30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲) لفظِ ’’ اللّٰہ ‘‘ بولنے سے دونوں ہونٹ جد ا ہو جاتے ہیں ، لفظِ ’’محمد‘‘ کہتے ہیں تو دونوں لَب مل جاتے ہیں ، کہ وہ مخلوق کو خالِق سے ملا نے ہی توآئے ہیں ، اگر ان کا واسطہ نہ ہو تو مخلوق خالِق سے بہت دُور رہے ۔
(۳) لفظ ’’ اللّٰہ ‘‘ اپنی دلالت میں حرفوں کا محتاج نہیں ، اگر اَوَّل(یعنی شروع) کا الف نہ رہے ، تو ’’لِلّٰہ ‘‘ بن جاتا ہے ، اگر اَوَّل (یعنی شروع)کا لا م بھی نہ رہے تو ’’ لہ‘‘ ہے ، اگر درمیان کا الف بھی نہ ہو تو ’’ہ‘‘ ہے ، یونہی لفظ ’’ محمد‘‘ دَلالت میں حرفوں کا حاجت مند نہیں ، اگر اَوَّل (یعنی شروع) کی میم الگ ہو جائے تو ’’ حمد‘‘ رہتا ہے اگر ’’ ح‘‘ بھی اُڑ جائے تو ’’مَدّ ‘‘ ہے یعنی کھینچنا ، مخلوق کو کھینچ کر خالق تک پہنچانا ، اگر بیچ کی میم بھی نہ رہے تو ’’دَال ‘‘ بمعنی رہبر ۔
(۴)سب کے نام ان کے ماں باپ رکھتے ہیں ، لَقَب قوم دیتی ہے ، خطاب حکومت سے ملتا ہے ، مگر حضورِ اَنور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کے نام ، لَقَب وخطاب سب رب تعالیٰ کی طرف سے ہیں کہ عبد المطلب ( رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)نے فرشتے کی بشارت سے یہ نام رکھا ۔
(۵) دوسروں کے نام پیدائش کے ساتویں دن رکھے جاتے ہیں ، مگر حضور اَنورصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کا نا م عالَم کی پیدائش سے پہلے عرشِ اعظم پر لکھاگیا تھا اور حضرتِ عیسٰیعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے حضورِ اَنورصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کی ولادت سے قریباً 600 برس پہلے اپنی قوم کو فرمایا : اِسْمُہُ اَحْمَد ان کا نام پاک احمد ہے ، پچھلی قومیں آپ کے نام کی بَرَکت سے دعائیں مانگتی تھیں ۔
(۶) کوئی شخص آپ کو ’’ محمد ‘‘ کہہ کر بُرا نہیں کہہ سکتا، اگر کہے گا تو خود اپنے منہ سے جھوٹا ہو گا کہ انہیں کہتا تو ہے ’’ محمد ‘‘ یعنی لا ئقِ حمد اور کرتا ہے برائیاں ، اسی لئے کفار مکہ نے آپصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کا نام’’ مُذَمَّم‘‘ رکھ کر آپ کی شانِ اقدس میں بکواس بکی ، حضور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم نے فرمایا : کہ دیکھو ہم کو ہمارے رب تعالیٰ نے ان کفار کی گالیوں سے بچایا ، یہ لوگ’’ مُذَمَّم‘‘کو برا کہتے ہیں ، ہو گا کوئی ’’مُذَمَّم‘‘ہم تو ’’محمد ‘‘ ہیں ۔
(بخاری، کتاب المناقب، باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم ، ۴ / ۴۸۴، حدیث : ۳۵۳۳)
(۷) حضور انورصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کا نام ’’ محمد‘‘ بہت جامِع ہے ، جس میں حضورِ اَنورصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کے بے شمار فضائل بیان ہو گئے ہیں ، آدم کے معنی تھے مٹی سے پیدا ہو نے والے ، اِبراہیم کے معنی ہیں ’’مہربان باپ ، اَبٌ رَّحِیْم‘‘ ، نُوح کے معنی ہیں ’’ خوف خدا سے گریہ وزاری و نوحہ کرنے والے ‘‘ ، عیسٰی کے معنی ہیں ’’بہت شریفُ النَّفْس، کریمُ الطَّبْعِ ‘‘ان تمام ناموں میں ایک ایک وَصْف کی طرف اِشارہ ہے ، مگر’’ محمد‘‘ کے معنی ہیں ہر طرح ہر وَصْف میں بے حد تعریف کئے ہوئے ، اس میں حضورِ اَنور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کے لا تعداد کما لا ت و خو بیوں کی طرف اِشارہ ہو گیا ۔
(۸) لفظ ’’ محمد ‘‘ میں غیبی خبر بھی ہے کہ ہمیشہ یعنی دنیا وآخرت میں ان کی ہر جگہ ہر طرح حمد وثناء ہو ا کرے گی ، اسی خبر کی صداقت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آج بھی حضورِ انورصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کے برابر کسی کی تعریف نہیں ہوتی ، بلکہ جو حضور انور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم سے وابستہ ہو گئے ان کی بھی تعریف ہو گئی ، فرش پر ان کی دُھوم ، عرش پر ان کے چرچے ، اعلیٰ حضرت (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ )نے کیا خوب فرمایا :
عرش پہ تازہ چھیڑچھاڑ فرش میں طرفہ دُھوم دھام
کان جدھر لگایئے تیری ہی داستان ہے
(۹) جو اپنے بیٹے کا نام محبت میں ’’ محمد ‘‘ رکھے ، اللّٰہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا کہ مجھے ایسے شخص کو عذاب دیتے حیا آتی ہے جس نے میرے محبوب کی محبت میں اپنے بیٹے کا نام ’’محمد ‘‘ رکھا ہے ۔ (تفسیر نعیمی، ۴ / ۲۲۰ملخصًا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کئی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَانایسے ہیں جن کا نام خود سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ’’محمد‘‘ رکھا ، جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنامحمد بن طَلْحَہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما ، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنت جَحْش رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کی بہن حضرت ِ سیدتناحَمْنَہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کے صاحبزادے ہیں ۔ جب آپ کی ولادت ہوئی آپ کے والد حضرتِ سیِّدُنا طلحہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ آپ کو سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع