دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Naam Rakhnay Kay Ahkam | نام رکھنے کے احکام

book_icon
نام رکھنے کے احکام

اچھے نام والے سے کام لیا

           سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک دن ایک اونٹنی منگوائی اور فرمایا :  اسے کون دَوہے (یعنی دودھ نکالے )گا؟ایک شخص نے عَرْض کی :  میں ۔  دریافت فرمایا :  تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا :  مُرَّۃٌٌ(یعنی کڑوا) ۔  فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ۔  ایک اور شخص کھڑا ہوا ۔  نام پوچھا تو اس نے اپنا نام جَمْرَۃٌ (یعنی انگارہ) بتایا ۔  اسے بھی بیٹھنے کا ارشاد فرمایا ۔  اب حضرت سیِّدُنا یَعِیشغِفاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ کھڑے ہوئے اور دریافت کرنے پر اپنا نام یَعِیْش (یعنی زندگی گزارنے والا) بتایا تو ارشاد ہوا :  تم اونٹنی کو دَوہو(یعنی اس کا دودھ نکالو) ۔  (المعجم الکبیر، ۲۲ / ۲۷۷، حدیث :  ۷۱۰)

          قاضی سلیمان بن خلف الباجیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی فرماتے ہیں :  نبی پاکصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دو افراد کو اونٹنی کا دودھ دوہنے سے روک دیا اور یَعِیْش نام کے شخص کو اس کی اجازت عطا فرمائی تویہ بد شگونی کے باب سے نہیں ہے یہ تو صرف نام کو اچھا یا برا جاننے کے معنی میں ہے  ۔ اچھا نام پسند کرنا ایسے ہی ہے جیسے بدصورت عورت پر خوبصورت کوپسند کرنا، میلے کپڑوں کے مقابلے میں صاف ستھرے کپڑوں کو اِختیار کرنا اور جمعہ اور عیدوں میں اچھی ہیئت اور عمدہ خوشبو پسند کرناتو معلوم ہوا کہ اسلام خوبصورتی کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ تو زینت اختیار کرنے کو جائز قرار دیتا ہے اورناموں وغیرہ میں عمدگی کو پسند کرتا ہے  ۔ (المنتقی  شرح مؤطا امام مالک، ۹ / ۴۵۷، ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 نام تبدیل فرما دیا کرتے

          کثیر احادیث سے ثابت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بہت سے نام تبدیل فرمادئیے ، چنانچہ حضرت سیِّدُنا عُتبہ بن عبد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں  : نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کے پاس جب کوئی ایسا شخص آتا جس کا نام آپ کو ناپسند ہوتا، آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم اس کا نام تبدیل فرما دیتے تھے  ۔ (جمع الجوامع، ۵ / ۴۲۱، حدیث : ۱۶۱۵۱)عظیم محدِّث حضرتِ امام ابوداوٗد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں  : سرکارِ مدینۂ منورہ  صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمنے عَاص(گنہگار)،  عَزِیْز(غالب، طاقتور) ، عَتَلَۃ(شدت اور سختی) ، شَیْطَان(ہلاک ہونے والا، بھلائی سے دور) ، حَکَم(دائمی حکومت والا)، غُرَاب(کوا، دور نکل جانے والا) اورحُبَاب(شیطان کا نام، سانپ کی ایک قسم) کے نام تبدیل فرما دیئے ، شِہَاب(آگ کا شعلہ) کا نام ھِشَام(سخاوت)، حَرْب(جنگ) کا نام  سَلْم(صلح)اورمُضْطَجِع(لیٹنے والا) کانام مُنْبَعِث(اٹھنے والا)رکھا ۔ (ابو داوٗد ، کتاب الادب، باب فی تغییرالاسم القبیح، ۴ / ۳۷۶، تحت الحدیث : ۴۹۵۶)

           مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں  : کیونکہ عَاص مخفَّف ہے عاصی کا، جس کے معنٰی ہیں گنہگار، اِطاعتِ اِلٰہی سے علیٰحدہ، یہ مؤمن کی شان نہیں ، مؤمن اِطاعت شِعار ہوتا ہے  ۔ عَتَلَہ بنا ہے عَتْلٌ سے بمعنٰی سختی، شدّت، ربتَعَالٰی عَزَّوَجَلَّفرماتاہے : عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ(۱۳) (ترجمہ کنز الایمان : درشت خُو اس سب پر طُرّہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا(پ۲۹، القلم : ۱۳))، اب ایک مضبوط اوزار کو عَتَلَہ کہتے ہیں جس سے دیوار وغیرہ کھودی جاوے (یعنی کُدال) مسلمان سخت نہیں ہوتا، نیز عَزِیْز اَسماء الٰہیہ میں سے ہے ، عزت سے بنا ہے ، مسلمان میں فروتنی عجز و نیا زچاہیے  ۔ شَیْطَان لقب ہے ابلیس کا، بنا ہے شَیْطٌ سے بمعنٰی جلنا، ہلاک ہونا یا شَطْنٌ سے بمعنٰی بھلائی سے دوری ۔ حَکَم صفتِ مشَبّہ حکومت یا حُکُم کابمعنٰی دائمی حکومت والا، یہ رب تَعَالٰی عَزَّوَجَلّکی صفت ہے  ۔ غُرَاب بنا ہے غُرْبٌ سے بمعنٰی دُوری، یہ نام ہے کوے کا کہ وہ بہت دور نکل جاتا ہے  ۔ حُبَاب شیطان کا نام بھی ہے اور ایک قسم کے سانپ کو بھی کہتے ہیں لہٰذا یہ نام بھی منحوس ہے اور شِہَاب آگ کے شعلہ کو بھی کہتے ہیں اور ٹوٹے ہوئے تارے کو بھی جس سے شیاطین کو بھی مارا جاتا ہے مگر یہاں ’’ مرقات‘‘ نے فرمایا کہ اگر شہاب کو دین کی طرف مضاف کردیا جائے اور نام ہو شِہَابُ الدِّیْن توکراہت قطعًا نہیں بلاکراہت جائز ہے (مرقاۃ، ۸ / ۵۳۰)، کہ اب یہ فاسد معنی نکل گئے (اور معنی ہوگئے ) چمکدار، لہٰذا کراہت نہ رہی ۔ (مراٰۃُ المناجیح، ۶ /  ۴۲۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بُرے نام کو بدل دیتے

           اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ  صِدِّیقہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ رحمتِ عالمیان صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بُرے نام کو بدل دیتے تھے  ۔

( ترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء في تغییر الاسماء، ۴ / ۳۸۲، حدیث : ۲۸۴۸)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن