30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بُرے معنیٰ ہوں جیسے عاصی وغیرہ ۔ بہتر یہ ہے کہ انبیاءِ کرام(عَلَیْہِمُ السَّلَام ) یا حضورعَلَیْہِ السَّلَام کے صحابۂ عظام، اہلبیت ِاَطْہار(رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن) کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم، اسمعیل، عثمان، علی، حسین وحسن وغیرہ۔عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ اِنْ شَآءَ اللہبخشا جائے گا اور دنیا میں اس کی بَرکات دیکھے گا۔)[1](
”مُحَمَّد اور اَحْمَد“نام ركھنے کے فضائل
عرض : اسلامی بھائی آپ سے اپنے نَومولُود بچّوں کے نام رکھواتے ہیں تو آپ بچّے کا نام ”مُحَمَّد یا اَحْمَد“رکھتے ہیں اس میں کیا حِکْمت ہے ؟
ارشاد : ”مُحَمَّد“اور” اَحْمَد“ہمارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذاتی اَسمائے مبارکہ ہیں، احادیثِ مبارکہ میں ان کے بڑے فضائل وبرکات بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ان اَسمائے مبارکہ کے4 حروف کی نسبت سے چار اَحادیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیے :
(۱)نبیٔ رحمت، شفیعِ اُمَّت، مالکِ کوثروجنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنّت نِشان ہے : جس کے ہاں لڑکا پیدا ہو پس وہ میری محبت اور میرے نام سے بَرَکت حاصل کرنے کے لیے اس کا نام ”مُحَمَّد“ رکھے وہ اور اس کا لڑکا دونوں جنّت میں جائیں ۔([2])
(۲)محبوبِ رب العزّت، پیکرِجودوسخاوت، قاسمِ نعمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ بَرکت نشان ہے : جس نے میرے نام سے بَرَکت کی اُمید کرتے ہوئے میرے نام پر نام رکھا، قِیامت تک صبح وشام اس پر بَرَکت نازل ہوتی رہے گی۔)[3](
(۳)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمَحبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : قیامت کے دن دوشخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور کھڑے کیے جائیں گے، حکم ہو گا انہیں جنت میں لے جاؤ۔عرض کریں گے : یااللہ عَزَّوَجَلَّ !ہم کس عمل کے سبب جنت کے قابل ہوئے حالانکہ ہم نے تو جنت کا کوئی کام کیا ہی نہیں؟تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا : جنت میں جاؤ ، میں نے حلف کیا ہے کہ جس کا نام ”مُحَمَّد یا اَحْمَد“ہو گا دوزخ میں نہ جائے گا۔)[4](
(۴)سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ مشکبار ہے : کوئی دسترخوان بچھایانہیں گیا کہ اس پر ایسا شخص تشریف لائےجس کانام ”اَحْمَد یا مُحَمَّد“ہو تو ہرروز دوبار اس گھرکو تقدس بخشاجاتا ہے یعنی مقدس کیا جاتاہے۔)[5](
میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت ، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نامِ اقدس کی ایک برکت نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : جو چاہے کہ ا س کی عورت کے حمل میں لڑکا ہو تو اسے چاہیے کہ اپنا ہاتھ عورت کے پیٹ پر رکھ کر کہے : ”اِنْ کَانَ ذَکَرًا فَقَدْ سَمَّیْتُہٗ مُحَمَّدًا اگر لڑکا ہے تو میں نے اس کا نام محمد رکھا۔‘‘اِنْ شَآءَ اللہُ الْعَزِیْز لڑکا ہی ہوگا ۔)[6](
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نامِ پاک کی کتنی برکتیں اور فضیلتیں ہیں ، ان برکتوں اور فضیلتوں کو پانے کے لیے آپ بھی اپنے بچوں کے نام ”مُحَمَّد یا اَحْمَد“ رکھیےاور اِس نامِ پاک کی نسبت کے سبب ان کی عزّت وتکریم بھی کیجیے کہ حدیثِ پاک میں ہے : جب لڑکے کا نام ”مُحَمَّد“ رکھو تو اس کی عزّت کرو اور مجلس میں اس کے لیے جگہ کُشادہ کرو اور اسے بُرائی کی طرف نسبت نہ کرو۔)[7]( ہمارے بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین اس نام کا کتنا ادب واحترام کرتے تھے اس کا اندازہ اس حکایت سے لگائیے :
حضرتِسَیِّدُنا سلطان محمود غزنویعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی (بَہُت بڑے عاشقِ رسول بادشاہ تھے اُنہوں) نے ایک بار دَورانِ گفتگو(اپنے وزیر) ایاز کے بیٹے کو ’’ اے ایاز کے لڑکے! ‘‘ کہہ کر مخاطِب کیا۔ وہ گھبرا گیا اور اپنے والِد صاحب (ایاز) کی خدمت میں عرض کی کہ معلوم ہوتا ہے کہ میری کسی خطا کے سبب بادشاہ سلامت مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں جو مجھے آج ’’ایاز کا لڑکا‘‘ کہا، ورنہ ہمیشہ بڑے اَدَب سے میرا نام لیتے رہے ہیں۔ایاز نے آپرَحمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیٹے کے اِس خَدشہ کا اِظہار کیا، تو حضرتِ سَیِّدُنا سلطان محمود غزنوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے ارشاد فرمایا : ایاز! تمہارے بیٹے کا نام”اَحْمَد“ہے اور یہ نام بَہُت ہی عظمت والا ہے لہٰذا میں یہ نام کبھی بے وُضو نہیں لیتا، اِتفاقًا میں اُس وقت بے وضو تھا اس لیے نام لینے کے بجائے مجبورًا ’’ایاز کا لڑکا‘‘ کہہ کر مجھے بات کرنی پڑی۔)[8](
نامِ اقدس کے ساتھ کوئی دوسرا نام نہ ملائیے
عرض : نامِ اقدس کے ساتھ کوئی دوسرا نام ملایا مثلاً ”محمد حسین“یا” غلام محمد“ تو کیا اس صورت میں بھی مذکورہ فضائل حاصل ہوں گے؟
ارشا د : ”مُحَمَّدیا اَحْمَد“نام رکھنے کے فضائل وبرکات اسی وقت حاصل ہوں گے جب ان کے ساتھ کوئی دوسرا نام نہ ملایا جائے کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں ارشاد فرمودہ فضائل تنہا ”مُحَمَّد“ اور” اَحْمَد“ رکھنے کے ہیں چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت ، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے
[1] مِرآۃ المناجیح ، ۵/۳۰
[2] کَنْزُالْعُمّال، کتاب النکاح ، الباب السابع فی برّ الْاَولاد و حقوقھم، الفصل الاول، الجزء : ۱۶، ۸/ ۱۷۵، حدیث : ۴۵۲۱۵
[3] کَنْزُالْعُمّال، کتاب النکاح، الباب السابع فی برّ الْاَولاد و حقوقھم، الفصل الاول، الجزء : ۱۶، ۸/ ۱۷۵، حدیث : ۴۵۲۱۳
[5] فردوس الاخبار، فصل ذکر فصول فی(ما من) وغیرہ، ۲/ ۳۲۳، حدیث : ۶۵۲۵
[6] فتاویٰ رضویہ ، ۲۴/۶۹۰
[7] جامع صغیر، حرف الھمزة، ص۴۹، حدیث : ۷۰۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع