دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Naam Rakhnay Kay Ahkam | نام رکھنے کے احکام

book_icon
نام رکھنے کے احکام

        عبدُالْمُصْطَفٰے ، عَبْدُالنَّبِی، عبدُالرَّسُول نام رکھنا جائز ہے کہ اس نسبت کی شرافت مقصود ہے اور عَبُودِیت کے حقیقی معنی یہاں مقصود نہیں ہیں ۔  رہی عبد کی اِضافت غیرُ اﷲکی طرف یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے  ۔ [1]؎    (بہار شریعت، ۳ / ۶۰۴)اسی طرح عبدالجمال اور عبدالرفیق نام رکھنا بھی جائز ہے  ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’یسین ، طٰہٰ‘‘نام رکھنا منع ہے

             طٰہٰ، یٰس نام بھی نہ رکھے جائیں کہ یہ مُقَطَّعَاتِ قرآنیہ سے ہیں جن کے معنی معلوم نہیں ظاہر یہ ہے کہ یہ اَسمائے نبی صلَّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم سے ہیں اور بعض علما نے اسمائے الٰہیہ سے کہا ۔  بہر حال جب معنی معلوم نہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس کے ایسے معنی ہوں جو حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا اللّٰہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہوں اور ان ناموں کے ساتھ محمد ملا کر’’ محمد طٰہٰ‘‘، ’’ محمد یٰس ‘‘کہنا بھی ممانعت کو دَفع (یعنی دُور)نہ کرے گا ۔  (بہار شریعت، ۳ / ۶۰۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’غَفُور الدِّین ‘‘نام رکھنے کا حکم

             غَفُورُ الدِّین(نام) بھی سخت قَبیح وشَنیع ہے ، غفور کے معنی مٹانے والا، چھپانے والا، اللّٰہعزوجل غفورِ ذُنوب ہے یعنی اپنی رحمت سے اپنے بندوں کے ذُنُوب (یعنی گناہ) مٹاتاعیوب چھپاتا ہے ، تو غفورُ الدِّین کے معنی ہوئے دین کامٹانے والا ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۴ / ۶۸۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کسی بُزُرگ کو قیّومِ زَماں کہنا کیسا؟

سُوال :  کسی کا نام عبدالقیوم ہو اُس کو قیّوم کہہ کر پکارنا کیسا؟ اِسی طرح کسی بزرگ کو ’’قیّومِ جہاں ‘‘یا قیّومِ زَماں ‘‘ کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب :    ایسا کہناسخت حرام ہے  ۔ بعض فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السلام  کے نزدیک بندے کو اللّٰہ عزوجل کے مخصوص ناموں جیسے قیوم ، قُدّوس یا رحمٰن کہہ کر پکارنا کفر ہے ۔ ’’قیّومِ جہاں ‘‘یا’’ قیّومِ زماں ‘‘ کہنے کا ایک ہی حُکْم ہے  ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فتاویٰ رضویہ جلد 15 صَفْحَہ 280 پر فرماتے ہیں : فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السلام نے ’’قیّومِ جہاں ‘‘غیرِ خدا کو کہنے پر تکفیر فرمائی ۔  مَجْمَعُ الْاَنْہُرمیں ہے : ’’اگر کوئی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے اَسمائِ مُختَصَّہ(یعنی مخصوص ناموں ) میں سے کسی نام کا اِطلاق مخلوق پر کرے جیسے اِسے (یعنی مخلوق کے کسی فرد کو)  قُدّوس، قَیّوم یا رحمٰن کہے تو یہ کفر ہو جائے گا ۔  ‘‘(مجمع الانہر، ۲ /  ۵۰۴ ) وَاﷲُتعالٰی اَعْلَمُ

آدمی کو قیوم، قدوس اور رحمن کہہ کر نہ پکاریئے

           شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی کتاب ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ‘‘کے صفحہ 591پرمذکورہ بالا سوال جواب کے بعد لکھتے ہیں : میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سخت تاکید ہے کہ کسی بھی شخص کورحمٰن، قَیّوم  اور قُدّوس وغیرہ مت کہئے بلکہ عادت بنایئے کہ جس کا نام اللّٰہکے کسی نام میں ’’عبد ‘‘کی اِضافت کے ساتھ ہومَثَلاً جن کانام عبدالمجید یا عبدالکریم وغیرہ ہو ان کو مجید یا کریم کہہ کر نہ پکاریں ، اُس میں سے ’’ عبد‘‘ خارِج نہ کریں ، ہاں ! غیرِ خدا کو’’ مجید‘‘ یا’’ کریم‘‘ کہنا کفر نہیں ۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص۵۹۱)

 عبدُالقادِر کو قادِر کہنا کیسا؟

سُوال :   عبدُالقادِر، عبدالقدیر، عبدالرَّزَّاق وغیرہ نام والے افراد کو قادِر، قدیر اور رزّاق کہہ کر پکارنا کیسا ہے ؟

جواب : اِس طرح کے ایک سُوال کا جواب دیتے ہوئے شہزادۂ اعلیٰ حضرت حُضُور مفتیٔ اعظم ہند مولانا محمد مصطَفٰے رضا خان علیہ رحمۃ المنان فرماتے ہیں :  ایسے



[1]     اس حوالے سے تفصیلی معلومات کے لئے فتاویٰ رضویہ جلد24صفحہ 666تا669اور 671کا مطالعہ کیجئے ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن