Gosha Nasheeni Kise Kehte Hain
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Murgha Azan Kiyon Deta Hai? | مُرغا اذان کیوں دیتا ھے؟

Gosha Nasheeni Kise Kehte Hain

book_icon
مُرغا اذان کیوں دیتا ھے؟

گوشہ نشینی کسے کہتے ہیں ؟

سوال:گوشہ نشینی کے کیا معنیٰ ہے؟ نیز کیا آج کے دور میں بھی گوشہ نشینی ممکن ہے؟  
جواب:گوشہ نشینی کے معنیٰ ہے کونے میں بیٹھ جانا ۔ بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم  نے  گوشہ نشینی عبادت کے لیے اِختیار  کی تھی اور آج لوگ گوشہ نشینی اپنی جان بچانے کے لیے اپنا  رہے ہیں، اِن دونوں میں   زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ اب تو کورونا وائرس نے  کتنے ہی لوگوں کو کونے میں بٹھا دیا ہے۔ (اِس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا:)جس وقت کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا تو اس وقت  گوشہ نشینی اور تنہائی وغیرہ کے موضوعات کا بھی سلسلہ شروع ہوا تھا ۔اگرحضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  کےبیان کردہ  گوشہ نشینی کے آداب پڑھے ہوتے تو اس سے  بہت لوگ فائدہ اُٹھا چکے ہوتے۔( )  

تنہائی میں بھی عبادت کرنے کی عادت بنائیے

سوال:کچھ لوگ تنہائی میں عبادت نہیں کر سکتے لیکن جہاں پر چند لوگ جمع ہوں وہاں  اپنے آپ کو عبادت کے ماحول میں ڈھال پاتے ہیں،تنہائی میں عبادت کرنے کا ذہن نہیں بن پاتا،اِس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ (نگرانِ شوریٰ کا سوال) 
جواب:تلاوتِ قرآنِ کریم،دُرُودِ پاک اور نوافل بندہ اکیلے میں پڑھ سکتا ہے۔ یوں ہی  دِینی کتب کا مُطالعہ بھی کر سکتا  ہے۔ اللہ پاک کی رضا  کے لیے اگر یہ کام  کرے گا تو ثواب بھی پائے گا۔ دَراصل  اکیلے میں  عبادت کرنے کی نہ تو  عادت  ہوتی ہے اور  نہ ہی جَذبہ۔ ہمارے پیارے  آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم غارِ حرا میں کئی کئی روز عبادت کیا کرتے تھے۔( )   بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہمِ  غاروں میں بسیرے کیے ہوئے تھے،وہاں  چراغ بھى نہىں تھا اور نہ ہی پنکھے تھے اور آس پاس دَرندے وغیرہ جانور بھی  ہوا کرتے تھے اِس کے باوجود غاروں میں بھی جا کر انہوں نے  عبادت کی  اور ان کا عبادت میں دِل بھی لگا رہتا تھا۔ یہ  اللہ پاک کی شان اورقدرت ہے۔ ( اِس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا: )حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جب اپنے گھر میں نماز پڑھتے اور تلاوت کیا کرتے تھے تو کفار اپنے گھر والوں اور بچوں کوآپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے دور رکھتے تھے کہ کہیں آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی تلاوت سُن کر وہ اِسلام قبول نہ کر لیں۔ ( ) 

نیکیوں سے دور رہنا محرومی اور بَربادی کا سبب ہے

سوال :جو لوگ  نیک کام نہیں کرتے اور  نہ ہی نیک کام کرنےکو پسند کرتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ 
جواب: نیک کام نہ کرنا محرومی ہے اور پسند نہ کرنا اس سے بھی بڑی بَربادی ہے۔اِس طرح تو بندہ کفر میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ جیسے نماز نیک کام ہے اب جو نماز کو پسند نہیں کرتا  وہ مسلمان کیسے رہے گا۔نیکی کے کام کو پسند نہ کرنے کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اس کا نفس نیک کام کرنے کو پسند نہیں کرتا جیسا کہ نمازِ فجر کا وقت ہوگیا اب نفس کو یہ پسند نہیں کہ نماز پڑھی جائے،بندے کو چاہیے کہ نفس کا مقابلہ کر کے نماز پڑھے ۔ یوں ہی روزے کی حالت میں بندہ کمزور و نڈھال ہو جاتا ہے تو نفس کہتا ہے روزہ نہ رکھ۔نفس کو روزہ پسند نہیں ہے،نفس تو گناہ کی طرف ہی لے جاتاہے۔بہرحال نفس کا کسی چیز کو  ناپسند کرنا ایک الگ چیز ہے اور خود ناپسند کرنا یہ الگ چیز ہے۔اِس طرح کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر کوئی نوجوان داڑھی رکھ لے تو گھر میں ماں باپ طوفان مچا دیتے ہیں پھر سنَّت کے تعلق سے بعض اوقات کُفریات بھی کہہ جاتے ہیں  اللہ پاک ہم سب کا اِیمان سَلامت رکھے۔     (اِس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا :)حدیثِ پاک میں ہے:ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ بُرائی کا حکم دیں گے اور بھلائی سے منع کریں گے۔( )(امیرِ اہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا :) اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں بھی منافقین کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ بُرائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں۔( ) 

کیا مسجد میں شیطان آسکتا ہے؟   

سوال :کیا مسجد میں بھی شیطان آجاتا ہے؟       
جواب: جی ہاں!شیطان مسجد میں آسکتا ہے اسے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔  ( اِس موقع پر نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا :) حدیثِ پاک میں ہے: جب اذان ہوتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا  بھاگتا ہے جب اذان مکمل ہوتی ہے تو لوٹ آتا ہے، اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ جاتا ہے حتّٰی کہ دوبارہ لوٹ کر آتا ہے  اور نمازی کے دِل پر اپنا منہ رکھتا ہے اورکہتا ہے فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر ۔( ) 

گناہ سے باز نہ آنا اور’’ میں جہنم میں ہی جاؤں گا‘‘ کہنا کیسا ؟

سوال:گناہ کرنے والا شخص گناہ کر کے توبہ نہیں کرتااور کہتا ہے’’میں گناہ ہی کرتا رہوں گا اور جہنم ہی میں جاؤں گا‘‘ ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہو گا ؟ 
جواب:یہ بہت ہی زیادہ سخت بات ہے۔بےباکى اور ماىوسى دونوں ہی خطرناک ہیں۔ (اِس موقع پر امیرِ اہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا:)اگر گناہِ قطعی کو حلال یا عذاب کو ہلکا جان کر کرتا ہے تو اس صورت میں کفر ہو گا۔  ( ) لیکن یہاں پر ایسی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ۔اگر یہ سوچ ہے کہ گناہ کرتے رہو جانا   تو جہنم ہی میں ہے یا ایسا ذہن بنا  لینا کہ گناہ کر کر کے میرا حال ایسا ہوہی گیا ہے میری بخشش تو ہونی نہیں ہے  تو اب گناہ کرتے ہی رہو جہنم میں تو جانا  ہی  ہے یہ نَعُوْذُبِاللہ  بے باکى ہے۔    (امیر ِ اہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا:)اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:( لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۵۳) )(3) ترجمۂ کنز الایمان:”اللہ کی رَحمت سے نااُمید نہ ہو بےشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہےبےشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔“بڑے بڑے گناہگاروں کو اللہ پاک بخش دىتا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: بنی اِسرائیل کا ایک شخص 99 قتل کر چکا تھا،جب  اسےاپنے ان گناہوں کا اِحساس ہوا اور توبہ کے اِرادے سے چلا تو راستے میں  ایک عابد کو دیکھا تو اس سے کہنے لگا:میں نے 99 قتل کیے ہیں کیا اب بھی میری بخشش ہو سکتی ہے؟ چونکہ وہ عابد علمِ دِین سے عاری  تھا، وہ کہنے لگا:تو نے 99 قتل کیے ہیں تیری بخشش نہیں ہو سکتی ۔ یہ سننا تھا کہ اس نے اس عابد کو  بھی قتل کر دیا۔ اب 100قتل کر لینے کے بعد پھر اِحساس ہوا کہ شاید میری بخشش کی کوئی صورت ہو۔ یہ سوچتے ہی نیک لوگوں کی بستی کی طرف چل دیا کہ شاید وہ توبہ کا کوئی طریقہ بتا دیں۔ تھوڑا ہی چلا تھا کہ بیمار ہو گیا اور اسے  یقین ہو گیا کہ اب مزید نہیں چل سکے گا۔ تو اس نے اپنا رُخ نیک لوگوں کی بستی کی طرف کیا اور اسی سمت زمین پر لیٹ گیا،یہاں تک کہ موت نے اسے آدبوچا ۔رَحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آگئے۔ عذاب دینے والے فرشتوں نے کہا :اسے ہم لے جائیں گے یہ گناہ گار ہے ،اس نے 100 قتل کیے ہیں ۔ رَحمت کے فرشتوں نے کہا:یہ شخص اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے اِرادے سے چلا تھا  اِس لیے ہم اسے لے جائیں گے۔  اللہ پاک نے حکم دیا :اے فرشتوں! زمین کو ماپ لو ۔اگر اس جگہ سے قریب ہے جہاں سے چلا تھا تو عذاب کے فرشتے لے جائیں اور اگر اس جگہ کے قریب ہے جہاں جانے کے لیے چلا تھا تو رَحمت کے فرشتے لے جائیں۔ نیک لوگوں کی بستی دورتھی تو   اللہ پاک نے اس زمین کو سمٹ جانے کا حکم دیا ، اور جو زمین قریب تھی اسے کشادہ ہونے کا حکم دے دیا۔ اللہ پاک  کے حکم سے فرشتوں نے دونوں طرف کی زمین کو ماپا تو اسے  نیک لوگوں کی بستی کے قریب پایا ، تو رَحمت کے فرشتے اس کو لے گئے ۔ ( )  
اللہ پاک  کی رَحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے،اس کی رَحمت بہت بڑی ہے ،بندے کو اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے اور توبہ کے تقاضوں پر  پورا اُترنا چاہیے۔  بے باک ہونا یا مایوس ہو جانا یہ بیوقوفی ہے۔  اللہ پاک کےقہروغضب سے ڈرتے رہنا  چاہیے۔اس کے عذاب کو کوئی جان بھی بَرداشت نہیں کر  سکتی ۔اِعلانیہ گناہ کرنے والا  فاسقِ معلن بھی بےباک  کی فہرست میں آئے گا۔اسے بھی عاجزی کرتے ہوئے اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ  کے لیے جھک جانا  چاہیے۔

تمام مخلوق سے بڑھ کر محبت

سوال:ہمارے دِل میں اللہ پاک سے کتنی محبت ہونی چاہیے؟   (احمدرضا) 
جواب: اللہ پاک اور اس کے رَسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے محبت تمام مخلوق سے بڑھ کر ہونی چاہیے حتّٰی کہ ماں باپ، اَولاد، دوست اَحباب  اوراپنی  تمام محبوب ترین چیزوں   سے بھی بڑھ کر دِل میں محبت ہونی چاہیے۔ 
محبت مىں اپنى گما ىاالٰہى                    نہ پاؤں مىں اپنا پتا ىاالٰہى (وسائلِ بخشش)

وُضو کرنے سے پہلے دُعا پڑھنا بھول گئے تو کیا دَرمیان میں پڑھ سکتے ہیں؟

سُوال:اگر وُضو کے شروع مىں بِسْمِ اللہ پڑھنا بھول جائىں تو کىا دَرمىان مىں پڑھ سکتے ہىں؟
 (سلمان انصاری، Facebook کے ذَریعے سُوال) 
جواب:وُضو شروع کرنے سے پہلے اللہ پاک کا نام لینا سُنَّتِ مؤکدہ ہے۔( )اگر ویسے ہی اللہ، اللہ کر کے وُضو شروع کر دیا تو سُنَّت ادا ہو جائے گی لیکن بِسْمِ اللہِ الَّرحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھنا مستحب ہے۔( ) وُضو شروع کرنے سے پہلے بِسْمِ اللہِ  پڑھنا بھول گئے تو وُضو کے دَرمیان میں بِسْمِ اللہِ  پڑھنے کے حوالے سے کچھ پڑھا نہیں ہے۔البتہ کھانا کھانے سے پہلے بِسْمِ اللہِ پڑھنا بھول گئے اور دَرمیان میں یاد آجائے تو اُس وقت بِسْمِ اللہِ اَوَّلَہُ وَاٰخِرَہ پڑھتے ہیں۔( ) (امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا:) ”غُنْیَۃُ الْمُتَمَلِّیْ“ میں وَضاحت کى گئى ہے کہ وُضو شروع کرنے سے پہلے بِسْمِ اللہ پڑھنا بھول گئے پھر وُضو  کرتے ہوئے یاد آجانے پر پڑھیں گے تو شروع میں پڑھنے کی سُنَّت ادا نہیں ہو گی لیکن اللہ پاک کا نام جب بھى لىں گے فائدہ ہو گا۔تاہم کھانا کھاتے ہوئے یاد آنے پر   بِسْمِ اللہِ اَوَّلَہُ وَ اٰخِرَہ  اِس لئے پڑھتے ہیں کہ اِس پر حدیث آئی ہے جبکہ وُضو کے بارے میں ایسی کوئی حدیث نہیں۔ ( )  

وُضو میں ہر عضو دھوتے وقت پڑھنے کا وَظیفہ

سُوال: وُضو میں ہر عضو دھوتے وقت کیا پڑھنا چاہئے؟  
جواب:وُضو میں ہر عضو دھوتے وقت ”       یَا قَادِرُ“ پڑھتے رہنا چاہئے۔  

کیا فرض کی قضا کے ساتھ سنَّت کی بھی قضا ہے؟

سوال:قضا نمازوں میں  صرف فرض کی قضا ہے یا سنتوں کی بھی قضا  کی جائے گی ؟ 
جواب:قضا صرف فرض اور وتر کی ہوتی ہے سنَّت کی قضا نہیں کی جاتی، لیکن اگر اسی دِن کی نمازِ فجر قضا ہوئی ہو تو اس کی سنتیں اسی دِن کے ضحوۂ کبریٰ سے پہلے پہلے پڑھ سکتے ہیں یہ  مستحب ہے، اِس کے علاوہ دِیگر سنتوں کی قضا نہیں ہے  ۔( )

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن