30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷) ’’مریم ‘‘نام عطا فرمایا
حضرتِ سیِّدُناابو مریم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی خدمت میں حاضر ہوکر عَرْض کی : یا رسول اللّٰہ! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمآج رات میرے ہاں بچی کی ولادت ہوئی ہے ، حضورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : آج رات مجھ پر سورۂ مریم نازل ہوئی ہے ، پھر آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے میری بیٹی کا نام مریم رکھ دیا اور میری کنیت ’’ابو مریم‘‘ رکھی ۔ (اسدالغابۃ، ۶ / ۳۰۰، رقم : ۶۲۴۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اعلیٰ حضرت شاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کے گھر جب آپ کے چھوٹے شہزادے مصطفی رضاخان (مفتی اعظم ہند رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ)کی ولادت ہوئی تو آپ اس وَقْت اپنے مُرشِد خانے میں تھے ۔ حضرت ابوالحسین نُوری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوینے آپ کو پیدائشِ فرزند کی مبارک باد دی اور فرمایا : آپ بریلی تشریف لے جائیں ۔ اور ’’ابوالبرکات محی الدین جیلانی‘‘ نام تجویز فرمایا ۔ کچھ دن بعد حضرتِ نُوری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی بریلی تشریف لائے تو شہزادۂ اعلیٰ حضرت کو آغوشِ نوری میں ڈال دیا گیا ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اپنی انگشت ِ مبارک مصطفی رضاخان رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے منہ میں رکھ کر قادری وبرکاتی برکات سے ایسامالا مال کردیاکہ یہی شہزادے بڑے ہو کر مفتی اعظم ہند بنے ۔ (تاریخ مشائخ قادریہ ، ۲ / ۴۴۷، ملخصًا) حضرت مفتی اعظم ہند کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے ، والد ماجداعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نے عُرفی نام مصطفی رضا رکھا، یہ عرفی نام اس قدر مشہور ہوا کہ خاص وعام میں آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکو اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ (جہانِ مفتیٔ اعظم، ص۱۰۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد23صفحہ 204پر لکھتے ہیں : کسی مسلمان بلکہ کافر ذِمّی[1]؎ کو بھی بلاحاجتِ شرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل شکنی ہو اُسے ایذاء پہنچے ، شرعا ناجائز وحرام ہے ۔ اگر چہ بات فِیْ نَفْسِہٖ سچی ہو، فَاِنَّ کُلَّ حَقٍّ صِدْقٌ وَلَیْسَ کُلُّ صِدْقٍ حَقًّا (ہر حق سچ ہے مگر ہر سچ حق نہیں )(فتاویٰ رضویہ ۲۳ / ۲۰۴)لہٰذاجس کا جونام ہو اس کو اُسی نام سے پکارنا چاہئے ، اپنی طرف سے کسی کا اُلٹا سیدھا نام مثلاً لمبو، ٹھنگو، کالو وغیرہ نہ رکھا جائے ، عُمُوماً اس طرح کے ناموں سے دل آزاری ہوتی ہے اور وہ اس سے چِڑتا بھی ہے لیکن پکارنے والا جان بوجھ کر بار بار مزہ لینے کے لئے اسے اسی نام سے پکارتا ہے ، ایسا کرنے والوں کو سنبھل جانا چاہئے کیونکہ رب تعالیٰ فرماتاہے :
وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ- (پ۲۶، الحجرات : ۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اورایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا ۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : (یعنی وہ نام)جو انہیں ناگوار معلوم ہوں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اگر کسی آدمی نے کسی برائی سے توبہ کرلی ہو اس کو بعدِ توبہ اس برائی سے عار دلانا بھی اس نَہی (یعنی ممانعت کے حکم)میں داخل اور ممنوع ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو کُتّا یا گدھا یا سُور کہنا بھی اسی میں داخل ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ اَلقاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو لیکن تعریف کے اَلقاب جو سچّے ہوں ممنوع نہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر کا لقب عَتِیق(جہنم سے آزاد) اور حضرت عمرکا فاروق(حق اور باطل میں فرق کرنے والا ) اور حضرت عثمانِ غنی کا ذُوالنُّورَین (دو نوروں والا)اور حضرت علی کا ابوتُراب(مٹی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع