30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سکونی میں بسرہورہے تھے کہ ۱۴۲۶ھ بمطابق 2005ء میں خوش قسمتی سے ایک پمفلٹ میرے ہاتھ لگ گیاجس میں دعوتِ اسلامی کے تحتباب الاسلام سندھمیں ہونے والے صوبائی سطحکے سنّتوں بھرے اجتماع کے متعلق پڑھ کرمیں نے اس میں شرکت کی نیت کرلی ، چنانچہ گناہوں کابوجھ لیے اپنے دکھوں کے مُداوے (علاج) کے لیے اس سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہو گیا۔ چار سُو عاشقانِ مصطفی کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نگاہوں کے سامنے موجزن دیکھ کرایمان تازہ ہوگیا۔سنّتوں کے پیکر، باعمل و باکردار اسلامی بھائیوں کے محبت بھرے ملاقات کے اندازنے بھی بیحد متأثرکیا۔ جب اجتماع کی آخری نشست میں شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلالمحمدالیاس عطّار ؔقادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سنّتوں بھرا بیان ’’TVکی تباہ کاریاں ‘‘سنا توخوفِ خداکے باعث میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اورمجھے بدنگاہی اور دیگر گناہوں پر ندامت ہونے لگی۔میں نے اختتامی رقت انگیز دعا میں رب تَعَالٰی کی بارگاہ میں گڑگڑا کر جہاں اپنے گناہوں سے معافی مانگی وہیں یہ دُعابھی کی کہ میرا گھر ٹی وی کی نحوست سے پاک ہوجائے ۔ جب میں واپس گھر لوٹا تو باہمی مشورے سے ٹی وی کو نکال باہر کیا۔ ابھی دوہی دن گزرے تھے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّہمارے عزیزوں ہی میں نہ صرف میری بہن کا رشتہ طے ہو گیا بلکہ اسی ہفتہ نکاح کی ترکیب بھی بن گئی ۔کچھ عرصہ بعدجب میری اہلیہ کا طبی معائنہ (الٹراساؤنڈ) کرایا گیا تو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ اُمید سے ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجلَّ نے کچھ ہی عرصہ بعدمجھے چاند سے مدنی منّے سے نوازدیا۔مدنی منّے کی ولادت تو کیا ہوئی مرجھائی ہوئی زندگی کھل اُٹھی، ہمارے آنگن میں گویا بہار آگئی۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکتیں دیکھ کرمجھ سمیت میرے سارے گھر والے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکرامیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت ہو گئے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر میری ایک ہمشیرہ جامعۃالمدینہ(لِلْبَنات) میں درسِ نظامی(عالمہ کورس) کر رہی ہیں جبکہ دوسری بہن حلقہ سطح پرمَدَنی کاموں کی دھوم مچارہی ہیں ۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
گھارو(ضلع ٹھٹھہ باب الاسلام سندھ)کے علاقے فلٹرپلانٹ کی نئی کالونی کے رہائشی اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے : ۱۴۱۸ھ بمطابق1998ء میں خوش قسمتی سے مجھے پہلی مرتبہ دعوتِ اسلامی کیباب الاسلام سندھ میں ہونے والے صوبائی سطحکے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ اجتماع کی آخری نشست میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرتِ علاّمہ مولانا ابوبلالمحمدالیاس عطّارقادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ’’اونٹ کی ہڈی‘‘ نامی رقّت انگیزبیان فرمایا ۔امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جس پُرسوز انداز میں صحابۂ کرام علیھم الرضوان کے دینِ اسلام کی خاطرتکالیف جھیلنے کے واقعات کاتذکرہ فرمایا اسے سن کرمیرے سارے بدن پرجُھرجُھری طاری ہوگئی ، اس بیان نے میرے دل کی دنیاہی بدل ڈالی اور اس طرح میں سنّتوں پر عمل کی سعادت حاصل کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ آج میں ذیلی حلقہ مشاورت کا رکن ہوں اور مَدَنی قافلہ ذمہ دارکی حیثیت سے مدنی کاموں کے لیے کوشاں ہوں ۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
حیدرآبادکے علاقے عثمان آباد(گؤشالہ)کے رہائش پذیردعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب پیش خدمت ہے : میرے والد صاحب جوپاکستان آرمی(فوج)میں ملازم تھے انھیں آنکھ میں موتیااترآیاجس کی وجہ سے وہ آرمی سے میڈیکل بورڈ(صحت کی خرابی کی وجہ سے ریٹائر)ہوچکے تھے۔ یقینا آنکھیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی عطاکردہ بہت بڑی نعمت ہیں اس کی قدرتووہی بتا سکتا ہے جو بینائی سے محروم ہے۔میں نے۱۴۲۵ھ بمطابق2004ء میں اپنے والدِ محترم کو بلوچستانمیں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے صوبائی سطح کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی۔انہوں نے دعوت قبول کرلی اور سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اجتماع کے آخری دن اختتامی دعا ہو رہی تھی دیگرعاشقانِ مصطفی کی طرح میرے والدِ محترم بھی دعاؤں کی قبولیت کے لیے محتاجوں کی محتاجی دور فرمانے والے ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دستِ سوال دراز کئے ہوئے تھے۔رِقت انگیز دعا کی بدولت شرکائے اجتماع کی آہیں بلند ہو رہی تھیں میرے والد گرامی پر بھی رقت طاری تھی خوفِ خداکے باعث وہ زارو قطار رو رہے تھے۔ انہوں نے دعا کے اختتام پرچہرے پر ہاتھ پھیرے اورجونہی آنکھیں مَلنا شروع کیں ان پرکرم بالائے کرم ہوگیا۔طویل عرصہ سے موتیا کی بیماری میں مبتلا والدِ محترم کو حیرت انگیزطور پر شفانصیب ہوگئی اورموتیاکا مرض ختم ہو گیا۔ بیشک یہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع کی برکت تھی کہ والدِ محترم کی بینائی بحال ہوگئی ۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(7)ولیٔ کامل کی زیارت
باب المدینہ(کراچی)کے علاقے محمدی کالونی ماڑی پور روڈ کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے : ۱۴۲۱ھ بمطابق2001ء میں دعوتِ اسلامی سے وابستہ سر پر سبز سبز عمامہ کا تاج سجائے ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے باب الاسلام سندھمیں ہونے والے صوبائی سطح کے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی جو کہ صحرائے مدینہ (ٹول پلازہ سپرہائی وے روڈ)باب المدینہ(کراچی)میں ہونے والا تھا ۔میں نے حامی بھرلی اور رحمتیں و برکتیں سمیٹنے کے لیے سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوگیا ۔ اجتماع گاہ میں پہنچا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اتنابڑا اجتماع ہونے کے باوجود یہاں نظم وضبط مثالی تھا ۔ہر طرف سبز سبز عماموں کی بہار اجتماع کی رونق کو دوبالا کر رہی تھی ۔اس قدر پر رونق ماحول میری آنکھوں نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا ۔دل میں دعوتِ اسلامی کی محبت کی کلی کھل اٹھی جس کی خوشبو سے دل ودماغ معطر ہو گئے ۔ جونہی میری آنکھیں ولیٔ کامل، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلالمحمدالیاس عطّارقادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت سے مشرف ہوئیں میرے دل کی دنیا ہی بدل گئی اورمیں نے دعوتِ اسلامی ک مہکے مہکے مشکبارمدنی ماحول سے وابستہ ہوکر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع