30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کاذرہ بھراحساس نہ تھاشریعت کے احکام سے بالکل لاعلم تھا۔میری زندگی میں خوش بختی کی صبح اس طرح طلوع ہوئی کہ ہمارے علاقے کی مسجد کے امام صاحب جوکہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے انھوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے باب الاسلام سندھ میں ہونے والیصوبائی سطحکے تین روزہ سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی۔میں انکار نہ کر سکا اور ان کی دعوت پر لبیّک کہتاہوااجتماع میں شریک ہوگیا۔اس رُوح پروراجتماع میں شرکت کی برکت سے جہاں مجھے قلبی سکون نصیب ہواوہیں علمِ دین کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوا اور میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر وضو و غسل، نماز و روزہ اور دیگر عبادات ومعاملات کے مسائل سیکھنے میں مشغول ہو گیا ۔یوں مجھے جہالت بھری زندگی سے نجات مل گئی۔بیشک اللّٰہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے میں راحتیں ہی راحتیں اور برکتیں ہی برکتیں ہیں ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !ہمیں علمِ دین حاصل کرکے اس پرعمل کرنے اورا سے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔اٰمین
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
گھارو(ضلع ٹھٹھہ ، باب الاسلام سندھ)کے رہائشی اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے : میں ایک فیشن پرست نوجوان تھا ۔فلمیں دیکھنا، گانے باجے سننا اور کراٹے کھیلنا میرا محبوب مشغلہ تھا ۔یونہی گناہوں کے کیچڑ میں لوٹ پوٹ ہو رہا تھا خوش قسمتی سے میری ملاقات دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوگئی۔جنھوں نے انفرادی کوشش کے دوران مجھے زندگی کا مقصد سمجھانے کی کوشش کی کہ زندگی بے حد مختصر ہے عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اورجتنا طویل عرصہ قبر وآخرت کا ہے اتنی ہی قبر و آخرت کے لیے تیاری کی جائے۔دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آخرت کی تیاری کا موقع بھی ملتا ہے، عنقریب دعوتِ اسلامی کا باب الاسلام سندھ میں صوبائی سطح کا تین روزہ سنّتوں بھراا جتماع صحرائے مدینہ(ٹول پلازہ سپرہائی وے روڈ)باب المدینہ(کراچی) میں ہونے والاہے آپ اُس میں ضرور شرکت فرمائیے۔ان کا دلنشیں انداز اور حکمت بھری باتیں میرے دل پر اثر کر گئیں اور سنّتوں بھرے اجتماع کے لیے نہ صرف تیار ہوگیا بلکہ ان کے ساتھ ہی شرکت بھی کی۔یوں تو اجتماع کے تینوں دن بہت سرور ملا مگر خاص طور پر سنّتوں بھرے اجتماع کے آخری دن بیان، ذکر اور رقت انگیزدعا نے تو میرے دل کی دنیا کو تہ و بالا کر دیا اورمیں نے اپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ کرلی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجلَّ واپسی پر میں نے نماز ، روزہ کی پابندی اور سنّتوں پر عمل کرنا شروع کردیا ۔چونکہ سر ڈھانپ کر رکھنا سنّت ہے اس لیے اس کے بعد کبھی ننگے سر نہ رہا۔رفتہ رفتہ میں مَدَنی ماحول کے رنگ میں رنگتا چلا گیا۔جس کی برکت سے مجھے سنّتوں کا عامل بننے کی سعادت نصیب ہوگئی اور تادمِ تحریرتحصیل مشاورت میں قافلہ ذمّہ دار کی حیثیت سے نیکی کی دعوت عام کرنے میں مصروفِ عمل ہوں ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مَدَنی ماحول میں استقامت عطافرمائے۔آمین
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
معروف صوفی بزرگ حضرت سیّدنا بابا بلّھے شاہ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہکے شہر قصور(پنجاب، پاکستان)کے علاقے مشتاق کا لونی کے مقیم اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا لُبِّ لُباب پیش خدمت ہے : آج سے تقریباً بارہ(12)سال پہلے جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ہمارے اسکول میں ایک استاذِمحترم سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے تشریف لاتے تھے۔دین سے دُوری کے سبب مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ عمامہ شریف سنّت ہے۔ایک روز میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ استاد صاحب سر پر کیا باندھ کر آتے ہیں ؟اس نے جواب دیا : یہ عمامہ شریف ہے اور ہمارے پیارے پیارے آقا، میٹھے میٹھے مصطفیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّت ہے۔یہ سن کر میرے دل میں بھی جذبہ پیدا ہوا کہ میں بھی سر پر عمامہ شریف سجاکر اس کی برکتیں حاصل کروں ۔میں نے میڑک کا امتحان پاس کرنے کے بعد مرکز الاولیائ(لاہور)کے ایک کالج میں داخلہ لیا۔خوش نصیبی سے مجھے مرکزالاولیاء (لاہور)میں مینارِ پاکستان کے قریب دعوتِ اسلامی کے صوبائی سطح پر ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت مل گئی۔اس اجتماع کی برکت سے میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی سے متعارف ہوا۔میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے بے حد متأثر ہوا۔مجھے اپنی زندگی کے گزرے لمحوں پر ندامت ہونے لگی کہ اتناعرصہ اس پاکیزہ ماحول سے کیوں دور رہا؟صوبائی سطح کے اس سنّتوں بھرے اجتماع کی برکت سے مجھے زندگی گزارنے کاسلیقہ مل گیا۔ اب تو میرے دل کی دنیاہی بدل گئی۔میں اپنی دنیااورآخرت کوسنوارنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیااورروحانی فیض پانے کے لیے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت کی سعادت حاصل کی۔میں تو یہی کہوں گا کہ جب سے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہواہوں میری بگڑی سنورگئی ہے اس وقت میں پی۔ایچ۔ڈی کا طالب علم ہوں اور دعوتِ اسلامی کی مجلس شعبۂ تعلیم کے تحت یونیورسٹی میں مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجلَّ مجھے مَدَنی ماحول میں استقامت دے اور اسی ماحول میں ایمان وعافیت کے ساتھ موت عطا فرمائے۔آمین
ایمان پہ دے موت مدینے کی گلی میں
مدفن میرامحبوب کے قدموں میں بنادے
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
پنڈی گھیپ(ضلع اٹک پنجاب، پاکستان)کے گاؤں خلاصکے اسلامی بھائی نے اپنی زندگی میں مَدَنی انقلاب برپاہونے کی جومَدَنی بہاربیان کی اُس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے : میں ایک ماڈرن نوجوان تھا، نت نئے فیشن اپنانامیرا محبوب مشغلہ تھا۔بری صحبت کی وجہ سے سگریٹ نوشی کے ساتھ ساتھ چرس کی بھی لت پڑگئی تھی اور مَعَاذَ اللّٰہ میں ایک ایسے گناہِ کبیرہ میں بھی ملوث تھا جس کا ذکر کرنے کی حیا اجازت نہیں دیتی۔عصیاں کے سبب اس قدر بے سکونی تھی کہ میں خود اپنی زندگی سے بیزار تھا۔دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع