30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سلطان محمود غزنوی نے ایک بار ایاز کے بیٹے کو پکارا : اے ایاز کے بیٹے ! اِستنجے کے لئے پانی لا ۔ ایاز نے تھوڑے دنوں بعد عَرْض کی کہ حضور !مجھ سے یا اس سے (یعنی میرے بیٹے سے )کیا قصور ہوا کہ آپ نے اس کا نام نہ لیا ؟ فرمایا : تیرے بیٹے کا نام محمد ہے ، میں اس دن بے وضو تھا ، میں نے کبھی بغیر وضو محمد نام کو اپنی زبان سے ادا نہ کیا ۔
ہزار بار بشَویَم دَہن بَمُشک وگلاب !
ہُنوز نامِ تو گُفْتَن کمالِ بے ادبی اَسْت
(یعنی : میں اپنے منہ کو ہزار بار مشک وگلاب سے دھوؤں تب بھی آپ کا نام لینا بے ادبی ہے )
(تفسیر نعیمی، ۴ / ۲۲۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایسی صورت میں ’’ محمد‘‘ پر درود پاک نہیں لکھا جائے گا
اگر کسی شخص کا نام محمد ہو تو بعض کم عِلْم لوگ اس کا نام لکھتے ہوئے نام کے ساتھ دُرود’’صلی اللّٰہ علیہ وسلَّم‘‘ لکھتے ہیں یا پھر ’’ ؐ‘‘یا ’’صلعم ‘‘وغیرہ لکھ دیتے ہیں ، یہاں پر چونکہ رسولِ کریم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذات مُراد نہیں ہوتی اس لئے دُرودِ پاک نہ لکھا جائے اورنہ ہی کوئی علامت ’’ ؐ‘‘یا ’’صلعم ‘‘ وغیرہ لکھیں بلکہ جہاں سرکارِ مدینہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کا نامِ اقدس لکھیں تو مکمل
دُرُود (مثلاً صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم) لکھئے ، ’’ ؐ‘‘یا ’’صلعم ‘‘ وغیرہ کی علامت نامِ مبارک کے ساتھ لکھنا بھی ناجائزوحرام ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1254 صفحات پر مشتمل کتاب ’’بہار شریعت (جلد1) ‘‘کے صفحہ 77پر ہے : نامِ پاک لکھے تو اُس کے بعد صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم لکھے ، بعض لوگ براہِ اختصار ’’صلعم‘‘ یا ’’ ؐ‘‘لکھتے ہیں ، یہ محض ناجائز وحرام ہے ۔ (بہار شریعت، ۱ / ۷۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’محمد نبی ، احمد نبی‘‘ نام نہ رکھا جائے
محمد نبی، احمدنبی، محمد رسول، احمد رسول، نبیُّ الزَّمان نام رکھنا بھی ناجائز ہے ، بلکہ بعض کا نام نَبِیُّ اﷲ بھی سنا گیا ہے ، غیرِ نبی کو نبی کہنا ہر گز ہرگز جائزنہیں ہوسکتا ۔ تنبیہ : اگر کوئی یہ کہے کہ ناموں میں اصلی معنی کا لحاظ نہیں ہوتا، بلکہ یہاں تو یہ شخص مُراد ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو شیطان اِبلیس وغیرہ اس قسم کے ناموں سے لوگ گُریز نہ کرتے اور ناموں میں اچھے اور بُرے ناموں کی دو قسمیں نہ ہوتیں اور حدیث میں نہ فرمایا جاتا کہ اچھے نام رکھو، نیز حضورِ اقدس صلَّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم نے بُرے ناموں کو بدلا نہ ہوتا کہ جب اس اصلی معنی کا بالکل لحاظ نہیں تو بدلنے کی کیا وجہ؟ (بہار شریعت، ۳ / ۶۰۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’محمد بخش ، احمد بخش‘‘ نام رکھنا جائز ہے
محمد بخش، احمد بخش، نبی بخش، پیر بخش، علی بخش، حسین بخش اور اسی قسم کے دوسرے نام جن میں کسی نبی یا ولی کے نام کے ساتھ بخش کا لفظ ملا کر نام رکھا گیا ہو جائز ہے ۔ (بہار شریعت، ۳ / ۶۰۴)
’’غلامِ محمد ، غلامِ صدیق‘‘ نام رکھنا جائز ہے
غلامِ محمد، غلامِ صدیق، غلامِ فاروق، غلامِ علی، غلامِ حسن، غلامِ حسین وغیرہ اَسما جن میں اَنبیاء و صحابہ و اَولیا کے ناموں کی طرف غلام کو اِضافت کرکے نام رکھا جائے یہ جائز ہے اس کے عدمِ جَواز کی کوئی وجہ نہیں ۔ (بہار شریعت، ۳ / ۶۰۴)
’’عبدالمصطفٰے ، عبد النبی ‘‘ نام رکھنا جائز ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع