30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لکھنے میں یاد آنے پر ہم قافِیہ الفاظ استعمال کرنے سے تحریر وتقریر میں کشش پیدا ہوتی ہے مَثَلاًحضرتِ سیِّدُناعلامہ شامی کے ساتھ’’قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی‘‘ اورسَیِّدُنا شیخ عبد الحق مُحدِّث دِہلوی کے ساتھ’’ علیہ رحمۃُاللّٰہِ الْقَوِی‘‘ ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۵)علمائے کرام ومفتیان عظام کثَّرھُمُ اللّٰہُ السَّلامکو پکارنا
علمائے کرام ومفتیانِ عِظام اور قابلِ احترام دینی شخصیات سے ہم کلام ہونے اور ان کا تذکرہ کرنے میں بھی ادب واحترام کو ملحوظ رکھنا از حد ضروری ہے مثلاًیوں کہہ کر مخاطب کیجئے : حضرت ! حضور! جناب وغیرہ ، جس شخصیت کا لقب مشہور ہو اسے اس لقب سے بھی پُکارا اور لکھا جاسکتا ہے جیسے میرے آقاحضرت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا مشہورلقبِ مبارک ’’اعلیٰ حضرت‘‘ ہے ، شہزادہ اعلیٰ حضرت حضرت علامہ مفتی مصطَفٰے رضا خان کا لقب ’’مفتیٔ اعظم ہند‘‘ مفتی احمد یار خان کا لقب ’’حکیم الامت ‘‘ اسی طرح بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہکا مشہور لقب ’’امیرِ اہلسنّت‘‘ ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶)دینی اساتذہ کو پکارنا
دینی استاذ رُوحانی باپ ہوتا ہے اس لئے ان کو بھی تعظیمی انداز سے استاذِ محترم ، استاذ صاحب ، یا اُستاذی کہہ کر پکارنا اور لکھنا چاہئے ۔ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : عِلْم حاصل کرو اور عِلْم کے لئے بردباری ووقار سیکھو، اور جس سے عِلْم حاصل کررہے ہو اس کے سامنے عاجزی وانکساری اختیار کرو ۔ (المعجم الاوسط، ۴ / ۳۴۲، حدیث : ۶۱۸۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷)ساداتِ کرام کو پکارنا
حضرتِ مولانا نُور محمد علیہ رحمۃُاللّٰہِ الصَّمَد اور حضرت مولانا سیِّد قَنَاعت علی علیہ رحمۃُاللہِ القَوِی یہ دونوں حضرات، مجددِ دین وملت، اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت جیسے سچے عاشقِ رسول کی صحبتِ بابَرَکت میں رہ کر علمِ دین کی دولتِ بے بہا حاصل کر رہے تھے ۔ ایک مرتبہ مولانا نور محمدعلیہ رحمۃُاللّٰہِ الصَّمَدنے سید صاحب کا نام لے کر اس طرح پکارا : ’’ قناعت علی ، قناعت علی ! ‘‘ جب سیِّدُالسَّادات علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عاشقِ صادِق کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو گوارانہ کیا کہ خاندانِ رسول کے شہزادے کو اس طرح نام لے کر پکارا جائے ۔ فوراََ مولانانُور محمد صاحب کوبلوایا اور فرمایا : ’’کیاسیِّد زادوں کو اس طرح پکارتے ہیں ! کبھی مجھے بھی اس طرح پکارتے ہوئے سنا؟ (یعنی میں تو استاذ ہوں پھر بھی کبھی ایسا انداز اختیار نہیں کیا)‘‘ یہ سن کرمولانانورمحمد صاحب بہت شرمندہ ہوئے اور نَدامت سے نگاہیں جھکا لیں ۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّتنے فرمایا : ’’جائیے ! آئندہ خیال رکھئے گا ۔ ‘‘ (حیات ِ اعلیٰ حضرت، ۱ / ۱۸۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مدینے والے آقا ، دو عالَم کے داتا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے شہزادوں کو ادب سے پکارنا چاہئے ، بعض علاقوں میں سیِّدزادوں کو ’’شاہ صاحب ، شاہ جی‘‘ جبکہ باب المدینہ کراچی اور دیگر بعض جگہوں پر ’’باپُو‘‘کہہ کربلایا اورلکھا جاتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۸)بوڑھے اسلامی بھائیوں کو پکارنا
اسلام ایک کامِل واَکمل دین ہے جو ہمیں بُزُرگوں کا اِحترام سکھاتا ہے ۔
سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو نوجوان کسی بزرگ کے سِن رَسِیدہ (یعنی بوڑھے )ہونے کی وجہ سے اس کی عزت کرے تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کے لئے کسی کو مقرر کردیتا ہے جو اس نوجوان کے بڑھاپے میں اس کی عزت کرے گا ۔
(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی اجلال الکبیر، ۳ / ۴۱۱، حدیث : ۲۰۲۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع