30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
راشد(ہدایت یافتہ) رکھا ۔ (اسدالغابۃ، ۲ / ۲۲۱، رقم : ۱۵۷۰)
{۱۳}حضرتِ سیِّدُنااَبُومُکْنِفْ زید الخیر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا نام ’’زید الخیل‘‘ (بڑائی، خود پسندی میں بڑھنے والا)سے بدل کر ’’زید الخیر‘‘ (بھلائی اور نیکی میں بڑھنے والا) رکھا ۔ (الاستیعاب، ۲ / ۱۲۷، رقم : ۸۶۶)
{۱۴}حضرتِ سیِّدُناسَعْد بِن قَیس عَنَزِی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ عَرْض کی : سعد الخیل(گھوڑوں میں بَرَکت والا) فرمایا : بلکہ تم سعد الخیر (نیکی میں بَرَکت والا) ہو ۔
(الاصابۃ، ۳ / ۶۰، رقم : ۳۱۹۹)
{۱۵} ابو داوٗد شریف میں ہے ایک صاحب کا نام حرب (جنگ)تھا، سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مدد گار صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے ان کا نام سَلْم (امن)رکھا ۔ ( ابو داوٗد، کتاب الادب، باب فی تغییرالاسم القبیح، ۴ / ۳۷۶، حدیث : ۴۹۵۶)
{۱۶} غزوئہ خندق کے موقع پر نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے خندق کی کھدائی لوگوں میں بانٹ دی، آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم بھی ان کے ساتھ مصروف کار رہے ، ان صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہممیں جُعَیْل(بد شکل اور سیاہ آدمی) نامی ایک صاحب بھی تھے ، جنا ب رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے ان کا نام ’’عَمْرو‘‘ رکھا ۔ (اسدالغابۃ، ۱ / ۴۲۵، رقم : ۷۶۶)
{۱۷}حضرتِ سیِّدُناشَرِیْد بِن سُوَید ثَقَفِیّ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکا نام مالک(ملکیت والا) تھا، شاہِ بنی آدم، نبیِّ مُحتَشَم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے بدل کر شَرِیْد(دوڑ کر آنے والا) رکھا، بیعتِ رضوان کے شرکاء میں سے ہیں ۔ (اسد الغابۃ، ۲ / ۵۹۹، رقم : ۲۴۳۰)
{۱۸} حضرتِ سیِّدُناابو عبد اللّٰہ کَثِیْربِن صَلْت بِن مَعْدِیْکَرِب کِنْدی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کے عہد مبارک میں پیدا ہوئے ، آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا نام قلیل تھا، نَبِیِّ مُعَظَّم، رَسُولِ مُحتَرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمنے آپ کا نام کثیر رکھا ۔ (اسدالغابۃ، ۴ / ۴۸۵، رقم : ۴۴۲۴)
{۱۹} حضرتِ سیِّدُناعمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی بہن اُم ّعاصم کا نام عَاصِیَہ (نافرمان عورت، گنجان درخت) تھا، نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے ا ن کا نام جَمِیْلَہ (فضلِ خدا سے نیکیاں کرنے والی، خوبصورت) رکھا تھا ۔ (اسدالغابۃ، ۴ / ۴۸۵، رقم : ۴۴۲۴)
{۲۰} حضرتِ سیِّدُناکثیر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا نام قلیل (کوتاہ ودبلے جسم کا آدمی)تھا، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے ان کا نام کثیر (وافر، زیادہ)رکھا ۔ (اسدالغابۃ، ۴ / ۴۸۳، رقم : ۴۴۱۹)
{۲۱}حضرتِ سیِّدُنامسلم بن عبد اللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے نام دریافت فرمایاتو عَرْض کی : شِہَاب (آگ کا شعلہ)بن خَرُفَہ ۔ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ( ان کا اور ان کے والد کا نام تبدیل کر دیا اور) ارشاد فرمایا : تم مُسلِم (سلامتی والے )بن عبد اللّٰہ ہو ۔ (اسدالغابۃ، ۲ / ۶۱۰، رقم : ۲۴۵۳)
{۲۲}حضرتِ سیِّدُنامُطِیْع بِنْ اسد بن حارثہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا نام عاص (نافرمان)تھا، شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے آپ کا ناممُطِیْع(فرمانبردار)رکھا ۔ (مسندامام احمد، حدیث مطیع بن اسود، ۵ / ۲۵۳، حدیث : ۱۵۴۰۸)
{۲۳}حضرتِ سیِّدُناابنِ عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کے پاس ایک صاحب آئے ، آپ نے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ وہ بولے : نَکِرَہ(اجنبی) ۔ آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا : بلکہ تم معروف (مشہور)ہو ۔ (الاصابۃ، ۶ / ۱۴۲، رقم : ۸۱۵۲)
{۲۴}حضرتِ سیِّدُنامُہَاجِرْبِنْ اَبُواُمَیَّہ بِن مُغِیْرَہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ صحابی ہیں ، اُمُّ المومنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمّ سلمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کے سگے بھائی تھے ، آپ کا نام ولید (ابھی ابھی پیدا شدہ، نوکر) تھا ۔ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع