30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُسے اس کے پسندیدہ نام سے بلاؤ ۔ (جمع الجوامع، ۴ / ۱۴۱، حدیث : ۱۰۸۱۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دینِ اسلام میں جس طرح ایک مسلمان کے لئے نام کی اہمیت ہے اور اچھے نام رکھنے کا حُکْم دیا گیا ہے اسی طرح کُنْیَت بھی اہمیت کی حامل ہے اور مسلمان کو کُنْیَت سے پکارنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ، چنانچہ حضرتِ سیِّدُناحَنْظَلَہ بِن حِذْیَمرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں : محبوبِ ربِّ ذوالجلال، صاحبِ جُود و نَوال صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّماس بات کو پسند فرماتے تھے کہ کسی شخص کو اس کے محبوب نام اور کُنْیَت سے بلایا جائے ۔
(جمع الجوامع، ۱۴ / ۳۳۸ ۔ ۳۳۹، حدیث : ۱۰۹۰۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اَلْکُنْیَۃُ مَا صَدَرَ بِاَبٍ اَوْ بِاُمٍ اَوْ اِبْنٍ اَوْ اِبْنَۃٍ کُنْیَت سے مرادوہ نام ہے جو’’ اَبْ، اُمْ، اِبْن‘‘ یا’’ اِبْنَۃْ‘‘ سے شروع ہو ۔ (التعریفات، ص۱۳۲)مثلاً ابوالقاسم، ابوبلال ، ابورجب اور ابنِ احمد وغیرہ
مرد کی کُنْیَت میں ’’اَ بُو‘‘ کا لفظ آتا ہے ، اگرچہ’’ اَبْ‘‘ کا لغوی معنی باپ ہے لیکن کُنْیَت میں ہر جگہ’’اَبُو‘‘سے مراد باپ نہیں ہوتا ، چنانچہ حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : کُنْیَت میں ’’اَ بُو‘‘آتا ہے اس کے معنی ہر جگہ والدنہیں ہوتے ہیں بلکہ اکثر جگہ اس کے معنی ہوتے ہیں : ’’والا‘‘ جیسے ’’اَ بُوجَہْل‘‘ جہالت والا، ’’ اَ بُوہُرَیْرَہ‘‘ بلیوں والے ، ایسے ہی’’اَ بُوالْحَکَم‘‘ فیصلہ کرنے والا، ’’اَ بُوبَکْر‘‘کے معنی ہیں اَوَّلِیَّت والے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۴۱۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ابوہریرہ(چھوٹی بلی والے )
ایک بار سرکارِ نامدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی آستین میں چھوٹی سے بلی ملاحظہ فرمائی تو فرمایا : یَااَبَا ہُرَیْرَۃ یعنی اے چھوٹی سی بلی والے ۔ (عمدۃ القاری، کتاب المغازی، قصۃ دوس والطفیل، ۱۲ / ۳۵۴، تحت الحدیث : ۴۳۹۳)تب سے اس کنیت (یعنی ابوہریرہ) کو اتنی شہرت مل گئی کہ آپ کا نام عبدالرحمن لوگوں کی غالِب اکثریت کو یاد ہی نہیں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ابوتُراب(مٹی والے )
رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمخاتونِ جنت حضرت سیدتنا فاطمہ زہراء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاکے گھر تشریف لائے تو آپ نے حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیمکو گھر میں نہ پایا، خاتونِ جنت حضرت سیدتنا فاطمہ زہراء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاسے استفسار فرمایا : تمہارے چچا زاد کہاں ہیں ؟انہوں نے جواب دیا : میرے اور ان کے درمیان کچھ اِختلاف ہوگیا تھا اسلئے وہ مجھ سے ناراض ہوکر گھر سے چلے گئے اور میر ے پاس قیلولہ(یعنی دوپہر کا آرام) نہیں کیا ۔ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ایک شخص سے فرمایا : جاؤ !دیکھو وہ کہاں ہیں ؟ اس شخص نے آکر عَرْض کی : یا رسولَ اللّٰہ!وہ مسجد میں لیٹے ہوئے ہیں ۔ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّممسجدِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلام میں تشریف لائے تو حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیم آرام فرمارہے تھے ، چادر ان کے پہلو سے ہٹ گئی تھی او ر پہلوئے مبارک پر مٹی لگ گئی تھی ۔ سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّممٹی صاف کرتے ہوئے فرمانے لگے : قُمْ یَا ابا تُرَاب!قُم یَا ابا تُرَاب!اٹھ اے خاک والے !اٹھ اے خاک والے ۔ (بخاری، کتاب الصلاۃ، باب نوم الرجال فی المسجد، ۱ / ۱۶۹، حدیث : ۴۴۱)حضرتِ سیِّدُنا سہل بن سعد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع