30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خیال رہے کہ پکارنے کے لئے نام ایسا رکھا جائے جسے محمد کے ساتھ ملا کر بولنے میں بے ادبی وغیرہ نہ ہو ، اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : فقیرکبھی جائزنہیں رکھتاکہ کلبِ علی(علی کا کُتا)، کلبِ حسین، کلبِ حسن، غلام علی، غلامِ حسین، غلامِ حَسَن، نثارحُسَین(حسین پر نثار ہونے والا)، فِداحُسین(حسین پر فِدا ہونے والا)، قُربان حسین، غلامِ جیلانی(جیلانی کا غلام) واَمثال ذٰلک کے اَسماء (یعنی اسی طرح کے دوسرے ناموں )کے ساتھ نام پاک(یعنی محمد) ملاکر کہا جائے ، اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا حُسْنَ الْاَدَبِ وَنَجِّنَا مِنْ مُوْرِثَاتِ الْغَضَبِ، اٰمین (اے اللّٰہ! ہمیں حُسنِ ادب سے نواز اوراسبابِ غضب سے بچا ۔ آمین ۔ ت)(فتاویٰ رضویہ، ۲۴ / ۶۸۳)
مفتیٔ اعظم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرمنے اِصلاح فرمائی
سِراجُ الْعارِفین حضرتِ علامہ مولانا غلامِ آسیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی فرماتے ہیں : میں نے اپنے نام کے شروع میں بَرَکت کے لیے لفظ’’محمد‘‘ شامل کرلیا تھا ۔ اِس پرشہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتی ٔ ٔ اعظم مولانا مصطَفٰے رضا خانعلیہ رحمۃُ الحنّان نے تَنْبِیْہ فرمائی کہ یہاں اِسم رِسالت (یعنی محمد)نہیں ہونا چاہیے ۔ میں نے فورًاعَرْض کیا کہ حُضُور پھر ’’محمد عبدُ الْحَیّ‘‘کا کیا حُکْم ہوگا؟اِس کے جواب میں حضرت نے فرمایا : کُجاعبد الحیّ وکُجا غلامِ آسی(یعنی کہاں عبد الحیّ اور کہاں غلامِ آسی)؟علامہ فرماتے ہیں : ’’یہ جواب سن کر میں حیرت زدہ رہ گیا اور حضرت کے تَفَقُّہْ فِیْ الدِّیْن کی عَظَمت دل میں خوب خوب رَچ بس گئی ۔ ‘‘
حضور مفتی ٔاعظم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرم نے اپنے اِرشادسے یہ رہنمائی فرمائی ہے کہ جس نام کے شروع میں لفظ’’ محمد‘‘ لایا جائے ، اگر اُس نام کا اِطْلاق لفظ’’محمد‘‘پر دُرُست ہو تو وہاں لفظ’’محمد‘‘لانا درست ہوگا(جیسے محمد صادق) اور اگر نام کا اِطْلاق لفظ’’محمد‘‘پر دُرُست نہ ہو تو وہاں لفظ’’محمد‘‘شروع میں لانادُرُست نہ ہوگا(جیسے محمدغلام حسین) ۔ حُضُور سیِّدِ عالَمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمعبدُ الْحیّ [1]؎ ہیں لہٰذا محمد عبدُ الْحَیّکہنا درست ہے لیکن غلامِ آسی نہیں ہیں ، اِس لئے ’’محمد غلامِ آسی(یعنی ’’آسی‘‘ کا غلام )‘‘ کہنا نا مناسب ہے ۔ (جہانِ مفتی اعظم ، ص۴۵۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بیٹے کا نام محمد رکھو تو اس کی عزت کرو
جب کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے تو اسے چاہیے اِس نامِ پاک کی نسبت کے سبب اس کے ساتھ حُسن ِ سلوک کرے اور اس کی عزت کرے ۔ مولا مشکل کُشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیم سے مَرْوِی ہے کہ نبی کریم رَء ُوفٌ رَّحیمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا : جب تم بیٹے کا نام محمد رکھو تو اس کی عزّت کرو اور مجلس میں اس کے لئے جگہ کشادہ کرو اور اسکی نسبت برائی کی طرف نہ کرو ۔ (الجامع الصغیر، ص۴۹، حدیث : ۷۰۶)ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ رسولُ اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : جب لڑکے کا نام محمد رکھو تو اسے نہ مارو اور نہ محروم کرو ۔ ( مسند البزار، ۹ / ۳۲۷، حدیث : ۳۸۸۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک شخص کا نام محمد تھا حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے دیکھا کہ ایک آدمی اس کو گالی دے رہا ہے ، بلاکر کہا کہ دیکھو تمہاری وجہ سے محمد کو گالی دی جارہی ہے ، اب تادَمِ مرگ(یعنی اپنی موت تک) تم اس نام سے پکارے نہیں جاسکتے ، چنانچہ اسی وَقْت اس کا نام عبدالرحمن رکھ دیا گیا ۔ پھربَنُو طَلْحَہ کے پاس پیغام بھیجا جو لوگ اس نام کے ہوں ان کے نام بدل دیئے جائیں ۔ اتفاق سے وہ لوگ سات آدمی تھے اوران کے سردار کا نام محمد تھا ۔ اس نے کہا : خود رسولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم ہی نے میرا نام محمد رکھا ہے ۔ بولے : اب میرا اِس پر کوئی زور نہیں چل سکتا ۔ (المسند للامام احمد بن حنبل، ۶ / ۲۶۷، حدیث : ۱۷۹۱۶ ملخصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع