30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیدناابو موسی اَشعری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہبیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا، میں اس کو لے کر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اس کا نام ’’اِبراہیم‘‘رکھااور اسے کھجور سے گھٹی دی ۔ (مسلم، کتاب الادب، باب استحباب تحنیک المولود ۔ ۔ ۔ ۔ الخ ، ص ۱۱۸۴، حدیث : ۲۱۴۵)
(۳) ’’عبدُ الْمَلِک‘‘نام رکھا
حضرتِ سیِّدُنا نُبَیْط بن جابِر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا ۔ وہ اسے لے کر نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کے پاس آئے اور عَرْض کی : یا رسولَ اللّٰہ! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمآپ اس کا نام رکھیں ، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا نام عبدُ الْمَلِکْ رکھااوراس کے لیے بَرَکت کی دعا کی ۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ۸ / ۳۲۵، رقم : ۴۵۸۵)
(۴) ’’سِنان‘‘ نام رکھا
حضرتِ سیِّدُناابو عبد الرحمن سِنَان بن سَلَمَہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں : میں غزوئہ حُنَین کے دن پیدا ہوا، میرے والد کو میری وِلادت کی خوشخبری سنائی گئی تو انہوں نے کہا : مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کے دفاع میں تیر چلانا مجھے بیٹے کی خوشخبری سے زیادہ محبوب ہے ۔ (مسند امام احمد بن حنبل، ۷ / ۲۴۶، حدیث : ۲۰۰۹۳)پھر میرے والد مجھے جنابِ رحمۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کے پاس لائے ، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے گھٹی دی، میرے منہ میں لعابِ دَہن ڈالا، میرے لیے دعا کی اور میرانام ’’سِنَان(یعنی نیزے کی نوک)‘‘ رکھا ۔ (الاستیعاب، ۲ / ۲۱۷، رقم : ۱۰۷۶)
(۵) ’’مُسرِع‘‘ نام رکھا
حضرتِ سیِّدُنامُسْرِع بن یاسِرجُہْنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماکے والد حضرتِ سیِّدُنایاسر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو کسی سریہ [1]؎ میں بھیجا گیا، اسی دوران حضرتِ سیِّدُنامُسرع کی ولادت ہوئی، ان کی والدہ بچے کو نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم کی خدمت میں لائیں اور عَرْض کی : یا رسولَ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے اور اس کے والد لشکر کے ساتھ ہیں ، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کا نام رکھیں ، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمنے بچے کو لیا، اس پر ہاتھ پھیرا اور دُعا دی : اے اللّٰہ! ان کے مردوں کو کثرت عطا فرما، ان کے گناہوں کو کم تَر فرما، ان کو کسی کا محتاج نہ کر، پھر ارشاد فرمایا : میں نے اس کا نام مُسرِع (جلدی کرنے والا)رکھا ہے اس نے اسلام میں جلدی کی ہے ۔ (اسدالغابۃ، ۵ / ۱۶۴، رقم : ۴۸۶۱ والاصابۃ، ۶ / ۵۰۱، رقم : ۹۲۳۱)
(۶) ’’یحییٰ ‘‘نام رکھا
حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن خَلَّاد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی ولادت حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عہد میں ہوئی، نبی اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں لائے گئے ، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کھجور چبا کر گھٹی دی اور فرمایا : میں اس کا وہ نام رکھوں گاجو حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام )کے بعد کسی کا نہیں رکھا گیا، پھر آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ان کا نام یحییٰ رکھا ۔ (اسدالغابۃ، ۵ / ۴۸۶، رقم : ۵۵۰۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنایحییٰ علیہ السلام کا نام کس نے رکھا؟
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے قبلۂ اول میں دعا کرنے والے عظیم القدر عمر رسیدہ پیغمبر حضرتِ سیِّدُنا زَکَرِیا علیہ السلام کی دعا کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے نہ صرف ان کو بیٹے کی بشارت دی بلکہ ان کا نام یحییٰ (علیہ السلام ) بھی خودعطافرمایا اور ارشاد ہوا :
یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ-ﹰاسْمُهٗ یَحْیٰىۙ-لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا(۷) (پ۱۶، مریم : ۷)
ترجمۂ کنزالایمان : اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جن کا نام یحیٰی ہے اس کے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہ کیا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع