِ پاک کے تحت جو وضاحت فرمائی ہے ، اس سے حاصل ہونے والے مَدَنی پھول پیشِ خدمت ہیں : ٭’’حَزْن‘‘ ’’ح‘‘ کے فتحہ سے سخت زمین اور سخت دل انسان ۔ ’’حُزْن‘‘ ’’ح‘‘ کے پیش سے رنج و غم ۔ ’’سَہْل‘‘ ’’سین‘‘ کے فتحہ ’’ہ‘‘ کے سکون سے ، نرم زمین اورنرم دل انسان ۔ آسانی و نرمی کو بھی ’’سہل‘‘ کہتے ہیں ، چونکہ حزن کے معنی اچھے نہیں اس لیے آپ (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم)نے تبدیلی نام کا مشورہ دیا ۔ ٭خیال رہے کہ یہ حضور (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم) کا مشورہ تھا اَمْر(یعنی حکم) نہ تھا ۔ اس لیے حضور (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم)نے کچھ ارشاد نہ فرمایا ۔ حضور(صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم) کا مشورہ قبول کرنامستحب ہے واجِب نہیں ، لہٰذا اس عَرْض پراعتراض نہیں ۔ ٭ حزن (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) کے بیٹے مسیب (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) ہیں اور مسیب (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) کے بیٹے سعید بن مسیب (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما) ہیں ، سعید (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) کہتے ہیں کہ دادا کا اثر ہم پوتوں تک باقی رہا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بُرے ناموں کا بُرا اثر ہوتا ہے اور کبھی ایک شخص کی غلطی سے پورے خاندان پر بُرا اثر ہوتا ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۴۲۴، ۴۲۵)
مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی مندرجہ بالا حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : ’’حضورِ اقدسصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا یہ نام بدلنا اِستحباباً (یعنی بطور مستحب ) تھا اور تفاؤل (نیک فال) کے طور پر تھا ۔ کسی کا نام رکھنے میں لغوی معنی کے ساتھ مناسبت کا لحاظ نہیں ہوتااور اس واقعہ میں حضورِ اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی بات نہ ماننے کا اثر پڑا ۔ ‘‘(نزہۃ القاری ، ۵ / ۵۹۳ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جن ناموں سے اپنی تعریف نکلتی ہو وہ نہ رکھے جائیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع