30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُبْحٰن اللّٰہ!درُود شریف پڑھنے والا کس قدر خوش نصیب ہے کہ اُس کا نام مع ولدِیّت بارْگاہ ِ رِسالت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں پیش کیا جاتا ہے ۔
بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سرکارِ مدینہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلّم نام پوچھا کرتے
سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب کسی کو عامِل(زکوٰۃ وعُشْر وغیرہ حاصل کرنے والا ذمّہ دار) بنا کر بھیجتے تو اُس کا نام پوچھتے ، اگر اس کا نام آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو پسند آتا تو خوش ہوتے اور اس کی خوشی آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے چہرے پردیکھی جاتی اور اگر اس کا نام ناپسند ہوتا تو اس کی ناپسندیدگی آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے چہرے پر دیکھی جاتی ۔ ( ابو داوٗد، کتاب الطب، باب فی الطیرۃ، ۴ / ۲۵، حدیث : ۳۹۲۰)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : اس لئے علماء فرماتے ہیں کہ اپنی اولاد کے نام اچھے رکھو، نام کا اثر نام والے پر پڑتاہے ۔ بُرے نام والے کو لوگ اپنے پاس نہیں بیٹھنے دیتے ۔ اچھے نام والے کے کام بھی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اچھے ہوتے ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۲۶۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نام کسی بھی آدمی کی شخصیت کا اہم حصہ ہوتا ہے جس سے وہ پہچانا اور پُکارا جاتا ہے ۔ گھر ، خاندان ، محلے ، اسکول ، مدرسے ، جامِعہ ، بازار اور دفتر میں نام ہی اس کی شناخت ہوتا ہے جس طرح کہ کتاب کا نام اس کی شناخت ہوتا ہے ۔ کئی مرتبہ نام گھریلو ماحول اور تہذیبی روایات کی عَکاسی بھی کرتا ہے ۔ نام اچھا ہوتو انسان کا ضمیر اُسے کام بھی اچھا کرنے کی ترغیب دیتا رہتا ہے ۔ بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کا نام رکھنے کے لئے غوروفکر شروع ہوجاتا ہے ، ایسے میں باپ کو چاہیے کہ اپنے بچے کا اچھا نام رکھے کہ یہ اس کی طرف سے اپنے بچے کے لئے پہلا اور بنیادی تحفہ ہوتاہے جسے بچہ عمر بھر اپنے سینے سے لگائے رکھتا ہے ۔ سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : اَوَّلُ مَا یُنْحِلُ الرَّجُلُ وَلَدَہٗ اِسْمُہٗ فَلْیُحْسِنْ اِسْمَہٗ یعنی آدمی سب سے پہلا تحفہ اپنے بچے کو نام کا دیتا ہے اس لئے چاہئے کہ اُس کا نام اچھا رکھے ۔ (جمع الجوامع، ۳ / ۲۸۵، حدیث : ۸۸۷۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوتو مبارکباد دینے کے بعد والدین سے عموماًیہی سوال ہوتا ہے کہ نام کیا رکھا؟بسااوقات بچے کا والداپنے دوست احباب اور رشتے داروں سے پوچھتا دکھائی دیتا ہے کہ نام کیا رکھیں ؟
نام کیسا ہوناچاہئے ؟ نام کون رکھے ؟کونسانام رکھنا افضل ہے ؟ کونسے نام رکھنا ناجائز ہے ؟کسی کا نام بگاڑنا کیسا؟کنیت کسے کہتے ہیں ؟ کنیت رکھنے کی کیا اہمیت ہے ؟ لقب کیا ہوتا ہے ؟زیرِ نظر کتاب’’نام رکھنے کے احکام‘‘ (جس کا نام شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے عطافرمایا ہے ) اس کتاب میں اسی نوعیت کی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، بچوں اور بچیوں کے نام رکھنے کے لئے 538اچھے ناموں کی فہرس بھی شاملِ کتاب ہے ۔ اس کتاب کو خوب سمجھ کر کم از کم تین مرتبہ پڑھئے اوردوسروں کو بھی پڑھنے کی ترغیب دیجئے ۔
(شعبہ اصلاحی کتب مجلس المدینۃ العلمیۃ )
قیامت کے دن نام سے پُکارا جائے گا
نام کا تعلق صرف دُنیاوی زندگی تک نہیں بلکہ جب میدانِ حشر قائم ہوگا تو انسان کو اسی نام سے مالکِ کائنات عَزَّوَجَلَّکے حضوربلایا جائے گاجس نام سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع