30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ناموں سے لفظ عبد کا حَذْف(یعنی الگ کر دینا) بَہُت بُرا ہے اور کبھی ناجائز و گناہ ہوتا ہے اور کبھی سرحدِ کفر تک بھی پہنچتا ہے ۔ قادِر کا اِطلاق توغیر پر جائز ہے ، اس صورت میں عبدُالقادِر کو قادِر کہہ کر پکارنا بُرا ہے مگر قدیر کا اِطلاق غیرِ خدا پر ناجائز ۔ کمافِی الْبَیْضاوی(جیسا کہ بَیضاوی میں ہے ) اور اگر کسی کا نام عبدُالقدوس، عبد الرحمٰن ، عبدالقیوم ہے تو اسے قدوس، رحمٰن، قیوم کہنا ایسا ہی ہے جیسے اُسے (کہ) جس کانام عبدُاللّٰہ ہو(اُس کو)’’ اللّٰہ‘‘کہنا بَہُت سخت بات ہے ۔ والعِیاذُ بِااللّٰہ تعالٰی ۔ جس کا نام عبدُالقادِر ہو اُسے بھی عبدُالقادِر ہی کہا جائے ، جس کا عبدُالقدیر اسے عبدُالقدیر ہی کہنا ضَرور ہے ۔ عبدُالرَّزّاق کو عبدُالرّزّاق، عبدُالمُقْتَدِر کو عبدُالمُقتَدِر ۔ غیر پر اطلاقِ قَدیر و مُقتَدِر(یعنی اللّٰہعزوجل کے علاوہ کسی غیر کو قدیر اور مقتدر کہہ سکتے ہیں یا نہیں اِس مسئلے ) میں عُلما کااِختِلاف ہے ۔ کَمَافِی غَایَۃِ الْقاضی حاشیہ شَرحُ الْبَیْضاوی ۔ (فتاوٰی مصطفویہ، ص۸۹ ۔ ۹۰)(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص۵۹۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُناابو عبیدہعبدُ الْقَیُّوْم اَزْدِی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اپنے آقا ابوراشد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے ساتھ بنو اَزْد کے وفد کے ہمراہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمکی خدمت میں آئے ، بے چین دلوں کے چَین، رحمتِ دارین صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّمنے ابوراشد سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ بولے : عبدالعُزیٰ ابو مُغْویہ ۔ آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا : تم ’’عبدالرحمن ابوراشد ‘‘ ہو ۔ پھراِرشاد فرمایا : یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟عَرْض کی : میراغلام ۔ فرمایا : اس کانام کیاہے ؟عَرْض کی : قیوم(ہمیشہ قائم رہنے والا) ۔ ارشادفرمایا : یہ عبدالقیوم(ہمیشہ قائم رہنے والے کابندہ) ہے ۔
(اسدالغابۃ، ۳ / ۵۲۵، رقم : ۳۴۲۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بُزُرگان دین سے بچوں کا نام رکھوانا باعثِ خیروبَرَکت ہوتا ہے ، دورِ رسالت سراپا بَرَکت میں صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کا معمول تھا کہ جب ان کے گھر کوئی بچہ پیدا ہوتا تو یہ اسے رحمت ِ عالَم ، نورِ مجسم ، شاہِ بنی آدم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں لاتے ، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّماس کے لئے دعا کرتے ، نام رکھتے اور بسا اوقات اسے گھٹی بھی دیتے ، چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صِدِّیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاسے روایت ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی بارگاہ اقدس میں لایا کرتے تھے آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمان کے لیے خیرو بَرَکت کی دعا فرماتے اور تَحْنِیْک فرمایا(یعنی گُھٹی دیا) کرتے تھے ۔ ( مسلم، کتاب الادب ، باب استحباب تحنیک ، ص۱۱۸۴، حدیث : ۲۱۴۷)ایسی ہی چند روایات ملاحظہ ہوں :
(۱) بچے کا نام ’’عبدُاللّٰہ‘‘ رکھا
حضرت سیدنا اَنس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہبیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو طلحہ اَنصاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکے بیٹے عبدُ اللّٰہ(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) پیدا ہوئے تو میں اسے لے کرخاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ اَقدس میں حاضر ہوا ، اس وَقْت آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمچادر اوڑھے ہوئے اپنے اونٹ کو روغن مل رہے تھے ۔ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : کیا تمہارے پاس کھجوریں ہیں ؟میں نے عَرْض کی : جی ہاں ۔ پھر میں نے کچھ کھجوریں نکال کر آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی بارگاہ میں پیش کیں ۔ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے وہ کھجوریں اپنے مبارک منہ میں ڈال کر چبائیں اوربچے کا منہ کھول کر اس کے منہ میں ڈال دیں ، وہ بچہ اسے چُوسنے لگا ۔
پھر رسول ُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : ’’انصار کو کھجوروں کے ساتھ محبت ہے ۔ ‘‘اور اس بچے کا نام عبدُ اللّٰہ رکھا ۔ (مسلم : کتاب الادب، باب استحباب تحنیک المولود ۔ ۔ ۔ ۔ الخ، ص ۱۱۸۳ ، حدیث : ۲۱۴۴)
(۲) ’’اِبراہیم‘‘ نام رکھا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع