30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اپنے بچوں کے لئے کم عمری میں ہی کوئی اچھی کنیت رکھ دی جائے ۔ بعض اوقات ایک ہی نام کئی افراد میں مشترک ہوتا ہے اور اس صورت میں لوگ ایسے شخص کو بلانے کے لئے کوئی نہ کوئی لقب رکھ دیتے ہیں جو کہ اکثر بُرا ہوتا ہے ۔ بچے کی کنیت رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ جب وہ بڑا ہوگا تو یہ کنیت اسے بلانے او رپکارنے کے لئے استعمال ہوگی اور کوئی اس کا بُرا لقب نہیں رکھے گا ۔ (فیض القدیر، ۳ / ۲۵۱، تحت الحدیث : ۳۱۱۶، ملخصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدُناخِضْرعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی کنیت’’ اَبُو الْعَبَّاس‘‘ ، نام ’’بَلْیَا‘‘، والد کا نام’’ مَلْکَان ‘‘جبکہ لقب’’ خِضْر‘‘ہے جس کے معنی ہیں سبز چیز ۔ حضرتِ سیِّدُنا خِضْر عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام جہاں تشریف فرماہوتے وہاں آپ کی بَرَکت سے ہری ہری گھاس اُگ جاتی تھی اس لئے لوگ آپ کوخِضْرکہنے لگے ۔
بعض عارفین نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان حضرتِ سیِّدُناخِضْرعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکا اور ان کے والد کا نام ، آپ کی کنیت اور لقب(یعنی اَ بُو الْعَبَّاس بَلْیَابِنْ مَلْکَان اَلْخِضْر)یاد رکھے گا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کا خاتمہ ایمان پر ہو گا ۔ (صاوی، ۴ / ۱۲۰۷ ، پ۱۵، الکہف : ۶۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کنیت شریعت کے مطابق ہونی چاہیے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ایک مسلمان کے لئے زندگی کے دیگر معاملات کی طرح کنیت رکھنے میں بھی شریعت کا پاس رکھنا ضروری ہے کیونکہ بعض کنیتیں ایسی بھی ہیں جو شرعاً ممنوع ہیں ۔ جس طرح ہمارے مَدَنی آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بہت سے نام تبدیل فرمائے اسی طرح بعض کنیتوں کو بھی تبدیل کیا چنانچہ حضرتِ سیِّدُناہانی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ اپنی قوم کے ہمراہ رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں اَ بُوالْحَکَمکہہ کر بلاتے ہیں ۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں بلا کر ارشاد فرمایا : بے شک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہی حَکَمْ(یعنی فیصلہ فرمانے والا) ہے اور حُکْم کا اختیار اسی کوہے ، تمہاری کنیت اَ بُوالْحَکَم کیوں ہے ؟انہوں نے عَرْض کیا : جب میری قوم کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو وہ لوگ میرے پاس آتے ہیں اور میں جو فیصلہ کردوں وہ ا س پر راضی ہوجاتے ہیں ۔ سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا : یہ بہت اچھاہے ، کیا تمہارا کوئی بیٹا ہے ؟ عَرْض گزار ہوئے : شُرَیْح ، مُسْلِم اورعبداللّٰہ ہیں ۔ ارشاد فرمایا : ان میں سے بڑا کون ہے ؟میں نے عَرْض کی : شُرَیْح ۔ فرمایا : تو پھر تمہاری کنیت اَ بُوشُرَیْح ہے ۔ (ابوداود، کتاب الادب، باب فی تغییر الاسم القبیح۴ / ۳۷۶، رقم : ۴۹۵۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بڑے بیٹے یا بیٹی کے نام پر کنیت اختیار کرنا بہتر ہے
شرح السنّہ میں ہے : بہتر یہ ہے کہ مرد اپنے بڑے بیٹے کی نسبت سے کنیت رکھے ، اگر بیٹا نہ ہو تو بڑی بیٹی کی نسبت سے ، یونہی عورت کو چاہیے کہ اپنے بڑے بیٹے کی مناسبت سے کنیت اِختیار کرے اور اگر بیٹا نہ ہو تو بڑی بیٹی کی نسبت سے ۔ (شرح السنۃ، کتاب الاستئذان، باب تغییر الاسماء، ۶ / ۳۹۴) چھوٹے بیٹے یا بیٹی کے نام سے کنیت اختیار کرنے میں بھی حرج نہیں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی کنیت
حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی ایک کنیت ’’ابو محمد‘‘ ہے ، اس کا سبب بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت ، امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰننَقْل فرماتے ہیں : امام قَسْطَلانی مَوَاہِبِ لَدُنِّیَہ ومِنَحِ مُحَمَّدِیَّہ میں رسالہ میلاد وامام علامہ اِبْنِ طُغْرُبَکْ سے ناقل، مَرْوِی ہوا : آدم علیہ الصلٰوۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع