30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ اس پاکیزہ ماحول ہی کی برکتیں ہیں کہ مجھ جیسانمازوں سے غافل شخص اب صف اولیٰ میں نمازپڑھنے کی کوشش کرنے والابن گیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کی مجلس شعبۂ تعلیم کے ذمّہ دارکی حیثیت سے مدنی کام کے لیے کوشاں ہوں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں پاکیزہ مَدَنی ماحول میں استقامت عطا فرمائے۔اٰمین
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(2)ذکرُاللّٰہ کی پُرکیف صدائیں
گجرات(پنجاب، پاکستان)کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے : غالباً۱۴۲۳ھ بمطابق2002ء میں دعوتِ اسلامی کاسنّتوں بھرااجتماع راولپنڈی کے کالج گراؤنڈمیں ہوا۔اس اجتماع کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطّار قادری دَامَت بَرَکاتہُم العالیہبنفس نفیس تشریف لائے تھے۔ان دنوں میں ایئرفورس میں ملازم تھا۔اپنی موج مستی میں اپنے دوست کے ساتھ کھاناکھانے کی غرض سے باہر نکلاتومیں نے دیکھاکہ اجتماع گاہ کی طرف جانے کے لیے گاڑیاں تیارکھڑی ہیں اوروہاں میرے کورس میٹ(Coursemate)نوجوان بھی تھے۔جنھوں نے مجھ سے پوچھاکہ کہاں جارہے ہو؟میں نے بتایاکہ گھومنے پھرنے جارہے ہیں ۔ اپنی اورساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے جذبہ سے سرشارایک اسلامی بھائی نے مجھ پرانفرادی کوشش کرتے ہوئے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دلائی فکرِآخرت کاذہن دیا، زندگی کے نادرلمحات کی اہمیت کااحساس دلایا۔ ہماری خوش نصیبی کہ ہم دونوں دوست ہاتھوں ہاتھ تیارہوگئے اورعاشقانِ رسول کی رفاقتمیں سنّتوں بھرے اجتماع کی جانب رواں دواں ہوگئے۔راستے میں ایک اسلامی بھائی نے سفرکی دعاپڑھائی اورپھردورانِ سفرنعت خوانی اوردُرُودوسلام کا سلسلہ جاری رہا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّ اب ہم اجتماع کی معطرمعطرفضاؤں میں پہنچ چکے تھے۔یہاں توہرمنظردلنشیں تھا۔دورانِ اجتماع امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے پُرتاثیربیان نے ابتداہی سے میرے غافل دل کوجھنجوڑکررکھ دیااوربالآخرولیٔ کامل کے تاثیر کن الفاظ نے میرے دل میں مَدَنی انقلاب برپا کر دیا ۔ سنّتوں بھرے بیان کے بعداُذْکراللّٰہ!اللّٰہ اللّٰہکی پرکیف صدائیں بلند ہوئیں ۔ تو میرا تاریک دل منوّرہوگیااورمیرے سینے میں دعوتِ اسلامی سے اُلفت ومحبت کاایک گلشن کھل اُٹھا۔مشکبارمَدَنی ماحول کی محبت میرے دل میں راسخ ہو گئی، نیکیاں کرنے اورگناہوں سے بچنے کاجذبہ نصیب ہوااورہاتھوں ہاتھ میں نے یہ نیت کرلی کہ اس باررمضان المبارک میں سنّتوں بھرے اعتکاف کی سعادت حاصل کروں گا بالآخر وہ گھڑیاں آگئیں کہ میں دعوتِ اسلامی کے زیرِاہتمام سنّت اعتکاف کے روح پرورماحول میں نچھاورکیے جانے والے علمِ دین کے موتی سمیٹنے کے لیے شریک ہوگیا۔سنّت اعتکاف کی برکت سے میں نے چہرہ پرداڑھی سجالی، فیضِ عطّار پانے کے لیے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دستِ شفقت پربیعت ہو گیا اور عطاری نسبت کا سہرا سجاکرتمام فضول کاموں سے توبہ کرکے آئندہ نیک اورصالح کام کرنے کی نیت کر لی۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں استقامت کی دولت عطافرمائے۔آمین
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
سجاول(ضلع ٹھٹھہ باب الاسلام سندھ)کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ تبلیغ قراٰن وسنّت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے باب الاسلام سندھمیں ہونے والے صوبائی سطحکے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔سنّتوں بھرے اجتماعات کے فضائل وبرکات سن کرمیرے دل میں بھی اجتماع میں شرکت کے لیے جذبۂ شوق انگڑائی لینے لگاکہ یہ رحمتیں اور برکتیں میرے خالی دامن کی زینت بھی بن سکتی ہیں اورسنّتوں پرعمل کی برکت سے میں اپنے اندرکی تاریکیوں کومنّورکرسکتاہوں ۔چنانچہ اسی اُمیدپر میں دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوگیا۔وہاں حج کا سا سماں تھا ہرطرف سبز سبز عمامے، سفیدلباس میں ملبوس سنّتوں کے پیکراسلامی بھائیوں کااژدہام دیکھ کر میرا ایمان تازہ ہوگیا۔دورانِ اجتماع جب شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا پرتاثیر، خوف ِخداسے بھرپور بیان’’پل صراط کی دہشت‘‘سناتومیرادل چوٹ کھا گیا۔ نزع کی سختیاں ، عالمِ برزخ کی مشکلیں ، محشرکاوہ مشکل مرحلہ آہ!یوں لگاکہ بس میں توسراسرغفلت میں رہا ہوں ۔ چنانچہ میں نے صدقِ دل سے توبہ کی اورمیں ایک عظیم مَدَنی مقصد’’مجھے اپنی اور ساری دنیاکے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘کاپاکیزہ جذبہ لیے سرپر سبزسبزعمامہ شریف کاتاج سجالیااوردارین کی فلاح پانے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مشکبارمَدَنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّ فکرِآخرت کا ایساذہن ملاکہ میں نہ صرف صلوٰۃوسنّت کا پابند ہوا بلکہ سنّتوں کی تربیت کے لیے ہر ماہ تین دن کے مَدَنی قافلوں میں سفرکواپنامعمول بنا لیا۔ اس پاکیزہ ماحول کی برکتیں میرے اہلِ خانہ پربھی ظاہرہونے لگی جس کی بدولت آج بفضلہ تَعَالٰی میرامَدَنی منّا بھی مَدَنی ماحول کی برکت سے حافظِ قراٰن بن رہا ہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ان سنّتوں بھرے اجتماعات میں پابندی کے ساتھ شرکت کو اپنامعمول بنائیں کہ جن میں اللّٰہ عَزَّوَجلَّ کے ہزاروں نیک بندے شریک ہوتے ہیں کیامعلوم کس کے صدقے ہماری بگڑی بن جائے۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
باب المدینہ(کراچی)کے ایک اسلامی بھائی اپنے احوال کا تذکرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ بدقسمتی سے ہمارے گھر میں حبِّ دنیا کا رنگ غالب تھا۔ فلمیں ڈرامے دیکھنااورگانے باجے سنناروزمرّہ زندگی کاحصہ بن گئے تھے یہی وجہ تھی کہ گھر کے ہر فرد نے مختلف اداکاروں کو اپنا آئیڈیل بنا رکھا تھا۔گناہوں کی نحوست کے باعث جہاں گھرکی پریشانیوں اور الجھنوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا تھا وہیں میری شادی کو ایک عرصہ گزرجانے کے باوجود میرا دامن اولاد کی نعمت سے خالی تھا اس پر گھروالے کبھی کبھار طعنے بھی دیتے جس کی وجہ سے میری اہلیہ رونے لگتیں نیز ایک پریشانی یہ بھی لاحق تھی کہ بہن کے رشتے کی کوئی ترکیب نہیں بن پارہی تھی ۔ یہ تکلیف تووہی محسوس کرسکتاہے کہ جس کااس طرح کے مصائب سے واسطہ پڑا ہو۔ میرے شب وروزاسی بے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع