دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Naam Rakhnay Kay Ahkam | نام رکھنے کے احکام

book_icon
نام رکھنے کے احکام

والا) اور حضرت خالِد کا سَیفُ اللّٰہ(اللّٰہکی تلوار) رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اور جو اَلقاب بمنزلہِ عَلم(یعنی نام کے مرتبہ میں ) ہوگئے اور صاحبِ اَلقاب کو ناگوار نہیں وہ اَلقاب بھی ممنوع نہیں جیسے کہ اَعْمَش(کمزور نگاہ والا)، اَعْرَج (لنگڑا)  ۔ (’’کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا‘‘کے تحت صدرالافاضل لکھتے ہیں : )تو اے مسلمانو !کسی مسلمان کی ہنسی بنا کر یا اس کو عیب لگا کر یا اس کا نام بگاڑ کر اپنے آپ کو فاسِق نہ کہلاؤ  ۔ (خزائن العرفان، ص۹۵۰)

فرشتے لعنت کرتے ہیں

          حضرتِ سیِّدُناعُمَیْر بِن سَعْد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجْوَر، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا : جس نے کسی شخص کوا س کے نام کے علاوہ  نام سے بلایا اس پر فرشتے لعنت کرتے ہیں ۔ (جمع الجوامع، ۷ / ۲۳، حدیث : ۲۰۶۱۲)یعنی کسی بُرے لقب سے جو اُسے برا لگے نہ کہ اے بندۂ خدا !وغیرہ سے ۔ (التیسیر شرح الجامع الصغیر، حرف المیم، تحت الحدیث : ۲۰۶۱۲، ۲ / ۴۱۶)

کسی کو بے وقوف یا اُلّو کہنے کا حُکْم

           میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سوال ہوا : جو شخص کسی عالِم کی نسبت یا کسی دوسرے کی لفظ مَردُود کہے یا یوں کہے کہ وہ’’ بیوقوف‘‘ ہے ، کچھ نہیں جانتا اور’’ اُلّو ‘‘ہے ، تو اس شخص کی نسبت شَرع شریف کیا حُکْم دے گی؟اعلیٰ حضرت  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جوابدیا : بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایسے الفاظ سے یادکرنا مسلمان کو ناحق اِیذا دینا ہے اور مسلمان کی ناحق اِیذا شرعاً حرام ۔  رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں : مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذانِیْ فَقَدْ اٰذَی اﷲ ۔ رَوَاہُ الطَّبَرَانِیْ فیِ الْاَوْسَطِ عَنْ اَنَسٍ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بِسَنَدٍ حَسَنٍجس نے بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو اِیذادی اس نے مجھے اِیذادی اور جس نے مجھے اِیذادی اس نے  اﷲعَزَّوَجَلَّ کو ایذا دی ۔  ( المعجم الاوسط، ۲ / ۳۸۷، حدیث : ۳۶۰۷)پھر علمائے دین متین کی شان تو نہایت اَرفع واعلیٰ ہے ان کی جناب میں گستاخی کرنے والے کو حدیث میں منافق فرمایا : ثَلٰثَۃٌ لَایَسْتَخِفُّ بِحَقِّھِمْ اِلَّامُنَافِقٌ ذُوالشَّیْبَۃِ فِی الْاِسْلَامِ وَذُوالْعِلْمِ وَاِمَامٌ مُقْسِطٌ رَوَاہُ الطَّبَرَانِیْ فیِ  الْکَبِیْرِعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ وَاَبُوالشَّیْخِ فیِ التَّوْبِیْخِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہم عَنِ النَّبِی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔ یعنی سید عالم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمفرماتے ہیں :  تین شخص ہیں جن کا حق ہلکانہ جانے گا مگر منافق، { ایک} اسلام میں بُڑھاپے والا{دوسرا} عالِم {تیسرا } بادشاہِ اسلام عادِل ۔ ( المعجم الکبیر، ۸ / ۲۰۲، حدیث : ۷۸۱۹ ) ایساشخص شرعاً لائق تعزیر ہے  ۔ وَاﷲُ سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰی اَعْلَمُ وَعِلْمُہٗ جَلَّ مَجْدُہٗ اَتَمُّ وَاَحْکَم(فتاویٰ رضویہ، ۱۳ / ۶۴۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

محبت بھرے نام سے پُکارنا

          بَسا اوقات ہمارے میٹھے میٹھے مَدَنی آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان یا ازواجِ مطہرات رضی اللّٰہ تعالٰی عنہن کے ناموں کو مختصر یا تصغیر کرکے محبت بھرے انداز سے پکارتے ، اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں :  ٭حضرتِ سیِّدُناعثمان غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو یا عُثَیْم (مسنداحمد، ۱۰ / ۱۰۱، حدیث : ۲۶۱۹۰)٭حضرتِ سیِّدُنااَنس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو  یَا اُنَیس ( مسلم، ص۱۲۶۴، حدیث : ۲۳۰۹)اور یَا ذَا الْاُذُنَینِ (اے دو کانوں والے ) (ترمذی، ۳ / ۳۹۹، حدیث : ۱۹۹۸)٭حضرتِ سیِّدُناجابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو یَا جُوَیْبَر(جمع الجوامع، ۱۴ / ۲۰۸، حدیث : ۱۰۱۸۹)اور یَا جُبَیر (جمع الجوامع، ۱۴ / ۲۰۹، حدیث : ۱۰۲۰۰) ٭حضرتِ سیِّدُنامقدام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکویَا قُدَیم ( ابی داوٗد، ۳ / ۱۸۳، حدیث : ۲۹۳۳) ٭ حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صِدِّیقہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کویا عائِش (بخاری، ۲ / ۵۵۱، حدیث : ۳۷۶۸)اورشُقَیْرَاء(گہرے بھورے رنگ والی)(جمع الجوامع، ۳ / ۱۳۵، حدیث : ۷۸۲۳)اورحُمَیْرَاء(سُرخ رنگ والی)(الطبقات ابن سعد، ۸ / ۶۴ ۔ ۶۳، رقم : ۴۱۲۸)اوریا عُوَیْش! (جمع الجوامع، ۵ / ۴۴۵، حدیث : ۱۶۳۸۰)٭حضرت سیِّدَتُنازینب بنت اُمِّ سلمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاکویَا زُوَیْنَب(جمع الجوامع، ۵ / ۴۸۹، حدیث : ۱۶۸۳۵) کہہ کر پُکارا ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ ذہن میں رہے کہ ہمیں اس سلسلے میں بہت اِحتیاط کی ضرورت ہے کہ کہیں وہ نام جسے ہم محبت بھرا سمجھ رہے ہوں سامنے والے کو پسند نہ ہومگر وہ ادب ومروّت کی وجہ سے کچھ کہنے کی ہمت نہ رکھتا ہو اور بسااوقات ہمارا انداز دل آزاری کا بھی سبب بن سکتا ہے لہذا احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے  ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن