30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعرف اسمہ، ص ۲۳۱ملخصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مسلمان چاہے وہ ہم سے بڑے ہوں یا چھوٹے ، ان کو پکارنے ، ذکر کرنے میں ان کے مقام ومرتبے کا خیال رکھا جائے اور اسی مناسبت سے اَلفاظ اور اَلقاب کا اِنتخاب کیا جائے ۔ سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : فَلَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَلَمْ یُوَقِّرْ کَبِیْرَ نَاجو ہمارے چھوٹے پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑے کی تعظیم نہ کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ۔ (ترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی رحمۃ الصبیان، ۳ / ۳۶۹، حدیث : ۱۹۲۶)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان لکھتے ہیں : یعنی ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں ، یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری امت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ۔ (مراۃ المناجیح، ۶ / ۵۶۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جنت میں مَدَنی آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رفاقت پانے کا نُسخہ
حضرت سیِّدُنااَنس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : اے اَنس ! بڑوں کا ادب و احترام اور تعظیم وتوقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو ، تم جنت میں میری رفاقت پالو گے ۔ (شعب الایمان، باب فی رحم الصغیر، ۷ / ۴۵۸، حدیث : ۱۰۹۸۱)
ایک مسلمان کواپنی زندگی میں جن شخصیات کا ذکر کرنے اور پکارنے کی ضرورت پڑتی ہے ان کو11 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے : (۱)سرکارِ مدینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم(۲)دیگر انبیام ئے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام(۳)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان(۴) بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین (۵)علمائے کرام ومفتیان عظام (۶)دینی اساتذہ (۷)سادات کرام (۸)بوڑھے اسلامی بھائی (۹) ماں باپ (۱۰)رشتے دار (۱۱) ہم عمر اسلامی بھائی ۔ ان سب کو پکارنے کی تفصیل یہ ہے :
(۱)سرکارِ مدینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو پکارنا
اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب، طبیبوں کے طبیبصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو پکارنے ، ان کا ذکر کرنے کا ادب ہمیں قراٰن مجید سے سیکھنے کو ملتا ہے چنانچہ پارہ 18سورۂ نور کی آیت 63میں ارشاد ہوتا ہے :
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- (پ۱۸، النور : ۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان : رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلمکو نِدا کرے تو ادب و تکریم اور توقیر و تعظیم کے ساتھ آپ کے معظّم القاب سے نرم آواز کے ساتھ متواضعانہ و منکسرانہ (یعنی عاجزی بھرے )لہجہ میں ’’یَانَبِیَّ اﷲ، یَارَسُوْلَ اﷲ، یَاحَبِیْبَ اﷲ ‘‘کہہ کر ۔ (خزائن العرفان، ص۶۶۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَانکا پکارنے کاانداز
صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضوَانجب رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہم کلام ہوتے تو یوں عَرْض کیاکرتے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع