30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو پڑھتا رہے گا اللہ پاک اس پر منکر نکىر کے سُوالات آسان فرما دے گا۔([1])یہ آیتِ مُبارَکہ روزانہ کتنی بار پڑھنی ہے اس کی کوئی تعداد بیان نہیں ہوئی لہٰذا اگر کوئی ایک بار بھی پڑھے گا تو اللہ پاک اس پر رَحمت فرمائے گا اور اس کے لیے سُوالات میں آسانی ہو گی لہٰذا یہ آیتِ مُبارَکہ سب کو یاد کر لینی چاہیے اور روزانہ کم از کم اىک بار تو پڑھ ہى لینی چاہیے ۔
منکر نکىر کے سُوالات کے جوابات دینے کی کیفیت
سُوال : قبر مىں منکر نکىر کب تشرىف لاتے ہیں اور کىا ہم اُن کے سُوالات کے جوابات دینے کےلیے جسم کے ساتھ کھڑے ہوں گے ؟
جواب : کتابوں میں ىہ لکھا ہے کہ منکر نکیر مَیِّت کو جِھڑک کر بٹھائىں گے اور سخت لہجے مىں سُوالات کرىں گے ۔([2]) مَیِّت سے سُوالات ہونے کا پتا نہىں چلتا کہ کس وقت سُوالات ہوئے مثلاًکوئی دَریا میں ڈوب گیا یا کسی کو مار کر جنگل میں پھینک دیا اور وہ دَرندوں کے پیٹ میں چلا گیا تو وہی جگہ اس کی قبر ہے اور اس سے وہیں سُوالات و جوابات ہوں گے۔ یاد رَکھیے!مَیِّت کا بیٹھنا اور منکر نکیر کا اس سے سُوالات کرنا یہ سب بَرزخ او رپَردے کے مُعاملات ہیں جو ہمیں نظر نہیں آئیں گے مگر یہ ضَرورى نہىں کہ جو نظر نہ آئے اس کے وُجود کا اِنکار کر دىا جائے کہ ایسا کرنا تو دَہرىوں کا کام ہے۔ دیکھئے! اللہ پاک ہمیں نظر نہىں آتا لیکن ہم اِنکار نہیں کرتے بلکہ مانتے ہیں کہ اللہ پاک موجود ہے، حقىقت مىں اللہ پاک ہےاور واقعى اللہ پاک کا وُجود ہے تو کسى چىز کا نظر نہ آنا اس کے نہ ہونے کى دَلىل نہىں ہے۔
آپ کی مسکراہٹ کسی کی زندگی سنوار سکتی ہے
سُوال : اىک مسکراہٹ والا چہرہ سامنے والے کے کِردار ىا دِل و دماغ پر کس طرح کے اَثرات چھوڑ سکتا ہے؟(نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب : اگر کسی سے بات کرتے وقت مُنہ پُھولا ہوگا ىا غصے مىں بھرا ہوگا تو سامنے والے پر اس کا اچھا اثر نہىں پڑے گا۔ البتہ اگر بات گھمبىر ہو مثلاً کسى کى موت کا تَذکرہ ہو رہا ہے یا کسی ایسے مَریض کی عیادت ہو رہى ہے جس کی حالت تشویش ناک ہےتو ایسے موقع پر مُنہ کو گھمبیر کرنا سمجھ مىں آتا ہے لىکن ہر صورت مىں اىسا گھمبىر ہو جانا کہ سامنے والا ڈر جائے ىہ مناسب نہیں ۔ اکثریت کی مسکراہٹ کی عادت نہیں ہوتی۔ لنگرِ رضویہ تقسیم کرنے والوں کے متعلق میری خواہش ہوتى ہے کہ کاش ىہ مسکرا مسکرا کر تھال پىش کریں اور وُصول کریں، اگر کوئی تھال لینے کے لیے اپنا اُلٹا ہاتھ بڑھائے تو ىہ سىدھے ہاتھ مىں دیں۔ چلتے پھرتے نیچے گرے ہوئے دانے وغیرہ اُٹھواتے رہىں، نوالے چھوٹے کرواتے رہىں ۔اگر جگہ تنگ ہو تو مسکرا کر کشادہ کروائىں ۔اگر یہ سب چیزیں فقط باتوں کی حَد تک نہ ہوں اور مَدَنی ماحول میں عملی طور پر رائج ہو جائیں تو آپ کی دعوتِ اسلامی بادلوں مىں پَرواز کرتی ہوئی مدینے پہنچ جائے۔
(جانشینِ امىرِ اہلسنَّت نے فرمایا : ) امىر اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کى یہ عادت دىکھى ہے کہ جب بچے اُچھل کود کر رہے ہوتے ہىں تو آپ ان کو مسکرا کر روکتے ہىں۔اگر ہم سے بھى کوئى بھول ہوجاتى یا کوئى چىز سمجھانا ہو تی تو مسکرا کرہى فرماتے۔کسى کو مسکرا کر کسى چىز سے روکنا آسان ہے کہ اس سے سامنے والا رُک بھی جاتا ہے اور اسے محسوس بھی نہىں ہوتا۔مجھے ایک واقعہ ىاد آ رہا ہے کہ ایک بار ٹرین کے ذَریعے جب ہمارا قافلہ سکھر اِجتماع کے لیے روانہ ہوا تھا۔امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی اس ٹرین میں تھے۔ایک جگہ فجر کی نماز کی اَدائیگی کے بعد ٹرین ہلکی رفتار سے چل رہی تھی کہ ایک جگہ کچھ لڑکے ٹرىن پر پتھراؤ کر رہے تھے ۔میں گیٹ پر کھڑا تھا ، اب اگر پیچھے ہٹتا جب بھی پتھر لگتا لہٰذا میں نے مسکرا کر ان لڑکوں کو اِشارے سے پتھر مارنے سے منع کیا ۔ جس پر انہوں نے پتھر نیچے پھىنک دیئے اور مارنے سے باز رہے۔ ڈرائىونگ کے دَوران بھی تجربہ ہوتا ہے کہ اچانک سامنے سے گاڑی آجائے وہ اور آپ رُک جائىں۔ پھر آپ مسکرا کر اسے اِشارہ کریں کہ آپ چلے جائىں تو وہ بھی مسکرا کر کہے گا : نہیں !پہلے آپ چلے جائىں۔
(نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا : ) مجھے وہ منظر نہیں بھولتا جب مىں ىورپ مىں تھا ۔ وہاں سنَّتوں بھرے اِجتماع کے بعد ملاقات کا سلسلہ رہتا ۔ امىرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہمىں سمجھاتے رہتے ہىں کہ مسکرا کر ملو ! مسکرا کر ملو!لہٰذا میں اپنے طور پر پورى کوشش کرتا کہ مىں مسکرا کر ملوں۔ایک رات ىورپ کا اىک اجتماع تھا کہ امىرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کى کسى لمحے مىل آئى کہ عمران!اتنى دور سے اسلامى بھائى آتے ہىں اور لائن میں لگنے کے بعد آپ کے پاس ملاقات کے لىے پہنچتے ہىں، کم ازکم ان کے لیے مسکراہٹ کا حق تو بنتا ہے۔ مىں نے جواب دىا : باپا !مىں مسکراتا ہوں اور مسکراتے مسکراتے بعض اوقات گالوں میں دَرد شروع ہو جاتا ہے۔باپا نے فرماىا : ىہ بھى کم ہے ان کو اور مسکراہٹ دو ۔بہرحال میں نے اِس واقعے سے یہ سبق حاصل کیا کہ ایک ہے مجھے لگے کہ مىں مسکرا رہا ہوں لیکن اصل یہ ہے کہ سامنے والے کو بھی لگنا چاہىے کہ مىں مسکرا رہا ہوں ۔
اگر ملاقاتی کو کچھ نہ دے سکىں تو مسکراہٹ کا تحفہ ہى پىش کر دىجیے
(امىرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : )اگر ملاقاتی کو کچھ نہ دے سکىں تو مسکراہٹ کا تحفہ ہى پىش کر دىں ۔آپ کى مسکراہٹ کسى کى تقدىر بدل سکتى ہے۔ اگر 100 آدمى آپ سے ملاقات کے لیے آئے جن میں سے 99 کے سامنے آپ مسکرائے لیکن اىک سے ملاقات کے وقت کسى دوسرے سے باتوں مىں لگ گئے اور اس ملاقات کرنے والے کو ىوں روکھا سا ہاتھ دے دىا اور وہ ملا کر چلا گىا۔ہو سکتا ہے وہ آپ سے مُتأثر نہ ہو اور اللہ نہ کرے کہ کہىں آپ سے بَدظن ہو کر بدمذہبوں کی طرف نکل جائے اور اس کى نسلىں بَرباد ہو جائىں۔اِس لىے سب اسلامى بھائىوں کو بہت خىال رکھنا چاہىے اور ہر ایک سے مسکرا کر ملنا چاہیے کہ اس سے سامنے والے کى دِل جوئى ہو گى اور اگر نىت اچھى ہوئی تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ ثواب بھى ملے گا۔
کیا اُستاد بھی طلبا کے سامنے مسکراتا رہے؟
سُوال : ٹىچر ىا اُستاد کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ طلبا کے سامنے مسکرانے سے مىرا رُعب چلا جائے گا لہٰذا وہ مسکرانے میں کنجوسی کرتا ہے ، اِس حوالے سے کچھ مَدَنی پھول اِرشاد فرما دیجیے ۔
جواب : طالبِ عِلم کو ضَرورتاً آنکھىں بھى دِکھانا پڑتى ہىں۔ اگر ہر غَلَطی پر بچے کو مسکرا کر سمجھائىں گے تو وہ سمجھنے کے بجائے ہو سکتا ہے بے تکلف ہوکر عمامہ کھىنچ لے۔ یوں موقع کی مُناسبت سے اُستاد کو سنجیدہ بھی ہونا چاہیے ۔میری عادت میں جھاڑنا مارنا بالکل بھی نہىں ہے بلکہ بطورِ مُبالغہ کہوں تو مجھے مارنا آتا بھى نہىں ہے ۔اگر کبھی بچے تنگ بھى کرتے ہىں تو میں جھاڑتا نہیں ، ان کے والد کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع