30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مقدمہ :
شروع اسلام کا دور بڑا زرخیر ہے،جہاں خدمت حدیث کے لیے بڑے بڑے محدثین پیدا ہوئے، وہیں خدمت فقہ کے لیے کئی مجتہدین پیدا ہوئے جو امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی رضی اللہ عنہما کی طرح مجتہد مطلق اور صاحب مذہب تھے، مگر رفتہ رفتہ ان کے پیروکار او رعلماء باقی نہ رہے، ان مذاہب کی روایات محفوظ نہ رہ سکیں، اسی وجہ سے فقہاء کرام نے فرمایا کہ اب صرف چار مذاہب یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اورحنبلیہ میں سے کسی ایک پر عمل کرنا ہوگا، یہی چار گروہ نجات پانے والے ہیں، ان سے خروج جائز نہیں ہے۔
علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل طحطاو ی رحمۃ اللہ علیہ حاشیہ در مختار میں فرماتے ہیں: ” فعلیکم معاشر المومنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسماۃ باھل السنۃ والجماعۃ فان نصرۃ اللہ وحفظہ وتوفیقہ فی موافقتھم وخذلانہ و سخطہ و مقتہ فی مخالفتھم ، وھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیو م فی مذاھب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحمھم اللہ ۔ومن کان خارجا عن ھذہ الاربعۃ فی ھذ الزمان فھو من اھل البدعۃ والنار “ ترجمہ :تو اے گروہ مسلمین !تم پر نجات یافتہ گروہ کی پیروی لازم ہے، جس کا نام اہل سنت و الجماعت ہے کیونکہ اللہ کریم کی مدد،اس کی حفاظت اور تو فیق اہل سنت کی موافقت میں ہی ہے اور اللہ کی طرف سے ذلت ،اس کی ناراضی اور غضب ان کی مخالفت میں ہے ۔ یہ نجات پانے والا گروہ فی زمانہ چار مذاہب میں جمع ہے اور وہ چار مذاہب یہ ہیں :حنفی ،مالکی ،شافعی اور حنبلی ،اور اس دور میں جو شخص ان چاروں مذاہب سے خارج ہو، وہ بدعتی اور دوزخی ہے۔(1)
[1] …۔ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، ج10،ص 589،مطبوعہ :دار الکتب العلمیہ ،بیروت۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع