30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکم ارشاد فرمایا تھاجیساکہ محاورۃً کہا جاتا ہے بادشاہ نے فلاں عالم کو یہ عطیہ دیا حالانکہ وہ خود عطا نہیں کرتا ، بلکہ عطا کرنے والا کوئی غیر ہوتا ہے۔
امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے قول والوں کی تائید میں ایک روایت بیان فرمائی جو اس بات میں نص مفسر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بنفسِ نفیس اذان دی ہے کیونکہ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے ”اشھد ان محمدا رسول اللہ “ کی جگہ ” اشھد انی رسول اللہ “ کے کلمات ادا فرمائے تھے۔یوں یہ نص مفسر سے استدلال کی صورت ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے: ” قال فی الدر مختار وفی الضیاء انہ علیہ الصّلاۃ والسّلام اذن فی سفربنفسہ واقام وصلی الظھر وقد حققناہ فی الخزائن .قال فی ردالمحتار،حیث قال بعد ماھنا ھذا وفی شرح البخاری لابن حجر ومما یکثر السؤال عنہ، ھل باشر النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الاذان بنفسہ وقداخرج الترمذی،انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذن فی سفر وصلی باصحابہ وجزم بہ النووی وقواہ، ولکن وجد فی مسند احمد من ھذا الوجہ فامر بلالاً فاذن فعلم ان فی روایۃ الترمذی اختصارا وان معنی قولہ اذن امر بلالاً کمایقال اعطی الخلیفۃ العالم الفلانی کذا وانما باشر العطاء غیرہ ورأیتنی کتبت فیما علقت علی ردالمحتار ما نصہ اقول لکن سیأتی صفۃ الصلاۃ عند ذکر التشھد عن تحفۃ الامام ابن حجر المکی انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم اذن مرّۃ فی سفر فقال فی تشھدہ ''اشھد انّی رسول اللہ'' وقد اشار ابن حجرالی صحتہ، وھذا نص مفسر لایقبل التأویل، وبہ یتقوٰی تقویۃ الامام النووی رحمہ اللہ تعالٰی ماکتبت “درمختار میں فرمایا اور الضیاء میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سفرمیں بنفسِ نفیس اذان دی، تکبیر کہی اور ظہر کی نماز پڑھائی اور ہم نے خزائن میں اس بارے میں تحقیق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع