سُوال: کیا تَراوىح کى نماز اَکىلے پڑھ سکتے ہىں؟
جواب: جب کوئی شرعی مجبوری نہ ہو تو عشا کی فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے۔ (2) لیکن اگر کچھ لوگوں نے نمازِ تَراویح جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھ لی اور دِیگر لوگ گھر میں پڑھتے ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ (3) البتہ مسجد میں پڑھ کر اِسے آباد رکھنا چاہئے۔اگر عشا کی نماز مسجد میں پڑھ کر گھر چلے گئے اور تَراویح گھر میں پڑھی تو لوگ باتیں بنائیں گے۔ دعوتِ اسلامى والے اور جو بھی مذہبی تشخص رکھتے ہیں اگر وہ گھر میں تَراویح پڑھیں گے تو عام لوگوں کے باتیں بنانے اور گناہوں میں پڑنے کا اِمکان ہے۔ نمازِتَراوىح باجماعت مسجد مىں ادا کی جائے کہ اس سے مسجد کی آباد کاری ہے جو مسجد کا حق ہے۔ گھر میں تَراویح پڑھیں گے تو قرآنِ کریم سُننے سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ ہر کوئی حافظِ قرآن نہیں ہوتا جبکہ مسجد میں باجماعت تَراویح پڑھیں گے تو قرآنِ کریم سُننے کا ثواب بھی ملے گا۔
(امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا:)حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم رَمَضان میں ایک مَرتبہ مسجد مىں تشرىف لے کر آئے تو آپ نے دىکھا صحابہ ٔ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم تَراوىح کى نماز پڑھ رہے تھے،جن میں سے کچھ اپنی اپنی پڑھ رہے تھے اور اىک گروہ کسی کے پیچھے تَراویح پڑھ رہا تھا۔حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے اِرشاد فرماىا:ىہ کىا کر رہے ہىں ؟صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم نے عرض کى کہ کچھ لوگ جو حافظِ قرآن نہیں اُنہیں حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ تَراویح کی نماز باجماعت پڑھا رہے ہیں۔ اِس پر نبىِّ کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرماىا:اَصَابُوْا وَنِعْمَ مَاصَنَعُوْا ىعنى انہوں نے جو کام کیا ہے وہ دُرُست کیا ہے۔( ) حضرتِ سَیِّدُنا اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے پىچھے کچھ صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم نے تَراویح پڑھی تو حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسے پسند فرماىا۔ ىہ سلسلہ حضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے دور تک چلتا رہا کہ کچھ اَفراد کسى کے پىچھے تَراویح پڑھتے اور کچھ علیٰحدہ علیٰحدہ پڑھتے تھے۔ پھر حضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے اُن تمام کو اىک قارى ىعنى حضرتِ سَیِّدُنا اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے پىچھے جمع کر دىا اور سب اىک امام کے پىچھے پڑھنے لگے۔جس کے بارے مىں حضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے فرماىا : نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ یعنی یہ بہت اچھا کام ہے۔( )نبىِّ کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے بھی تین دِن تک تَراویح کی نماز باجماعت پڑھائی ہے پھر بعد میں باجماعت پڑھانا اِس وجہ سے چھوڑ دى کہ کہىں باجماعت تَراوىح فرض نہ کر دى جائے۔ جب حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم دُنىا سے پَردہ فرما گئے تو اب فرض ہونے کى صورت نہ رہى۔( ) پھر حضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے تَراوىح کى نماز باجماعت پڑھنا جارى کىا لہٰذا جماعت کے ساتھ تَراویح پڑھنی چاہئے۔حدیثِ پاک میں ہے: فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الْمَھْدِیِّیْنَ الرَّاشِدِیْنْ یعنی تم پر مىرى سنَّت اور مىرے خلفائے راشدىن جو ہدایت کرنے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ان کى سنَّت کوپکڑنا لازم ہے۔( ) لہٰذا تَراویح جماعت کے ساتھ پڑھنا بہت اچھا کام ہے۔تَراویح کی نماز سُنَّتِ مؤکدہ ( ) اور باجماعت پڑھنا سُنَّتِ مؤکدہ عَلَی الکفایہ ہے ( ) لہٰذا باجماعت پڑھیں گے تو دونوں کا ثواب ملے گا۔
سُوال: اگر کوئی شخص کسی بھی وجہ سے تَراویح کی نماز اَکیلا پڑھ رہا ہو تو وہ بلند آواز سے قراءت کر سکتا ہے ؟
جواب: رات میں پڑھی جانے والی نماز یعنی فرض ، وتر، سُنَّت،نفل اور تَراویح میں بلند آواز سے قراءت کر سکتے ہیں ( ) جبکہ کوئی مانعِ صورت نہ ہو مثلاً کسی سوتے شخص کو کوئی تکلیف نہ ہو بلکہ جہرى نماز اگر اَکیلے پڑھی جائے تو جہر یعنی بلند آواز سے پڑھنا بہتر ہے۔( )
سُوال: کیا روزے میں ماں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے؟
جواب:پلا سکتى ہے،اِس سے روزہ نہىں ٹوٹے گا۔
سوال:ہمیں اپنے مُرشد کا یومِ وِلادت کیسے منانا چاہیے؟ (حجاب عطارىہ)
جواب:پِیر صاحب کے یومِ وِلادت میں ان کے لیے عافیت والی لمبی عمر اور مغفرت کی دُعا کرنی چاہیے۔ اپنے پِیر صاحب کے لیے اللہ پاک کی رضا طلب کرنی چاہیے۔ پِیر صاحب کا فیض جاری رہے اِس طرح کی دُعائیں کرنی چاہئیں۔ کیک کاٹنا اگرچہ جائز ہے لیکن میری رائے یہی ہے کہ نہ کاٹا جائے کیونکہ اِس سے بہت مَسائل ہوتے ہیں۔ مَرد و عورت ایک ساتھ اکٹھے ہو تے ہیں اور تالیاں بجائی جاتی ہیں۔جَشنِ وِلادت مصطفےٰ میں بھی کیک کاٹے جاتے ہیں اور لوگ انہیں ضائع بھی کرتے ہیں۔ کیک پر جَشنِ وِلادت مُبارک لکھا جاتا ہے یا نقشِ نعلِ مُبارک بنایا جاتا ہے پھر اسی کیک پر چُھری رکھ کر دَرمیان سے نَعُوْذُبِاللہ کاٹا جاتا ہے۔ کیا کوئى عاشقِ رَسُول ایسا کرتا ہے! ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
سُوال: مىرى عمر سات سال ہے مىں نے پہلا روزہ رکھا ہے،کىا مىں اِس کا ثواب اللہ پاک کے آخرى نبى صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پىش کر سکتى ہوں ؟ (اُمیمہ)
جواب:مَا شَآءَ اللّٰہ!اُمیمہ بائی کو روزہ مُبارک ہو،آپ اپنے روزے کا ثواب سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو اِىصال کر سکتى ہىں۔ امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا دِن کل ہی گزرا ہے،انہیں اور حضور غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو بھی اِیصال کر سکتی ہیں ۔ آج غروبِ آفتاب کے بعد یومِ بدر شروع ہو جائے گا اور اُمُّ الْمُؤمِنِیْن بی بی عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا کا بھی یوم ہے تو اِنہیں بھی اس روزے کا ثواب اِیصال کر سکتی ہیں۔بہر حال کسی کا دِن ہو یا نہ ہو جس کو چاہیں بلکہ ساری اُمَّت کو اِیصالِ ثواب کر سکتے ہیں۔
سُوال: سچ اور چغلى مىں کىا فرق ہے؟(مراد علی )
جواب: سچ اور چغلى میں زمىن و آسمان کا فرق ہے ، سچ اچھائى ہے اور چغلى بُرائى ہے ۔ سچ بولنے والا مومن ہے تو جنَّت مىں جانے کا حق دار ہے جبکہ چغلى کھانے والا جہنم مىں جانے کا حق دار ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: چغل خور جنَّت مىں نہىں جائے گا۔ ( )(اِس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا:) شاید سائل کی مُراد یہ ہو کہ جو چغلی کر رہا ہے وہ بھی تو کسی کو سچ بات بتا رہا ہے۔ (امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا: ) تو کیا ہر سچ بات کا بولنا ضَروری ہے؟ گھر کے عیوب کسی کو بتانا ثواب کا کام ہے؟ غیبت بھی تو سچ ہو تی ہے جبھی تو غیبت ہے ورنہ تہمت ہو جاتی۔(امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا:) چغلى مىں ضَرر پہنچانے کی نیت بھی کی جاتی ہے اور چغلى کى تعرىف بھى ىہى ہے کہ ضَرر پہنچانے کے لىے کسى کى بات دوسرے کو پہنچانا۔( ) اِس وجہ سے سچ اور چغلی میں فرق واضح ہے۔
سُوال: مولوى کسے کہتے ہیں ؟
جواب:جو دَرسِ نظامی کرتے ہیں وہ مولوی اور فاضل کہلاتے ہیں۔ مولوی کا معنیٰ ”مولا والا“ ہے، عام طور پر لوگ داڑھی والوں کو بھی مولوی کہتے ہیں۔ اِس دور میں مولوی لفظ معیوب سا بنتا جا رہا ہے، پہلے لوگ ”مُلّا “بولتے تھے اُس وقت یہ لفظ اِحترام والا تھا پھر اِس سے پیچھے ہٹے اور”مولوی“ بولنا شروع کر دیا اب یہ بھی معیوب ہو گیا ہے اور اب اِحتراماً مولانا کہتے ہیں ، اب دیکھو یہ کب تک رہتا ہے۔
سُوال: ہمارے ىہاں بھانجى کی وِلادت ہوئى ہے، ہم نے اُس کا نام دُعا فاطمہ رکھا ہے، کچھ لوگ کہتے ہىں کہ دُعا فاطمہ نام دُرُست نہىں ہےلہٰذا اِسے تبدیل کر دو۔ یہ اِرشاد فرمائىے کہ دُعافاطمہ نام دُرُست کىوں نہىں ہے؟ (اِحسان الحق، گجرانوالہ)
جواب:دُعا فاطمہ نام دُرُست ہے ،اِس کا معنیٰ فاطمہ کی دُعا ہے۔ اللہ کرے کہ بى بى فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا کى دُعا مل جائے کہ اِس سے بڑھ کر اور کیا سعادت ہو سکتی ہے ۔
قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ****
کتاب کا نام مصنف/مؤلف/متوفیٰ مطبوعات
کنزالایمان اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۲ھ
بخاری امام ابو عبدُ اللہ محمد بن اسماعیل بخاری،متوفی۲۵۶ھ دارالکتب العلميۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
مسلم امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری، متوفی۲۶۱ھ دارالکتاب العربی بیروت۱۴۲۷ھ
ترمذی امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی، متوفی۲۷۹ھ دار الفکر بیروت۱۴۱۴ھ
ابو داود امام ابو داود سلیمان بن اشعث سجستانی، متوفی۲۷۵ھ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ
مصنف عبدالرزاق امام حافظ ابوبکر عبدالرزاق بن ھمام،متوفی۲۱۱ھ دارالکتب العلميۃ بیروت
کنز العمال علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی برہان پوری،متوفی۹۷۵ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
حلية الاولیاء حافظ ابو نعیم احمد بن عبدُ اللہ اصفہانی شافعی، متوفی۴۳۰ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
موسوعة امام ابن ابی الدنیا امام عبدُ اللہ بن محمد ابوبکر بن ابی الدنیا، متوفی ۲۸۱ھ المکتبۃ العصریہ بیروت۱۴۲۶ھ
منح الروض الازھر علی بن سلطان محمد ہروی حنفی ملا علی قاری، متوفی۱۰۱۴ھ دار البشائر الاسلامیۃ
عمدة القاری علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی، متوفی۸۵۵ھ دارالفکربیروت
غنیۃ المتملی شیخ ابراہیم الحلبی الحنفی،متوفی۹۵۶ھ لاہور
درمختار علاؤالدین محمد بن علی حصکفی،متوفی۱۰۸۸ھ دارالمعرفۃبیروت۱۴۲۰ھ
فتاویٰ ھندية ملانظام الدین، متوفی۱۱۶۱،وعلمائے ھند دارالفکربیروت۱۴۱۱ھ
فتاویٰ قاضی خان علامہ حسن بن منصور قاضی خان ،متوفی ۵۹۲ھ پشاور
فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ رضا فاؤنڈیشن لاہور۱۴۲۷ھ
بہارِشریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ