30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیمکو تمام ناموں میں سب سے زیادہ محبوب اَ بُوتُرَاب تھااو ر جب انہیں اَبُوتُرَاب کہہ کر پکارا جاتا تو بہت خوش ہوتے تھے ۔ ( بخاری، کتاب الادب، باب التکنی بابی تراب وان کانت لہ کنیۃ اخری، ۴ / ۱۵۵، حدیث : ۶۲۰۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ابوذر(چیونٹیوں والا)
شارحِ بخاری شمس الدین محمد بن عمر بن احمد سفیری شافعی (المُتَوَفّٰی۹۵۶ھ) نَقْل کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا ابو ذر غفاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی کنیت ابوذَر اس لئے ہوئی کہ آپ کے پاس روٹی رکھی تھی کہ اچانک اس پر چیونٹیاں نمودار ہو گئیں ، آپ نے چیونٹیوں سمیت روٹی کا وَزْن کیا تو اس سے روٹی کے وزن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، آپ نے ارشاد فرمایا : ان چیونٹیوں کودیکھو!دنیا کے ترازو میں ان کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوااور پلڑا بھاری نہیں ہوالیکن آخرت کا میزان بڑا ہونے کے باوجودہلکاہے اور ایک چیونٹی کی وجہ سے بھی وزن بڑھ جاتاہے ، اس دن سے آپ کی کنیت ابوذَررکھ دی گئی ۔ (شرح البخاری للسفیری، ۲ / ۴۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دینِ اسلام میں کُنْیَت کی اہمیت کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ٭ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سمیت متعدد انبیام ئے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام، کثیر صحابہ وصحابیات عَلَیْہِمُ الرِّضوَان، لاتعداد علماء ، فقہاء، محدثین اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِیننے کنیت کو اِختیار فرمایا ۔ ٭مذکورہ شخصیات میں سے کثیر تعداد نے نہ صرف ایک بلکہ دو اور دو سے زیادہ کنیتیں بھی رکھیں ۔ ٭کئی صحابہ کرام ، صحابیات اور بزرگانِ دین کے اصل نام عام مسلمانوں کو معلوم ہی نہیں اور یہ حضرات نام کے بجائے اپنی کنیتوں سے مشہور ہیں ، مثلاً : حضرتِ سیِّدُناابوبکر(عبداللّٰہ بن عثمان)، حضرتِ سیِّدُناابوہُریرہ(عبدالرحمن)، حضرتِ سیِّدُنا ابوایوب انصاری(خالد بن زید)، حضرتِ سیِّدُناامام اعظم ابو حنیفہ( نُعمان بن ثابِت) ، حضرتِ سیِّدُنا امام ابوداؤد(سُلیمان بن اَشْعَث) وغیرہ رِضْوَانُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِم اَجمعین ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اولاد نہ ہونے کی صورت میں بھی کُنْیَت رکھنا
اگرچہ معروف یہی ہے کہ جس کی اولاد ہو وہی کنیت رکھتا ہے لیکن صاحبِ اولاد نہ ہونے کی صورت میں بھی کنیت رکھی جاسکتی ہے ۔ رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ایسے صحابہ کو بھی کنیت عطا فرمائی جن کی اس وَقْت اولاد نہ تھی، چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا حمزہ بن صُہَیْبرضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے حضرتِ سیِّدُنا صُہَیْب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ تم اپنی کنیت’’اَ بُو یَحْیٰی‘‘رکھتے ہو جبکہ ابھی تمہارے یہاں اولاد نہیں ہے ؟ حضرتِ سیِّدُنا صُہَیْب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے جواب دیا : سرکارِ مدینہصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ و اٰلہٖ وسلمنے میری کنیت’’اَ بُو یَحْیٰی‘‘رکھی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الرجل یکنی قبل ان یولد لہ، ۴ / ۲۲۰، حدیث : ۳۷۳۸)جبکہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعودرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ و اٰلہٖ وسلمنے ان کی اولاد ہونے سے پہلے ان کی کنیت’’اَ بُو عَبْدِ الرَّحْمٰن‘‘ رکھی ۔ (عمدۃ القاری، کتاب البر والصلۃ، باب الکنیۃ للصبی، ۱۵ / ۳۲۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اپنے بچوں کی کُنْیَت رکھیں
اپنے چھوٹے بچوں کی بھی کنیت رکھ دینی چاہئے ، چنانچہ حضرتِ سیِّدُنااَنَس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے ، کہتے ہیں : بَادِرُوا بِاَبْنَائِکُمُ الْکُنٰی، لَا تَلْزَمُھَا الْاَلْقَابیعنی : اپنے بچوں کی کنیت رکھنے میں جلدی کرو، کہیں اُن کے (بُرے ) القاب نہ پڑ جائیں ۔ (کنز العمال، کتاب النکاح، الباب السابع، ۸ / ۱۷۶، جزء۱۶، حدیث : ۴۵۲۲۲)
اس روایت کے تحت حضرت علامہ عبدالرؤف مناویعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے جو کچھ ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ پیش کرتا ہوں : اس روایت میں اس بات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع