30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو ہوتا نہىں منہ لگانے کے قابل
جب ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہمارے ہمدرد اور غمخوار ہیں تو پھر ہمیں کسی اور کے ہمدردی نہ کرنے کی کیا پروا!
جے سوہنا میرے دُکھ وِچ راضی
میں سکھ نوں چُلّھے پاواں
کیا نماز قضا ہو جانے سے اِعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ؟
سُوال : اگر دَورانِ اِعتکاف کسی کی نماز قضا ہو جائے تو کىا اس کا اِعتکاف ٹوٹ جائے گا؟
جواب : نماز چھوڑی تو واقعى سخت سے سخت گناہ کىا البتہ اس سے اِعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔ہاں! اگر کسی نے دَس دِن والےسنَّت اِعتکاف میں روزہ توڑا ىا کسی وجہ سے روزہ ٹوٹا ىا بىمارى کى وجہ سے روزہ توڑنا یا چھوڑنا پڑ گىا تو اِعتکاف ٹوٹ جائے گا۔([1])
تَراوىح کى جماعت فوت ہو جائے تو...؟
سُوال : اگر کسى کى تَراوىح کى جماعت فوت ہو جائے تو وہ کىا کرے ؟
جواب : بغىر جماعت کے اپنی پڑھ لے ۔
کیا لڑکے کی عمر لڑکی سے کم ہو تو شادی ہو سکتی ہے ؟
سُوال : لڑکے کى عمر 30اور لڑکى کى عمر 38سال ہو تو کىا یہ آپس مىں شادى کر سکتے ہىں؟
جواب : لڑکے کى عمر 30اور لڑکى کى عمر 38سال ہو تو ان کےآپس میں شادی کرنے میں کوئی حرج نہىں لیکن بہتر ىہ ہے کہ لڑکے کى عمر لڑکی سے بڑى ہو ۔بہرحال لڑکی کی عمر اگر زیادہ ہو تو شادى اور نکاح ہو جائے گا اور یہ ناجائز بھى نہىں ہے البتہ گھر چلنے مىں تھوڑی دُشوارى ہو سکتى ہے۔
مہمان کِن آداب کو پیشِ نظر رکھے؟
سُوال : ہمارے یہاں پاکستان میں اور باہر لوگوں کے گھر اتنے تنگ اور چھوٹے ہوتے ہىں کہ وہ ان میں صحیح طریقے سے اپنى فىملى کو بھى نہیں رکھ پا رہے ہوتے تو ایسے میں اگر کوئی مہمان بن کر جائے تو اُس کے لیے کیا آداب ہیں؟ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال )
جواب : بعض بے چاروں کے گھر اىسے ہوتے ہىں کہ مہمان کے آنے پر گھر کی خواتین بےچاری کچن میں رہتی ہیں اور جب تک مہمان رہتا ہے تکلیف میں ہوتی ہیں اس لىےمہمان موقع محل کو پیش ِ نظر رکھے اور اگر چھوٹا گھر ہو تو جلدى جلدى وہاں سے واپس چلا آئے بلکہ اگر بڑا گھر بھی ہو تو بعض اوقات گھر مىں کچھ نہ کچھ اىسے کام ہوتے ہىں کہ جو ہر اىک کے سامنے نہیں کیے جا سکتے ىا ویسے ہی مَصروفىت ہوتى ہے تو مہمان موقع کى مناسبت سے ہى ٹھہرے اور پڑا نہ رہے اور اس سلسلے میں سب کو اِحتیاط کرنی چاہیے ۔بہت پُرانى بات ہے کہ کسى نے مجھ سے یہ مسئلہ پوچھا تھا کہ ہمارے پىر صاحب کسی علاقے سے آتے ہىں اور ہمارے گھر آ کر ٹھہرتے ہىں جس سے ہمیں بہت تکلىف ہوتى ہے کیونکہ گھربڑا نہ ہونے کی وجہ سے پَردے کے مَسائل ہوتے ہیں تو کىا ہم پىر صاحب کو منع کر سکتے ہىں ؟ تو یوں پىر صاحبان اور امام صاحبان سب کو سامنے والے کا مُعاملہ دىکھ لىنا چاہىےکہ آىا اس کا گھر ىا وہ بےچارہ خود انہیں کفایت کر سکتا ہے یا نہیں ؟ کىونکہ آدمی اپنے گھر مىں تو روکھى سوکھى کھا لے گا مگر مہمان کو تھوڑا اچھا اور زىادہ مقدار مىں کھانا دىنا ہو گا جس سے اُس کا خرچ بڑھ جائے گا۔
مہمان کتنے دِن تک مہمان ہوتا ہے؟
سُوال : مہمان کتنے دِن تک مہمان ہوتا ہے؟(نگرانِ شُوریٰ کا سُوال )
جواب : مہمان تىن دِن تک مہمان ہوتا ہے([2]) اس کے بعد میزبان اسے کہہ سکتا ہے کہ آپ تشریف لے جائیں لیکن ظاہر ہے یہ بھی مہذب طرىقے سے کہنا ہو گا۔اِس حوالے سے ایک یادگار واقعہ اس وقت کا ہے جب شاید دعوتِ اسلامى نہىں بنی تھى ۔ کسى نے اپنے گھر مىں محفل رکھى ، ہم نے وہاں جا کر ذِکر و اَذکار شروع کیا تو اتنے میں گھر کا مَرد ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا : گھر والے کہہ رہے ہىں کہ نعتىں پڑھو۔ اب ہم نے نعتىں پڑھنی شروع کیں۔ کچھ دىر بعد وہ صاحب دوبارہ تشریف لائے اور کہنے لگے : گھر والے کہہ رہے ہىں : ”ہمیں سونا ہے۔“اب ہم وہاں سے جلدی جلدی رُخصت ہو گئے۔ جب اس نے کہا کہ گھر والے کہتے ہىں کہ نعتىں پڑھو تو ہم پُھول گئے کہ ان میں نعتیں سننے کا جَذبہ ہے چلو ہم نعتیں پڑھتے ہیں اور پھر تھوڑی دیر بعد ان کا یہ کہنا کہ ”ہمیں سونا ہے“یہ اَنداز جمنے والا نہیں تھا لىکن اس مَرد کے بچے نے ہم کو آکر بول ہی دىا۔بہرحال اگر مہمان کو گھر سے جانے کا کہنا ہو تو مہذب اَنداز اِختیار کیا جائے۔
جو مہمان میزبان پر بوجھ نہیں ہوتے وہ زیادہ وقت مہمان رہیں تو حرج نہیں
سُوال : بعض مہمان ایسے ہوتے ہیں کہ میزبان چاہتا ہے کہ یہ ہمارے یہاں زیادہ وقت مہمان رہیں توکیا اس صورت میں بھی زیادہ وقت مہمان بن کر رہنے میں کوئی حرج ہے ؟([3])
جواب : اگر کوئى اىسى ترکىب ہے کہ مہمان زىادہ دِن رہنے کے باوجود میزبان پر بوجھ نہىں بنتا جیسا کہ بعض مہمان اىسے ہوتے ہىں کہ جن کے پىچھے مىزبان لگے رہتے ہىں کہ آپ ہمارے ىہاں قىام کرىں تو پھر حرج نہیں۔ مجھے بھی یہ خوش فہمى ہے کہ کئى اىسے ہوں گے جو ىہ چاہتے ہیں کہ میں ان کے ىہاں مستقل مہمان بن جاؤں اور پڑا ہى رہوں بلکہ مىں کئى کئى ماہ تک بھی مہمان رہا ہوں تو یوں مہمان کو
[1] فیضانِ رمضان ، ص۲۶۸ مکتبۃا لمدینہ باب المدینہ کراچی
[2] بخاری، کتاب الادب، باب اکرام الضيف و خدمته اياه بنفسه، ۴/ ۱۳۶، حدیث : ۶۱۳۵ دار الکتب العلمیة بیروت
[3] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع