30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جن کو اہل طریقت کے ماہرین نے اخذ کیا ہے، ان میں سے کسی مخصوص طریقہ کو متعین کرنا مرشد کی صوابدید پر موقوف ہے کہ وہ حال کے مطابق جس کو مناسب سمجھے، اس کی تلقین کرے۔ جس طرح دوسری آیہ ِکریمہ میں ارشاد ہے کہ اگر تم نہ جانو، تو اہل ذکر سے سوال کرو۔
اقول: وباللہ التوفیق (میں کہتا ہوں اور توفیق اللہ سے ہے۔ ت) اس عبارت سے جیسا کہ تصورِ برزخ کا جواز ثابت ہوا، اس کے سو ا اور بھی فوائدِ جلیل حاصل مثلاً:
ایک یہ کہ شغل ِبرزخ کے ساتھ ذکر کرنا ،اطلاقِ آیت ِقرآنی کے تحت میں داخل ۔
دوم :مطلق ذکر پر قرآن وحدیث میں جو عظیم تر غیبیں آئیں اسے بھی شامل۔
سوم: مطلق ہمیشہ اپنے اطلاق پر رہے گا اور اُس کا حکم اُس کے جمیع مقیدات میں ساری شرع میں صرف اس کی اجازت، ان کی اجازت کے لیے کافی، جس کے بعد خصوصیات ِخاصہ کے ثبوتِ خاص کی حاجت نہیں ،مطلق اصولی کو مطلق منطقی سمجھنا محض خطاہے۔“(1)
(9)...نماز ِپنجگانہ کے بعد مصافحہ کا ثبوت :
عموم واطلاق سے استدلال کی ایک مثال نمازِ پنجگانہ کے بعد مصافحہ کا ثبوت بھی ہے کہ جب بدمذہبوں نے اس پر اعتراضات کیے اور اسے بدعتِ مکروہہ قرار دیا، تو ان کا رد کرتے ہوئے، امامِ اہل ِسنت نے علمائے کرام کی عبارات ذکر فرما کر ثابت کیا کہ نماز کے بعد مصافحہ کرنا،احادیثِ مصافحہ کے عموم و اطلاق کے تحت داخل ہے کہ جن احادیث میں مسلمان بھائی سے مصافحہ کے فضائل بیان ہوئے ،ان میں کسی وقت کی کوئی قید نہیں کہ نماز سے پہلے جائز اور بعد میں منع، بلکہ احادیث میں وارد صیغے عام اور مطلق ہیں ۔
[1] …۔ فتاویٰ رضویہ، ج21، ص581،580، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاہور۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع